بدترین گرمیاں اور لوڈ شیڈنگ

19 اپريل 2013

ای میل

فائل فوٹو  --.
فائل فوٹو --.

"کل کا دن انتہائی بیکار گزرا بجلی فقط ڈیڑھ گھنٹے کے لئے آئ، رات اس سے بھی زیادہ بری گزری، بجلی ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے آتی جاتی رہی اور رات کے ایک بڑے حصّے کوئی صبح 3 سے 6 بجے تک تو بجلی تھی ہی نہیں اور آج بھی صبح 10 بجے سے بجلی کا نام و نشان نہیں ہے حالات کسی طور سے بہتر ہوتے نظر نہیں آرہے"، یہ الفاظ لاہور میں رہنے والے ایک دوست نے فیس بک پہ لکھے تھے.

گرمی دن بہ دن بڑھ رہی ہے جب کے یہ گرمیوں کا صرف آغاز ہے ساتھ ہی ساتھ بجلی کا بحران بھی بڑھتا جا رہا ہے. پاکستان کے بڑے شہروں جیسے لاہور میں بجلی روزانہ چودہ سے سترہ گھنٹے تک غائب رہتی ہے. ایسے حالات میں کسی بھی قسم کا پیداواری کام ہونا نا ممکن ہے.

آپ کو یہ پتہ ہے نہیں ہوتا کہ بجلی کب تک رہے گی لہذا نہ آپ اپنے فون چارج کر سکتے ہیں نہ ہی کمپیوٹر. پانی کا بحران ایک معمول بن گیا ہے. ان حالات میں کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں.

چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں تو حالات اس سے بھی برے ہیں. پچھلے کچھ سالوں سے کاروبار اور گھریلو استعمال کے لئے لوگوں نے یو پی ایس سسٹم لگا لئے تاکہ کچھ بنیادی ضروری کام کیے جا سکیں اور ان کو اس گرمی میں پنکھے اور روشنی میسّر آسکے. لیکن اگر بجلی روزانہ چودہ سے سترہ گھنٹے مسلسل غائب رہے گی تو یو پی ایس بالکل ہی بیکار ہو جایئں گے کیوں کہ انکو چارج ہونے کا موقع ہی نہیں ملے گا. ایسے حالات میں عوام کو بجلی کے بغیر ایک طویل گرمی کا موسم گزارنے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے.

بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں اور دفتروں میں گیس یا تیل سے چلنے والے جنریٹر لگا لئے ہیں. بعض بڑے جنریٹر سے اے سی باسانی چل سکتا ہے، اور چھوٹے جنریٹر بجلی کے آلات اور یو پی ایس چارج کر سکتے ہیں. لیکن جنریٹر کافی مہنگے پڑتے ہیں خاص طور سے تیل سے چلنے والے بڑے جنریٹر، ان کو چلانے میں 500 سے 700 روپے فی گھنٹہ لاگت آتی ہے. اگر ایسے جنریٹر کو 20 گھنٹے چلایا جاۓ تو کم از کم 10000 سے 14000 تک کا خرچ آتا ہے.

صاف ظاہر ہے کہ یہ سہولت غریب یا متوسط طبقے کے لئے نہیں ہے. جہاں تک کاروباری حلقے کا تعلق ہے یہ حل وہ اسی صورت میں اختیار کر سکتے ہیں اگر جنریٹر کا خرچہ، پیداواری لاگت اور منافع میں ضم ہو سکے.

زیادہ تر متوسط گھرانےاور کاروبار چھوٹے یا گیس سے چلنے والے جنریٹر استعمال کرتے ہیں وہ بھی اس صورت میں اگر گرمیوں میں گیس کی سپلائی ہوتی رہی. پھر بھی یہ طریقہ پانی اور بجلی کے ریٹس سے زیادہ مہنگا ہے.

بجلی کے بحران سے جتنا زیادہ گھریلو ماحول متاثر ہو رہا ہے اس سے بھی زیادہ پاکستان کو یہ بحران مہنگا پڑ رہا ہے. لوگوں کو ایندھن کے لئے زیادہ قیمت دینی پڑتی ہے. اگر ایندھن درآمد کیا جاۓ گا تو زر مبادلہ کی ضرورت بھی بڑھے گی. جنریٹر پی سرمایہ لگانا کوئی چھوٹا یا معمولی خرچہ نہیں ہے. اس حوالے سے چھوٹے کاروبار خسارے میں رہتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا کے وہ ایسی سرمایہ کاری کر سکیں، نہ ہی وہ بڑے جنریٹر خرید سکتے ہیں جو کہ زیادہ کارآمد ہیں.

اگر یہ کاروبار جنریٹر میں سرمایہ کاری کر لیتے ہیں تو ان کے پاس اتنا سرمایا نہیں بچتا کہ وہ اپنے کاروبار کو بڑھا سکیں ور زیادہ منافع کما سکیں. غریب عوام کے لئے تو ایسی منجمد سرمایہ کاری قطعی نا قابل عمل ہے.

نہ صرف یہ بلکہ جنریٹر قومی بجلی کی پیداوار کے لئے ایک غیر مؤثر متبادل راستہ ہیں- اگرچہ بجلی کی پیداوار میں اقتصادی فوائد کی کافی گنجائش ہے لیکن چھوٹی چھوٹی کئی اکائیوں میں تقسیم ہوجانے کی وجہ سے یہ کم کارآمد اور اپنی لاگت کی نسبت کم سودمند ثابت ہو رہے ہیں-

اگر ہم آیندہ سالوں میں ملکی ضرورت کے مطابق بجلی بنانے کے قابل ہو بھی جاتے ہیں تو آج کی جانے والی سرمایہ کاری جو کہ منجمد شکل میں ہے بیکار ہو جاۓ گی-

یہاں ہمیں پورے ملک میں پھیلے ہوئے جنریٹروں کی وجہ سے ماحول پہ ہونے والے اثرات کا ذکر بھی کرنا ضروری ہے- ایک اور دوست کے فیس بک سٹیٹس کے مطابق، "لاہور میں رات بھر نجی جنریٹروں کا شور ناقابل برداشت ہے"-

یہ حقیقت فقط لاہور کی ہی نہیں پورے پاکستان کی ہے ساتھ ہی ساتھ وہ دھواں جو ان جنریٹر سے نکلتا ہے- خاص طور سے ڈیزل سے چلنے والے جنریٹر سے جو دھواں نکلتا ہے وہ پاس پڑوس میں کسی کالے بادل کی طرح چھایا رہتا ہے- گیس جنریٹر سے بھی دھواں برآمد ہوتا ہے اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس آلودگی کا لوگوں کی صحت پہ کیا اثر پڑے گا- کیا لوگوں میں سانس کے امراض پیدا نہیں ہوں گے؟ خاص طور سے کینسر جبکہ اس آلودہ دھوئیں میں کینسر پیدا کرنے والے زہر ہوتے ہیں-

لیکن لوگ بھی کیا کر سکتے ہیں، پچھلی حکومت بجلی کے بحران کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے- ہمیں زیادہ بجلی بنانے کی ضرورت ہے جو کہ پانی کے ذریے تیار ہو اور یہ ایک طویل مدّت منصوبہ ہے-

اس دوران یہ ضروری ہے کہ بجلی کے نرخ اور فراہمی کے حوالے سے کچھ اصلاحات کی جایئں جس میں زرعی اور صنعتی صارفین کو پہلی، کمرشل صارفین کو دوسری اور آخر میں گھریلو صارفین کو ترجیح دی جاۓ-

وہ گھریلو صارفین جو کہ بڑے جنریٹر استعمال کر رہے ہیں ان پہ ٹیکس لگایا جاۓ- لیکن یہ اصلاحات کسی بھی قسم کی ترجیح یا انفرادیت کے بغیر کی جائیں، یعنی کہ صاحب حیثیت اور سیاستداں حضرات کو بھی لوڈ شیڈنگ کا اتنا ہی سامنا کرنا ہو جتنا پاکستان کے ایک گاؤں میں رہنے والے صارف کو کرنا پڑتا ہے- کیا نئی حکومت میں اتنی صلاحیت ہوگی کہ وہ صحیح اقدامات کر سکیں؟


مصنف اوپن سوسائٹی پاکستان کے سینئر ایڈوائزر، لمس یونیورسٹی میں اکنامکس کے اسوسیٹ پروفیسر، اور آئیڈیاز لاہور کے وزٹنگ فیلو ہیں.

 ترجمہ: ناہید اسرار