کویتی الیکشن میں شیعہ اقلیت کی نمایاں کامیابی

02 دسمبر 2012

یکم دسمبر، دوہزاربارہ کو ایک کویتی شہری سالوا کے علاقے میں اپنا ووٹ ڈال رہی ہے۔ انتخابی قوانین میں تبدیلی کیخلاف سنی اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد شیعہ امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا اور غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ اے پی تصویر
یکم دسمبر، دوہزاربارہ کو ایک کویتی شہری سالوا کے علاقے میں اپنا ووٹ ڈال رہی ہے۔ انتخابی قوانین میں تبدیلی کیخلاف سنی اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد شیعہ امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا اور غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ اے پی تصویر

کویت سٹی: اتوار کے روز کویت میں ہونے والے انتخابات میں شیعہ اقلیت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔

پارلیمنٹ کی پچاس میں سے پندرہ سیٹوں پر شیعہ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جو ان کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

واضح رہے کہ شعیہ امیدواراوں نے سنی اپوزیشن کی جانب سے الیکشن قوانین کیخلاف بائیکاٹ کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا اور انتخابات میں بھرپور حصہ لیا تھا۔

کویت کی بارہ لاکھ آبادی میں کی تیس فیصد تعداد شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ دوہزار نو کے پارلیمانی انتخابات میں ان کی نو نشستیں مخصوص تھیں۔

نیشنل الیکشن کمیشن کے مطابق دوہزارنو کے انتخابات کے مطابق تین خواتین نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

سابق ممبر پارلیمنٹ جو اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں کہ بائیکاٹ کے بعد ایوان میں تیس نئے چہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے انتخابی قوانین میں یک طرفہ تبدیلی پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا اور اپنے بائیکاٹ کو نہایت کامیاب بھی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے ووٹروں کی بہت بڑی تعداد گھروں تک محدود رہی اور اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔ سابق رکن پارلیمنٹ خالد السلطان نے کہا کہ صرف چھبیس فیصد افراد نے ووٹ ڈالے ۔

تاہم وزارتِ اطلاعات کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ تقریباً اڑتیس فیصد افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے۔

ایک سیاسی تجزیہ کار محمد العجمی نے کہا ہے کہ (نیا) پارلیمنٹ بمشکل ہی اپنی مدت برقرار رکھ سکے گا اور ملک تناو کی جانب بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات اتنے بڑے بائیکاٹ کے بعد سیاسی عدم استحکام کی جانب بڑھے گا کیونکہ نیا پارلیمنٹ کویتی معاشرے کی بھرپور نمائیندگی نہیں کرتا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

حسین عبداللہ Dec 02, 2012 04:09pm
میرے خیال میں شیعہ سنی کے الفاظ کے ساتھ امت مسلمہ کی تقسیم بندی ٹھیک نہیں بلکہ بہتر ہے سیاسی جماعتوں کے نام سے پکارا جائے