عبیداللہ کیہر
آسیب کہانیاں – دسویں اور آخری قسط

آسیب کہانیاں – دسویں اور آخری قسط

حیرت کی بات یہ تھی کا گھر کا بیرونی آہنی گیٹ بند تھا۔ تو پھر اس بند مین گیٹ سے اندر آکر لکڑی کا دروازہ کوئی کیسے کھٹکھٹا سکتا ہے؟ شائع 27 مئ 2020 05:57pm
آسیب کہانیاں - نویں قسط

آسیب کہانیاں - نویں قسط

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوا؟ ابھی چند منٹ پہلےہی تو میں نےاپنی کھلی آنکھوں سے اس خونخوار بڈھے کو دیکھا تھا شائع 07 مئ 2020 04:57pm
آسیب کہانیاں - آٹھویں قسط

آسیب کہانیاں - آٹھویں قسط

'کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور اس کےبیچ ایک بوڑھی سی عورت سرجھکائے کھڑی فرش کوگھور رہی تھی۔ یاالٰہی، یہ عورت کہاں سے آگئی؟ شائع 21 مارچ 2020 07:29pm
آسیب کہانیاں - ساتویں قسط

آسیب کہانیاں - ساتویں قسط

میں نے جو منظر دیکھا وہ بے ہوشی کے لیے کافی تھا۔ بوڑھی عورت کا سر کچھ اس طرح گول گول گھوم رہا تھا جیسے وہ کوئی فٹ بال ہو اپ ڈیٹ 14 مارچ 2020 11:34am
آسیب کہانیاں - چھٹی قسط

آسیب کہانیاں - چھٹی قسط

اب چیخ و پکار میں مردانہ آواز کیساتھ نسوانی آواز بھی شامل تھی اور یہ شور رفتہ رفتہ ہمارےریسٹ ہاؤس کے قریب آتا جارہا تھا۔ اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020 02:01pm
آسیب کہانیاں - پانچویں قسط

آسیب کہانیاں - پانچویں قسط

تھوڑی دیر بعد پھر آہٹیں آنا شروع ہوگئیں۔ مگر اب میں اپنی جگہ سے نہیں اٹھا، بلکہ سر کو بھی آوازوں کی طرف نہیں گھمایا۔ شائع 20 جنوری 2020 05:56pm
آسیب کہانیاں - چوتھی قسط

آسیب کہانیاں - چوتھی قسط

10 منٹ پہلے تو وہ باجی خون ٹپکاتے ہوئے آپ کے گھر میں گئی ہیں اور آپ کہتے ہیں اندر کوئی لڑکی نہیں ہے۔ وہ کدھر چلی گئیں؟‘ شائع 06 جنوری 2020 03:17pm
آسیب کہانیاں - تیسری قسط

آسیب کہانیاں - تیسری قسط

’بھائی مچھلی، مرغی، گوشت جو بھی کھلانا ہے جلدی سے کھلا دیں۔ میں عصر اور مغرب کے درمیان یہاں سے نکل جانا چاہوں گا۔‘ شائع 21 دسمبر 2019 02:02pm
آسیب کہانیاں - دوسری قسط

آسیب کہانیاں - دوسری قسط

’یار ویسے یہاں چند سال پہلے ہمارے سامنے ایک دردناک واقعہ ضرور پیش آیا تھا‘۔ شائع 02 دسمبر 2019 04:07pm
آسیب کہانیاں - پہلی قسط

آسیب کہانیاں - پہلی قسط

زندگی میں ایسی کئی غیر مرئی چیزوں کا مشاہدہ ہوا جنہیں اگر بیان کیا جائے تو دوسرے اپنی جگہ خود کو بھی یقین نہ آئے۔ اپ ڈیٹ 29 نومبر 2019 12:07pm