قومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر احتجاج

18 فروری 2013

ای میل

قومی اسمبلی کا ایک منظر فائل فوٹو۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن اراکین نے سانحہ کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام کو ملک کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔

ڈان نیوز کے مطابق پیر کے روزقومی اسمبلی کے  اجلاس میں معمول کی کاروائی روک کر امن وامان کی صورت حال پر بحث کی گئی، پاکستان پیپلز پارٹی کے بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی ناصر علی شاہ نے کہا کہ ریاستی ادارے ہزارہ برادری کا تحفظ دینے میں نا کام ہوچکے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ حکومت کی بھی کوئی کارکردگی نہیں ہے ہم کس کے پاس جائیں اس اسمبلی نے بھی کچھ نہیں کیا۔ ناصرعلی شاہ نے ہزارہ ٹاؤن بم دھماکے کے خلاف اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا۔

اجلاس میں ندیم افضل چن نے کہا کہ ہمیں خونی الیکشن کی ضرورت نہیں ہے اور سیاست پر دو سال کی پابندی لگا دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف نے اختیارات لینے کی کوشش کی  ان کا کیا انجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لولے لنگڑے اقتدار سے جان چھڑا لینی چاہیے۔

انہوں نے مذید کہا کہ حکومت سے زیادہ اس ملک کا مولوی با اختیار ہے۔  سیاستدانوں کو ریٹائرمنٹ لے لینی چایے۔ ہم یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ دن دہاڑے بارود سے بھرا ٹرک کوئٹہ میں کیسے داخل ہوگیا۔

شیخ وقاص اکرم نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور تقریروں کا وقت گزر چکا ہے جو ہماری عورتوں اور بچوں کو مار رہے ہیں انہیں کچل دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ میں کالعدم تنظیمیں ملوث ہیں۔ پنجاب پولیس کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

اجلاس میں انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ جیل میں اڑسٹھ دہشتگرد گرفتار ہیں، ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ کو گرفتار کیا گیا لیکن عدالتوں نے رہائی دیدی۔

مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ مسئلہ بلوچستان کا گورنر راج حل نہیں ہے۔

مسلم لیگ ق کے ریاض پیرزادہ نے کہا کہ عوام کہاں جائیں کیونکہ معاشرہ ختم ہوگیا ہے۔ سیاست دان دہشت گردی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ دھرنے دینے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی، کیا لوگوں کا خون اتنا سستا ہے۔

ریاض پیرزادہ نے کہا کہ  حکومت سمیت تمام اداروں کے سربراہ مستعفی ہوجائیں۔

شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ پانچ سال میں جو بینظیر کے قاتل گرفتار نہیں کر سکے وہ ہزارہ برادری کو کیا انصاف دینگے۔ حکومت بے حس ہو چکی ہے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس کل گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔