کاپی پیسٹ کی روایت پہنچی سی ایس ایس کے امتحانی پرچے تک

22 مارچ 2014

ای میل

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی عمارت کا ایک منظر۔ —. فوٹو اوپن سورس میڈیا
فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی عمارت کا ایک منظر۔ —. فوٹو اوپن سورس میڈیا

اسلام آباد: اگرچہ ہائر ایجوکیشن کمیشن 2006ء سے اساتذہ اور طلباء کے علمی سرقے کے دوسو سے زائدکیسز کی تحقیقات کررہا ہے، یہ بات انتہائی تعجب خیز ہے کہ ایسے پروفیسرز جو مقابلے کے امتحانات کے پیپرز تیار کرتے ہیں، وہ بھی اس ’کاپی پیسٹنگ‘ میں ملؤث ہیں۔

یہ بات علم میں آئی ہے کہ سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کے امتحانات جو فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے تحت لیے جاتے ہیں،میں ایک سوال انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (آئی آئی یو آئی) کے داخلے کے ٹیسٹ پیپر سے لیا گیا تھا۔

ایک یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر جنہوں نے سی ایس ایس کے امتحانات میں اس سول کی نشاندہی کی، نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ جرنلزم کے ایک اختیاری سبجیکٹ کا پیپر تھا جو 18 فروری 2014ء کو لیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’’جب مجھے یہ گمان ہوا تو میں نے سی ایس ایس کے امتحانی سوالات کا پرچہ دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی ہی نظر میں، میں نے یہ محسوس کیا کہ میں سوال نمبر سات کو پہلے بھی دیکھ چکا ہوں۔ میں نے اس کو دوبارہ پڑھا اور یاد کیا کہ ایسا ہی سوال انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم ایس کے داخلہ ٹیسٹ میں بھی پوچھا گیا تھا، اس لیے کہ میرا بیٹا سترہ جنوری کو اس ٹیسٹ میں شریک ہوا تھا۔‘‘

میں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے سوالیہ پرچے کو چیک کیا تو میں یہ دیکھ کر چونک گیا کہ دونوں سوالات ایک جیسے ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں علامات وقف اور سوالیہ نشان میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔

مجھے مختلف پرچوں میں ایک جیسے سوالات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن امتحانی پرچے تیار کرنے والوں کو اپنا اندازِ تحریر اور سوال کرنے کا طریقہ اپنانا چاہیٔے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی پرچے کو ایک نظر میں دیکھنے سے کوئی بھی باآسانی سمجھ جائے گا کہ سی ایس ایس کا امتحانی پرچہ تیار کرنے والوں نے یہ سوال انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے امتحانی پرچے سے نقل کیا ہے۔

دیگر سوالات کے بارے میں بھی خیال کیا جاسکتا ہے کہ وہ بھی حال میں منعقد ہونے والے بعض امتحانات سے نقل کیے گئے ہوں۔

امتحانی پرچے کے مطابق تین سطروں کے سوال کا ترجمہ یہ ہے:

2013ء کے انتخابات کے دوران پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کو اپنی سیاسی اشتہار بازی کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا تھا۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا نے انتخابی نتائج پر قابلِ ذکر اثرات مرتب کیے تھے؟ براہ مہربانی ٹھوس مثالوں کے ساتھ اپنے جواب تحریر کریں۔

قائداعظم یونیورسٹی کے ایک فیکلٹی ممبر نے اس حوالے سے مزید کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو اس بات کی یقین دہانی کرلینی چاہیٔے کہ سی ایس ایس کے امتحانات کے لیے سوالات حال ہی میں منعقد ہونے والے امتحانات سے نہیں لیے گئے ہوں، اس لیے کہ اگر کوئی ان سوالات کے جواب پہلے بھی دے چکا ہوگا تو اس کے لیے ان کے جواب دینا نہایت آسان ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’’سی ایس ایس انتہائی اہم امتحان ہے اور اس کے ذریعے ملک کی کریم کو منتخب کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس قدر اہم سطح پر اس طرح کی غلطیوں سے بچنا چاہیٔے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’جہاں تک مجھے علم ہے، امتحانی سوالات تیار کرنے والے ہر ایک فرد کو سی ایس ایس کے امتحان کے لیے تین سوالیہ پرچے بھیجنے ہوتے ہیں، لہٰذا محنت سے بچنے کے لیے یہ مختلف امتحانی پرچوں سے سوالات اُٹھالتے ہیں اور اسے پبلک سروس کمیشن کو بھیج دیتے ہیں۔‘‘

جب سابق وفاقی وزیر اور معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر ایک سوال کا کچھ حصے میں اتفاق سے کسی دوسرے سوال سے مماثلت پائی جائے تو اس کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے لیکن اگر تین سطروں کا سوال دوسرے سوال کی نقل ہے تو اس کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ’’یہ بھی علمی سرقہ ہے اور امتحانی پرچے تیار کرنے والوں کو اجازت نہیں ہے کہ وہ کہیں سے سوالات نقل کریں۔ یہ بے ایمانی بھی ہے، اس لیے کہ امتحانی سوالات تیار کرنے والوں کو سوالات اپنے الفاظ میں تحریر کرنے چاہیٔیں۔‘‘

ڈاکٹر عطاءالرحمان نے کہا ’’میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس طرح کی چیزیں اب سی ایس ایس کی سطح پر کی جاسکتی ہیں۔ امتحانی سوالات تیار کرنے والوں کو علمی سرقے کی عادت کو ترک کرنا چاہیٔے۔‘‘

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ایک اہلکار، جنہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ بعض اوقات امتحانی سوالات تیار کرنے والے غلطیاں کرجاتے ہیں، لیکن اس کے لیے کمیشن کو الزام نہیں دینا چاہیٔے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کے بارے میں امتحانی شعبے کو مطلع کریں گے اور امید ہے کہ اس پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔