کون بچائے گا سسٹم؟

ای میل

پاکستانی عوام جس تیزی سے  تاریخ کے تلخ اسباق بھولتے ہیں، دیکھ کر دماغ بھنّا جاتا ہے-
پاکستانی عوام جس تیزی سے تاریخ کے تلخ اسباق بھولتے ہیں، دیکھ کر دماغ بھنّا جاتا ہے-

حکومت کے خلاف محاذ آرائی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور جمہوریت کے حامیوں کی تیزی سے سکڑتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر مایوسی اس لئے ہو رہی ہے کہ محاذ آرائی کرنے والوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ جمہوری سیاست خطرہ میں ہے-

حال حال تک، سب کی توجہ کا مرکز وہ چال تھی جو ایک میڈیا ہاؤس کے خلاف بڑے ہی سوچ بچار کے ساتھ چلی گئی تھی اور غل غپاڑے کے ساتھ انتخابی اصلاحات کے لئے احتجاج کیا جارہا تھا- اس وقت کوئی یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ حکومت کو کسی چیلنج کا سامنا ہے- اب لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس خطرے کی جانب اشارہ کررہی ہے-

پی ایم ایل-ق کے رہنما کہتے ہیں کہ اب حکومت کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں لیکن انھوں نے اپنی سابقہ پارٹی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے-

اس کے بعد پی پی پی نے بھی اپنی اس پالیسی میں کہ، وہ نواز شریف حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، تھوڑی سی تبدیلی کا اشارہ دیا ہے- جب اس کے ایک رہنما نے یہ کہا کہ ان کی جماعت نے نظام کو بچانے کا عہد کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ موجودہ حکومت کو بھی بچائے گی-

سب سے اہم انکشاف ایک وفاقی وزیر نے یہ کہہ کر کیا کہ حکومت گھیرے میں ہے- عبدالقادر بلوچ نے نہ صرف اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی حکومت کو خطرہ ہے بلکہ انھوں نے مشرف کے حواریوں کو مورد الزام ٹھہرایا-

پاکستانی عوام جس تیزی سے بھولتے ہیں، یا انھیں تاریخ کے تلخ اسباق کو بھولنے کی ترغیب دیجاتی ہے، اسے سوچ کر دماغ بھنّا جاتا ہے-

بیسیوں سالوں سے، سیاستداں، سیاست کے طالب علم اور باضمیر شہری اس ضرورت پر زور دیتے آئے ہیں کہ منتخب حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے- نمائندہ حکومتوں کو وقتاً فوقتاً برخواست کرنے کا عمل جمہوری اصولوں کی نشو و نما میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے- لیکن ابھی ایک نمائندہ حکومت سے دوسری نمائندہ حکومت کی تبدیلی کی پہلی سالگرہ منائی ہی جاتی ہے کہ ہمارے سامنے ایک دوسرے کی حکومتوں کو گرانے کا کھیل دوبارہ شروع کردیا جاتا ہے-

ایک اور سبق جو سیاسی پارٹیوں نے سیکھا تھا اس کا تعلق اس ہمالیائی غلطی سے ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بدترین دشمن جیسا سلوک کرتی تھیں اور اپنے حریفوں سے نمٹنے کے لئے غیر سیاسی عناصر کی مدد حاصل کرتی تھیں-

میثاق جمہوریت، جس پر پی پی پی اور پی ایم ایل-ن کے سربراہوں نے دیگر رہنماؤں کی موجودگی میں دستخط کئے تھے اور جس کا بجا طور پر خیرمقدم کیا گیا تھا، اس بات کا ثبوت تھا کہ ہماری سیاسی پارٹیاں سن بلوغت کو پہنچ گئی ہیں- آج، ہم نے یہ سبق بھلا دیا ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں کا ہتھیار نہیں بنے گی-

اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپوزیشن کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرے اور رائے دہندگان کے پاس جائے اس صورت میں کہ اقتدار کا تسلسل قومی مفادات کے لئے خطرہ بن جائے، لیکن، اپوزیشن کو اس بات کا حتمی حق حاصل نہیں کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ اس قسم کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے- یہ حق عوام کا ہے-

آجکل حکومت پر جو حملے کئے جارہے ہیں اس کی اصل لائن یہ ہے کہ گزشتہ سال چند حلقوں میں دھاندلیاں ہوئی ہیں- اگرچہ عوام چاہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کی جائیں، لیکن حکومت کی تبدیلی کے مطالبے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ موجودہ حکومت مئی 2013 میں اقتدار میں نہیں تھی اور ایسے ثبوت بھی سامنے نہیں آرہے ہیں کہ ریاستی ادارے پولنگ کی بے قاعدگیوں میں ملوث تھے-

اسکے علاوہ، ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ جمہوری قوتیں میدان میں نہیں ہیں اور وہ حکومت کے جواز یا عوامی مفاد کے مسائل پر بٹی ہوئی ہیں- ہم میں سے کوئی بھی جمہور دشمن عناصر کی اس تاریخ سے نا واقف نہیں ہے جو انتخابی دھاندلیوں کے واقعات کو سیاسی پارٹیوں کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں-

پاکستان کے عوام کسی بھی دوسرے ہمعصر معاشرے کے مقابلے میں یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کچھ اس انداز سے چلایا جاتا ہے کہ خود جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے-

جیو کا معاملہ، سول سوسائٹی کے خلاف مہم اور عدلیہ پر دباؤ سے یہ بات واضح ہے کہ کونسی طاقتیں حکومت کے خلاف ہونیوالے احتجاج کو صورتحال بگاڑنے کے لئے استعمال کررہی ہیں-

رضا ربانی کی وارننگ کو نظرانداز کرنے کے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ملک 1977 جیسی حالت کی جانب بڑھ رہا ہے- جو لوگ نظام کو تباہ کرنے کے لئے ریلیاں نکال رہے ہیں انھیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہجوم کی طاقت کے ذریعہ ریاست پر قبضہ کرنے کی ریہرسل ہورہی ہو-

صورتحال کے غیر معمولی طور پر گمبھیر نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ رائے عامہ کا ایک خاصا بڑا حصہ سمجھتا ہے کہ ریاست اس حد تک کمزور ہوگئی ہے کہ وہ جمہوریت کی بحالی کی تحریک چلانے کا ایک اور موقع نہیں دے سکتی- موجودہ نظام کا انتشار یقینی طور پر ریاست کی بنیادوں کو کمزور کردے گا جسکے نتیجہ میں خود وفاق کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے-

لیکن اس نظام کو بچائے گا کون؟

یہ کام اکیلے سول سوسائٹی انجام نہیں دے سکتی، گو کہ وہ حالات کا صحیح تجزیہ کرسکتی ہے اور اسکے مشوروں میں وزن بھی ہوسکتا ہے- نہ ہی ریاستی ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ وہ انتشار کی لہروں کو روک سکیں- اب یہ باشعور سیاستدانوں پر منحصر ہے کہ وہ جمہوری نظام کو بچانے کے لئے عوام کو متحرک کریں-

بدقسمتی سے، حکومت جمہوری روایات کو مضبوط کرنے کے لئے بہت کم کچھ کررہی ہے- حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت نے ذاتی حکمرانی کے جو طور طریقے اپنائے ہوئے ہیں اور بنیادی مسائل پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے پر غیر آمادگی --- خواہ اس کا تعلق قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن سے ہو یا دہلی جانے سے --- عسکریت پسندوں کی مہم جوئی کی ڈینگوں کے مقابلے میں نظام کو زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے-

ایک ایسی حکومت جو آٹوموبائلز کے نمبر پلیٹوں پر ملک کے نام کو دیدہ دلیری سے بگاڑنے کی روک تھام نہیں کرسکتی اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ شفاف ویژن کی حامل ہوگی اور جمہوریت کی حفاظت کرسکے گی- جیسا کہ ایک ممتاز دانشور کا کہنا ہے عوام اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کے منتخب نمائندے یہ سمجھنے لگیں کہ وہ بادشاہ ہیں-

آخری بات: میرے ایک دوست نے جو اپنے علم اور اچھے ذوق کے لئے جانے جاتے ہیں، ہندوستان کے حالات کے بارے میں W B Yeast کی نظم (Second Coming) کا حوالہ دیا ہے جو پاکستان پر بھی صادق آتی ہے-

اس نظم کی کچھ لائنیں ملاحظہ کیجیئے:

The blood-dimmed tide is loosed and everywhere/ The ceremony of innocence is drowned/ The best lack all conviction and the worst/ Are full of passionate intensity.

خون سے گدلی لہریں ہر جانب رواں ہیں اور پھیل گئی ہیں/ معصومیت کی خوشیاں اس میں ڈوب چکی ہیں/ جو سب سے بہترین ہے وہ کہیں کھوگیا ہے اور جو سب سے بدتر ہے/ وہ سب سے آگے آگے ہے-

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: سیدہ صالحہ