بھارت کا 8 ماہ میں دوسرا خلائی مشن ناکام

شائع January 12, 2026
اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔ فوٹو: اسرو یوٹیوب چینل
اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔ فوٹو: اسرو یوٹیوب چینل

زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔

تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔

اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔

اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔

پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 26 فروری 2026
کارٹون : 25 فروری 2026