ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کارروائی بھی ہوسکتی ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔
ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔
ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔
ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔
مفلوج شہر
تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔
مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔
اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔
ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔
ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔
تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔
تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔
ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔
ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔
صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔
ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔
رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ
امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔
رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔
انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔
لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔
یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔












لائیو ٹی وی