پاکستان کے سعودی قرضے کو جے ایف 17 طیاروں کی ڈیل میں تبدیل کرنے پر مذاکرات

شائع January 8, 2026
ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔فوٹو: آئی ایس پ آر
ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔فوٹو: آئی ایس پ آر

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ایک ایسے وقت میں دفاعی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہیں جب شدید مالی دباؤ ہے اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکی وعدوں کے بارے میں بے یقینی کے پیش نظر اپنی سکیورٹی پارٹنرشپ کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط دوحہ میں حماس کے اہداف پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ہوئے تھے، یہ ایک ایسا حملہ تھا جس نے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود ہے جو کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پاکستان میں تیار ہونے والا جنگی طیارہ ہے جبکہ دوسرے ذرائع نے بتایا کہ زیر بحث دیگر اختیارات میں یہ طیارے بنیادی آپشن تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ کل سودا 4 ارب ڈالر کا تھا، جس میں قرض کی تبدیلی کے علاوہ سازوسامان پر اضافی 2 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ فوجی معاملات سے قریبی علم رکھنے والے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ اس سودے پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

سعودی میڈیا آؤٹ لیٹ ’سعودی نیوز 50‘ نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ پاکستان کے ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں تھے، جس میں ’دونوں فریقوں کے درمیان فوجی تعاون‘ پر بات چیت شامل تھی۔

جنگ میں آزمودہ

ریٹائرڈ ایئر مارشل اور تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے بات چیت کر رہا ہے یا سودے طے کر چکا ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے، لیکن وہ مذاکرات کی کسی تفصیل کی تصدیق نہیں کر سکے۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ جے ایف-17 کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ’یہ آزمایا ہوا ہے اور لڑائی میں استعمال ہو چکا ہے۔‘

فوج یا وزارت خزانہ اور دفاع نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا جبکہ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا آفس نے بھی جواب نہیں دیا۔

ستمبر میں دستخط کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے نے دونوں فریقوں کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کریں گے، جس سے دہائیوں پرانی سکیورٹی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔

پاکستان طویل عرصے سے سعودی مملکت کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، بشمول تربیت اور مشاورتی تعیناتی جبکہ سعودی عرب نے معاشی دباؤ کے دوران بارہا پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔ 2018 میں، ریاض نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، جس میں مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر کی رقم جمع کروانا اور موخر ادائیگی پر 3 ارب ڈالر کا تیل شامل تھا۔

سعودی عرب اس کے بعد سے متعدد بار رقوم کی واپسی کی مدت میں توسیع (رول اوور) کر چکا ہے، جس میں پچھلے سال 1.2 ارب ڈالر کی توسیع بھی شامل ہے، جس سے اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن کے دائمی دباؤ کے درمیان اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔

اسلحے کی فروخت میں تیزی

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی رسائی میں تیزی لایا ہے کیونکہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات کو بڑھانا اور اپنی مقامی دفاعی صنعت کو نفع بخش بنانا چاہتا ہے۔

گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی بنیادوں پر قائم ’لیبین نیشنل آرمی‘ کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کا سودا کیا، حکام نے بتایا کہ یہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی اسلحہ فروخت میں سے ایک ہے، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔

پاکستان نے جے ایف-17 کی ممکنہ فروخت پر بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے کیونکہ وہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے باہر اپنے ہتھیاروں کی فراہمی کے عزائم کو وسعت دے رہا ہے۔

منگل کو وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ہتھیاروں کی صنعت کی کامیابی ملک کے معاشی منظر نامے کو بدل سکتی ہے۔

خواجہ آصف نے جیو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے طیاروں کا تجربہ کیا جا چکا ہے، اور ہمیں اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ شاید چھ ماہ میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ضرورت نہ رہے۔‘

پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جو اس کا 24 واں پروگرام ہے، اس سے پہلے ایک مختصر مدت کے 3 ارب ڈالر کے معاہدے نے پاکستان کو 2023 میں ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد کی تھی۔ اس نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کی جانب سے مالی امداد اور ڈپازٹ رول اوور فراہم کرنے کے بعد فنڈ کی مدد حاصل کی تھی۔

1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 9 جنوری 2026
کارٹون : 8 جنوری 2026