بدترین دورحکومت؟

ای میل

فائل فوٹو --.
فائل فوٹو --.

پی پی پی کی گزشتہ حکومت کو اکثرو بیشتربدترین حکومت کہا جاتا ہے - بعض لوگ تو اس قسم کے تجزیوں کومحض پی پی پی کو برا بھلا کہنے کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت غیر معمولی طور پر نااہل تھی اور انھیں وجوہات کی بنا پرجمہوریت کو پاکستان جیسے ملک کے لئے موزوں نہں سمجھتے-

حقیقت بھی یہی ہے کہ پی پی پی کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے - تاہم اس بات پر اصرار کہ اس کی حکومت اس قدر ناقص تھی کہ ماورائے قانون اقدامات کا لیا جانا جائز ہوتا ، اصل حقیقت سے کوئی نسبت نہیں رکھتا اور مبالغہ آمیز ہے -

بہت سوں کا یہ کہنا ہے کہ پی پی پی نے معیشت کو تباہ و برباد کردیا -

پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اس نے جو قرضے لئے وہ پچھلی تمام حکومتوں کے مجموعی قرضوں سے بھی زیادہ ہیں - اس قسم کا موازنہ کرنا سنسنی خیز ، گمراہ کن اور بےمعنی ہے-

سب سے پہلی بات تو یہ کہ قرضوں کی قدرو قیمت وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتی ہے کیونکہ 1947 کے بعد سے دیکھا جائے تو افراط زر کی وجہ سے روپے کی قدرو قیمت بہت زیادہ گھٹ گئی ہے - 1950 میں لیا جانے والا ایک معمولی قرضہ آج حقیقی معنوں میں کئی گنا بڑھ چکا ہے - دوسرے یہ کہ ، جیسے جیسے معیشت کا حجم بڑھتا جاتا ہے اس کے مطابق اس کے قرض لینے کی اہلیت بڑھتی جاتی ہے لہٰذا اس قسم کا موازنہ کرنے والوں کو ایک برا ماہرمعاشیات یا پھرایک اچھا سیاستدان کہا جا سکتا ہے -

اچھے ماہرین معاشیات قرضوں کے تناسب کا موازنہ مدّت کے لحاظ سے کرتے ہیں مثلا سالانہ قرضوں کے واجبات کی ادائیگی ، برآمدات اور ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے تقابل سے کیا جاتا ہے - عالمی بینک کے اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی اوربرآمدات کا تناسب 2006 میں 10 فی صد اور2010 میں 15 فی صد گھٹ گیا تھا لیکن 2011 میں 9 فی صد بڑھ گیا لیکن مشرف اور ضیاء کے دورحکومت میں یہ اس سے بھی بدتر تھا (26 سے لیکر 40 فی صد) -

پاکستان اکنامک سروے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری قرضوں - سرکاری آمدنی کا تناسب 2006 میں 404 فی صد تھا جو 2011 میں 474 فی صد اور بہتر ہوکر 419 فی صد ہوگیا - مشرف کے دور حکومت میں کسی وقت یہ 589 فی صد کی سطح پر پہنچ گیا تھا -

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ 2008 سے 2013 کے درمیان پاکستان کی جی ڈی پی کی ترقی کی سطح کم ترین تھی - عالمی بینک کے اعداد وشمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ہم 2008 سے 2013 کی مدت کے دوران کے ایک درجن اہم اشاریوں کو پیش نظر رکھیں تو حکومت کی کارکردگی بدترین رہی - لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کو بدترین بیرونی خطرات کا سامنا تھا اور اسکے ساتھ ساتھ 1929 کے بعد عالمی کساد بازاری اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکی تھی اور ملک کو قومی سطح پرآزادی کے بعد سے خوفناک ترین سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا -

کیا اس کے باوجود بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ 2008 سے 2013 کے درمیان حکومت کی کارکردگی بدترین رہی اور یہ اتنی بدترین تھی کہ ماورائے قانون اقدامات جائز ہوتے ، اوراس صورت میں ان عوامل کے اثرات پر قابو پا لیا جاتا ؟ اس بات کا تعین کرنے کیلئے سخت ترین معاشی تجزیے درکارہیں جو بدقسمتی سے دستیاب نہیں ہیں - چنانچہ کسی نتیجے پر پہنچنا تقریباً ناممکن ہے -

ناقدین کا دعویٰ ہے کہ یہ پاکستان کی سب سے زیادہ بدعنوان حکومت تھی اور ثبوت کے طور پر وہ 2008 کے بعد ہونے والی بدحالی کو ظاہر کرنے کیلئے بدعنوانیوں کے تعلق سے ٹرانسپیرنسی کے اشاریوں کا حوالہ دیتے ہیں - لیکن جوابا یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانیوں کا اشاریہ اس لئے بڑھ گیا کیونکہ دیگر ممالک میں بدعنوانیوں کے ادراک میں کمی ہوئی تھی -

پاکستان میں بدعنوانیوں کے رجحانات کا اندازہ ایک خاص مدّت میں خود اس کے اشاریوں کے مطابق کیا جانا چاہئے ، جسکی طرف صحافی شاذونادرہی توجہ دیتے ہیں - پاکستان میں بدعنوانیوں کی شرح 1999 سے ( دس میں سے 1. 2 سے 6 . 2 ) رہی ہے -

سب سے زیادہ بدعنوانیان مشرف کے دور حکومت میں ہوئیں - میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2008 کے بعد بدعنوانیوں میں تیزرفتاری سے اضافہ ہوا لیکن کسی کو عدالت سے سزا نہیں ہوئی ، اس لئے اس پر محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا - میڈیا نے شورمچایا ، ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ کے مطابق 2008 کے بعد 18 ٹریلین روپے کی بدعنوانیاں ہوئیں - لیکن اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوگا کہ اس میں جو قابل اعتراض مواد شامل کیا گیا اسے بدعنوانی نہیں بلکہ ناقص کارکردگی کہا جا سکتا ہے -

ہمیں اکثر یہ دعوے سنائی دیتے ہیں کہ بدامنی کی صورت حال میں زیادہ اضافہ ہوا - لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ مشرف کے دور میں طالبان اسلام آباد تک پہنچ گئے تھے بلکہ اگر لال مسجد کے واقعہ کو لیا جائے تو یہ اسلام آباد کے اندر تک پہنچ چکے تھے -

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے مطابق 2009 سے 2010 کے بعد خودکش حملوں / اموات میں کمی ہوئی ہے - مشرف دور کے برعکس آج بلوچ قوم پرست انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں - تاہم حالیہ دنوں میں کراچی میں پر تشدد واقعات ، فرقہ وارانہ حملوں اور جرائم میں اضافہ ہوا ہے - مختصر یہ کہ پی پی پی کی کارکردگی بہت سی سمتوں میں بدترین رہی ہے - لیکن سابقہ حکومتوں سے موازنہ کیا جائے تو نازک ترین حالات کے باوجود اس کی کارکردگی بہتر رہی ہے -

بہت سے اہم فوری مسائل ( توانائی کا مسئلہ ، افراط زر اور بدامنی ) مشرف کے دور حکومت سے ورثے میں ملے تھے -

اگرچہ کہ یہ مسائل اسے ورثے میں ملے تھے وہ انھیں حل کر سکتی تھی - لیکن اس کے برعکس اس نے معاملات اور بھی بگاڑ دئے - مثلاً مسلسل جاری رہنے والے افراط زر کے اثرات کوکم کرنے کیلئے ایسے ٹیکس لگائے جاتے جن سے غریبوں کو فائدہ پہنچتا ، بلوچستان میں قبل از وقت شفاف انتخابات کروائے جاتے اور عسکریت پسندوں کے ساتھ قوت کے ساتھ نمٹا جاتا - لیکن غیر جمہوری دور حکومت کے ساتھ اس قسم کا موازنہ اسی وقت جائز ہوگا جبکہ ہم جمہوریت کی خوبیوں کا موازنہ غیر جمہوری حکومتوں کی خامیوں سے کریں -

سب سے بڑھ کر تو یہ کہ اس غیر معمولی نااہلیت کے کوئی شواہد نہیں ملتے جن کی بنا پرماورائے قانون اقدامات کو جائز قرار دیا جاتا - غیر معمولی نااہلیت کیسی ہوتی ہے اس کیلئے ایک مختصر سا عالمی جائزہ لینا کافی ہوگا -

1990 کی شورشوں کے نتیجے میں لائیبریا ، روانڈا اور صومالیہ کی حکومتوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا - زمبابوے میں حالیہ عرصے میں افراط زرٹریلین فی صد تک پہنچ گیا ( اس کے مقابلے میں مشرف کے دور حکومت میں افراط زر کی بلند ترین سطح 20 فی صد سے کچھ زیادہ تھی ) ارجنٹینا اورانڈونیشیا کی جی ڈی پی میں دو برسوں کے دوران 25 سے لیکر 50 فی صد کی کمی ہوئی ہے - پاکستان میں 2008 سے 2013 کے دوران ترقی کی شرح مثبت رہی -

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے ممالک اب آمریت کے بجائے جمہوریت کی راہ پر گامزن ہیں - ان کے مقابلے میں پاکستان کی بہتر کارکردگی کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستان کو آمریت کی جانب گامزن ہونا چاہئے احمقانہ بات ہے -

اب دیگر نظریاتی مسائل کی طرف نظر ڈالئے - اختیارات کی تقسیم ، صدارتی اختیارات میں کمی ، ایک آزاد الیکشن اور عدلیہ کا قیام اہم جمہوری پیش قدمیوں کی مثال ہے - جب کہ قرضوں کا تقابلی جائزہ جس کا اوپرذکرہے، بے معنی ہے - ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں مجموعی طور پر دیگر تمام سابقہ ادوار کے مقابلے میں جمہوریت کی جانب زیادہ پیش قدمی ہوئی ہے -

ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ان تمام سابقہ ادوار میں وہ تیس سال بھی شامل ہیں جس میں تین آمروں نے " حقیقی " جمہوریت کے وعدے کئے -

اس پیش قدمی کا سہرہ پارلیمنٹ میں ان کے تناسب کے لحاظ سے تمام اہم پارٹیوں کے سر جاتا ہے -

بہت سے لوگ ان تمام پیش قدمیوں کو اس وجہ سے بے سونچے سمجھے مسترد کر دیتے ہیں کہ بہت سے فوری مسائل حل نہ کئے گئے -

اگر یہ بات ان لوگوں کی جانب سے کہی جائے جو 2008 سے 2013 کے دوران شدید مشکلات کا شکار رہے مثلا 25 فی صد غربت کے شکار خاندان یا ہزارہ کمیونٹی ، تو بات پھر بھی سمجھ میں آسکتی ہے - لیکن اکثریت کا یہ کہنا جو ان مشکلات سے محفوظ رہے خاص طور پر وہ لوگ جو ناخواندہ لوگوں کے برعکس دوراندیشی کا دعویٰ کرتے ہیں اپنی حد سے زیادہ کوتاہ بینی کا مظاہرہ کرتے ہیں -

ان پیش قدمیوں کا نتیجہ یقیناً اچھی حکمرانی کا حصول ہوگا - جو موثر طور پر فوری مسائل کو حل کرنے کے قابل ہوگی -

انتخابی نتائج کا انحصار فوری طور پر اچھی کارکردگی یا دانستہ مبالغہ آمیزی کی بنیاد پر ہی ہوگا - پی پی پی کی موجودہ ناقص کارکردگی اور مبالغہ آمیز دعووں کوبے نقاب کرنے میں اس کی ناکامی کے پیش نظر یہ بات نہ تو تعجب خیز ہے اور نہ ہی ناروا ہوگی کہ رائے دہندگان مئی میں تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیں- لیکن یہ جمہوریت کی موت نہیں بلکہ اس کی نئی زندگی کا پیش خیمہ ہوگی .


 ترجمہ: سیدہ صالحہ