بندوق، امریکا اور پاکستان

شائع December 19, 2012 اپ ڈیٹ December 19, 2012 12:32am

فائل فوٹو اے پی۔۔۔

اسلحے کی بہتات اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ مجرمانہ فعل ہی نہیں یا صرف یہ وہ رجحان ہی نہیں کہ جو دہشت گردی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ مسئلہ معاشرے کے بدلتے رویوں اور رجحانات کا عکاس ہے۔

اگر ہاتھوں میں بندوق ہو تو پھر اس بات کا غالب امکان ہوتا ہے کہ معاملہ دلائل کے بجائے صرف ایک دو گولیاں چلانے سے ہی طے ہوجائے گا۔

ایسے معاشرے کہ جہاں تفریح فراہم کرنے والے ٹی وی اسکرین پر مار دھاڑ اور گولیاں چلانے کے مناظر بچے بھی دیکھتے ہوں۔یہ کچے ذہنوں کو اپنے سحرمیں جکڑ لیتے ہیں۔ وہ بھی ہاتھوں میں پستول، بندوق تھام کر گولیاں چلاتا ہیرو بننا چاہتے ہیں۔

 بچوں کے اندر پنپتے اس طرح کی تصوراتی دنیا کے خیالات کے نتائج حقیقت میں نہایت بھاینک اور المناک ہوتے ہیں۔

اس رویے کی حالیہ بدترین مثال امریکا کے علاقت کنیکٹی کٹ کے ایک اسکول میں کی جانے والی فائرنگ کی صورت گزشتہ ہفتے سامنے آئی ہے۔

اس فائرنگ میں چھبیس انسان مارے گئے جن میں سے زیادہ تر کمسن طالب علم تھے۔ یہ اسکول میں بے رحمانہ قتلِ عام کی ایک بدترین لیکن واحد مثال نہیں۔

 ایسی ہی ایک مثال چند ماہ قبل ایک امریکی شاپنگ مال میں کی جانے والی فائرنگ کی شکل میں بھی سامنے آئی تھی۔ اس میں بھی متعدد لوگ مارے گئے تھے۔

امریکا کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہاں لوگوں کے پاس موجود اسلحہ ملکی آبادی سے دُگنا ہے۔ وہاں یہ دل دوز مثال اس بات کی مظہر ہے کانگریس قانون سازی کے ذریعے اسلحہ کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

امریکا میں اسلحے پر پابندی کی مخالف سب سے موثر لابی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن ہے، جو باآسانی دستیاب ہینڈ گنز پر پابندی کے لیے ہر کوشش کو پہلے سے ہی غیر موثر کردیتی ہے۔

امریکا میں اسلحے کی آزادانہ دستیابی پر روک لگانے کی سب سے پہلی موثر کوشش جیمز بریڈی نے کی تھی۔ یہ صدر رونالڈ ریگن کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے، وہ اُن پر سن اُنیّسو اکیاسی میں ہونے والے حملے میں زخمی بھی ہوئے تھے۔

امریکا میں بریڈی ہینڈ گنز وائلنس پری وینشن ایکٹ کے تحت چھوٹے اسلحے کی عوامی خرید و فروخت پر نظر رکھی جاتی ہے۔

پاکستان کے مسئلے کی نوعیت امریکا سے مختلف ہے۔ امریکا میں حکومت اسلحہ بنانے اور اسے فروخت کرنے والوں کے مکمل کوائف جانتی ہے۔ وہاں دوسری آئینی ترمیم کے تحت یہ کاروبار یکسر آئینی و قانونی ہے۔

لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں سب کچھ غیر قانونی طور پر ہورہا ہے۔

آئین کہتا ہے کہ صرف حکومت ہی مسلح فوج کا اختیار رکھتی ہے لیکن عملی طور پر صورتِ حال بالکل برعکس ہے۔ مجرمانہ گروہوں کے علاوہ درجنوں نجی مسلح ملیشیا موجود ہیں۔

ہمارے ہاں اسلحے پر کوئی عملی پابندی نہیں تو پھر کیا  کیا جائے، کیا ایسے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ڈان اخبار

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026