’کشمیر کی وادی ہماری ہے‘ چین نے شکسگام پر بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا

شائع 13 جنوری 2026 01:19pm
چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی، جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔ فوٹو: چینی وزارت خارجہ
چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی، جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔ فوٹو: چینی وزارت خارجہ

چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔

پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔

بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔

چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔

یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔

اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔

بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔

1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 13 جنوری 2026
کارٹون : 12 جنوری 2026