جی ایس پی کا درجہ ملنے سے پاکستانی برآمدات میں اضافے کا امکان

14 نومبر 2013

ای میل

پاکستان کو جی ایس پی کا درجہ ملنے سے برآمدات دو ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔ فائل تصویر
پاکستان کو جی ایس پی کا درجہ ملنے سے برآمدات دو ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔ فائل تصویر

اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جنرلائیزڈ سسٹم آف پریفرینسز(جی ایس پی) کا درجہ ملنے سے پاکستان کی سالانہ برآمدات بڑھ کر تقریباً 2 ارب ڈالرز ہو جانے کا امکان ہے اور توقع ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد یکم جنوری 2014ء سے یورپی ممالک کو پاکستانی برآمدات شروع ہو جائیں گی۔

 ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے جی ایس پی کا درجہ حاصل کرنے کیلئے تمام سفارتی اور دیگر ذرائع استعمال کئے جس کے نتیجہ میں یورپی کمیشن اور یورپی کمیٹی نے پاکستان کو جی ایس پی کا درجہ دینے کی سفارش کی۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں اضافہ کے سلسلہ میں امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کررہی ہے اور یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ امریکہ کی اوورسیز کوآپریٹو ڈویلپمنٹ کونسل اور انٹرنیشنل فنانس کوآپریشن پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کیلئے امن وامان ضروری ہے اور پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت نے پاکستان کو خود انحصار ملک بنانے کا عزم کررکھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کو گزشتہ حکومت کی طرف سے 9 ارب ڈالر کے قرضہ جات ورثہ میں ملے اور ملک کو رواں سال کے دوران 3 ارب ڈالر کی قسط ادا کرنا ہوگی۔

 پاک ایران گیس منصوبہ بارے انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ پر عمل درآمد کیلئے مالیاتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے پاکستان عنقریب 11 ویں بڑی اقتصادی قوت بن کر ابھرے گا ۔