ملک میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید
محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید کر دی۔
محکمہ موسمیات پاکستان نے 16 سے 25 جنوری کے دوران ’شدید‘ یا ’ریکارڈ توڑ‘ سردی کی لہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جدید موسمیاتی ماڈلز اور زمینی مشاہدات کی بنیاد پر اس عرصے میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں، ملک بھر میں درجہ حرارت عام سردیوں کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے عوام، میڈیا اور تمام اداروں سے کہا ہے کہ وہ صرف سرکاری موسمی پیش گوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں تاکہ بلا وجہ خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔
درست معلومات کے لیے محکمہ موسمیات کے سرکاری ذرائع کو فالو کریں۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔
سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘

تاہم اس حوالے سے پاکستان میں موسمی پیش گوئی مرکز (نیشنل ویدر فارکاسٹنگ سینٹر) کے ڈائریکٹر عرفان ورک نے بتایا کہ ’پولر ورٹیکس تو ہمارے خطے میں ہوتا ہی نہیں بلکہ قطب شمالی میں ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پولر ورٹیکس امریکی اور یورپی علاقوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارا ملک جس خطے میں ہے وہاں پولر ورٹیکس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ قطب شمالی سے کچھ اوپر سرد ہوا کے ایک ماس (ذخیرے) کو پولر ورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 10 تا 50 کلومیٹر اوپر ہوتا ہے اور سطح زمین سے کئی میل اوپر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمزور ہو جائے تو ہوا جنوب کا رخ کر لیتی ہے اور ان علاقوں میں سردی بڑھ جاتی ہے۔












لائیو ٹی وی