کراچی کے جزیرے

21 مارچ 2013

ای میل

فائل فوٹو۔۔۔۔

کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے مبینہ اربوں ڈالر پر مشتمل تعمیراتی منصوبے کے مضحکہ خیز موڑ کے پیچھے کچھ ایسے سوالات بھی موجود ہیں جو قطعی مضحکہ خیز نہیں۔

کراچی میں ابو ظہبی کی کمپنی کے ذریعے پینتالیس ارب ڈالر کی اُس سرمایہ کاری پر بزنس مین ریاض ملک کی بھویں تنی ہوئی تھیں، جس کی جھولی میں چند چھیدوں کے سوا کچھ نہ تھا۔

تو اُس وقت بھی یہ آسان نہیں تھا اور اب جب کہ ایک اور غیر ملکی سرمایہ کار سامنے لائے گئے، تب بھی یہ شبہ سے بالا تر نہیں۔ اس بار جو سرمایہ کار سامنے آئے وہ جرمن ہیں مگر براستہ میامی پہنچے۔

انہوں نے فخر سے اعلان کیا کہ کراچی میں دو جزائر کو ڈویلپ کر کے شہر بسانے کے علاوہ، دنیا کی بُلند ترین عمارت اور ایک شاپنگ مال بھی تعمیر ہوگا۔ منصوبے پر، ابتدائی طور پر بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ہم ان سوالوں کو تو ایک طرف رکھتے ہیں کہ ایک ایسے شہر میں جو امن و امان کی بدترین صورتِ حال سے دوچار ہے اور سیاح وہاں کا رخ نہیں کرتے، لہٰذا ایسے میں کس طرح اتنے بڑے پیمانے پر ترقیاتی سرگرمی مستحکم رہ سکتی ہے۔

یہاں اس کے علاوہ، مزید پریشان کُن سوال کھڑا ہے جو اُس بارہ ہزار ایکڑ زمین کے حوالے سے ہے، جس پر بحریہ ٹاؤن تعمیرات کے لیے دعویدار بن رہا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پورٹ قاسم اتھارٹی نے ترقیاتی معاہدہ کرتے ہوئے نیلامی کے ضروری طریقہ کار کو نہیں اپنایا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ عوامی خریداری (پبلک پروکیورمنٹ) کے قواعد و ضوابط کی پابندی کیے بنا بحریہ ٹاؤن سے معاہدہ نہ کیا جائے۔

ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل اورقومی احتساب بیورو کے مختلف جانبدار رویے ایک طرف، یقیناً اس معاملے پر شکوک و شبہات موجود ہیں۔

ضروری ہے کہ بحریہ ٹاؤن جیسی ایک ایسی بڑی تعمیراتی کمپنی جس کے خلاف متعدد مقدمات پہلے ہی زیرِ سماعت ہیں، اسے اتنی بڑی زمین دیے جانے کے معاملے کی گہرائی سے چھان بین کرنے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا اس معاملے میں واقعی قواعد کے تحت نیلامی کا لازمی شفاف طریقہ کار اپنایا بھی گیا یا نہیں۔

ابھی حال ہی میں فشر فوک فورم کے احتجاج سے مسئلے کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ اُن لوگوں کو کیا معاوضہ ادا کیا جائے گا، جو اپنے معاش کے لیے ان جزائر پر انحصار کرتے ہیں؟

اور جیسا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے بعض قانون سازوں نے بھی کہا کہ یہ اب تک غیر واضح ہے کہ اس سارے معاملے میں حکومتِ سندھ کا کیا کردار ہے۔

ایسے میں کہ جب حکومت تبدیل ہورہی ہو، تب بحریہ ٹاؤن کا اتنے دلکش منصوبے اور آسمان چھولینے والی اتنی بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ سامنے آنے کا وقت نہیں، جس سے اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا۔

تاہم بات جو بھی ہو، اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوسکتا کہ علاقے کی عوام اور مقامی حکومت کی مرضی کے بغیر زمین کا اتنا بڑا رقبہ مشکوک سرمایہ کاروں کے حوالے کردیا جائے۔