فاطمہ جناح ہاؤس، قائداعظم ہاؤس میوزیم یا فلیگ اسٹاف ہاؤس؟

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2014

ای میل

فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ
فوٹو: اختر بلوچ

شاہراہ فیصل کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے یہ ہمیں ٹھیک طرح سے معلوم نہیں۔ ہاں یہ ضرور جانتے ہیں کہ کسی وقت میں یہ سڑک ٹھٹہ روڈ تھی پھر ڈرگ روڈ ہوئی اُس کے بعد اس کا نام شاہراہ فیصل ہو گیا۔ کہیں کہیں یہ شارع فیصل بھی لکھا جاتا ہے۔

ممتاز ادیب سرور جاوید نے اس بارے میں بتایا کہ شاہراہ کے معنی ہوتے ہیں ایک طویل سڑک اور شارع سے مراد ہوتی ہے کوئی بھی سڑک۔ ڈرگ روڈ شاہراہ فیصل کا قصہ پھر کبھی۔

اس سڑک پر ملا لاغر نامی ایک بلوچ ایک مزار کے متولی تھے اور آتی جاتی گاڑیوں سے مزار کے لیے اتنا چندہ حاصل کرلیتے تھے جس سے ان کا گزارہ ہوجاتا تھا۔ بعد میں انہوں نے لالچ میں آکر 500 روپے میں یہ مزار کسی صاحب کو فروخت کر دیا اب اس مزار پر ایک عالی شان مزار موجود ہے اور متولی کی آمدنی لاکھوں میں ہے۔ یہ کہانی پھر سہی۔


شاہراہ فیصل کااختتام کا ہمیں معلوم ہے۔ یہ ختم ہوتی ہے میٹروپول ہوٹل کے چوراہے پر۔ میٹروپول ہوٹل بھی اب نہیں رہا۔ صرف عمارت باقی ہے۔ میٹروپول ہوٹل کے قریب موجودہ فاطمہ جناح روڈ اور سابقہ بونس روڈ کے نکڑ پر ایک ٹریفک پولیس کی چوکی کے بالکل سامنے ایک قدیم سی عمارت ہے۔

شاہراہ فیصل پر مہران ہوٹل کراس کریں تو اس کے فوراً بعد ایک قدیم دو منزلہ بنگلہ ہے۔ رات کی تاریکی میں یہ جگہ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ ایک پُراسرار منظر پیش کر رہی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ کوئی احتیاطی، حفاظتی تدابیر نہیں ہیں بلکہ مقصود بجلی کا بل بچانا ہے۔

دن میں اگر آپ اس عمارت کو باہر سے دیکھیں تو اس پر قائد اعظم ہاؤس میوزیم کا بورڈ لگا نظر آئے گا۔ لیکن اسے قائد اعظم ہاؤس میوزیم کے نام سے کراچی میں کوئی نہیں جانتا۔ یہ عمارت فلیگ اسٹاف ہاؤس کے نام سے جانی جاتی ہے۔


قائد اعظم ہاؤس کے حوالے سے DEPARTMENT OF ARCHAEOLOGY & MUSEUMS GOVERNMENT OF PAKISTAN KARACHI کے مطبوعہ ایک کتابچے میں جو قاسم علی قاسم کا تحریر کردہ ہے میں لکھا ہے کہ؛

"1922 تک اس عمارت کے مالک رام چند جی کچھی لوہانہ تھے۔ بعد ازاں برطانوی فوج نے عمارت کرائے پر لے لی۔ ان کے مختلف جنرل اس عمارت میں مقیم رہے۔ آخری جنرل جو یہاں مقیم رہے ان کا نام ڈگلس ڈی گریسی تھا۔ جو بعد میں رائل پاکستان آرمی کے چیف بھی رہے۔

1943 کے بعد اس عمارت میں رہائش پذیر کمانڈرز نئے مالک کے کرائے دار تھے کرائے کی رسیدوں سے یہ واضع ہوتا ہے کہ یہ رسیدیں قائد اعظم کے نام پر ہیں۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق جس وقت قائد اعظم نے عمارت خریدی اس وقت اس کے مالک سر سہراب کاؤس جی کڑک اور ان کی بیوی خورشید اور پارین بائی تھے۔

قائد اعظم کے انتقال کے بعد 13ستمبر 1948 میں محترمہ فاطمہ جناح اس عمارت میں منتقل ہو گئیں۔ 11 ستمبر 1948 کو قائد اعظم کا انتقال ہوا تھا۔ اگر قاسم علی قاسم کی اس بات کو درست تسلیم کیا جائے کہ محترمہ فاطمہ جناح 13 ستمبر 1948 کو فلیگ اسٹاف ہاؤس میں منتقل ہوئیں تھیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی کیا وجوہات تھیں جس کے سبب انھیں اپنے بھائی بانی پاکستان محمد علی جناح کے انتقال کے فقط 2 دن بعد گورنر جنرل ہاؤس (موجودہ گورنر ہاؤس) خالی کرنا پڑا؟ اس کے اسباب جاننے کے لیے ایک بڑی مشقت اور تحقیق کی ضرورت ہے۔

1963 میں فاطمہ جناح اس عمارت سے مہوٹہ پیلس منتقل ہو گئیں۔ مشہور کالمنسٹ جاوید چوہدری نے روزنامہ ایکسپریس میں یکم جولائی 2014 کو اپنے کالم میں لکھا ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کا انتقال اس عمارت میں ہوا تھا۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ ان کا انتقال 9 جولائی1967 کو مہوٹہ پیلس میں ہوا تھا۔

حضرت یہ بھی لکھتے ہیں کہ قائد اعظم میوزیم ہاؤس اسٹاف لائنز نامی سڑک پر واقع ہے۔ یہ بھی درست نہیں ہے، اس سڑک کا نام بونس روڈ تھا۔ بعد میں اس سڑک کا نام فاطمہ جناح روڈ رکھ دیا گیا تھا۔ اس کا ریکارڈ بلدیہ کراچی میں موجود ہے۔


جہاں تک محترمہ فاطمہ جناح کی ایوب خان کے خلاف صدارتی مہم قائد اعظم میوزیم سے چلانے کا تعلق ہے تو بہ قول قاسم علی قاسم؛

1963 میں محترمہ فاطمہ جناح مہوٹہ پیلس منتقل ہو گئیں تھیں۔ جب کہ صدارتی انتحابات جنوری 1965 میں منعقد ہوئے تھے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ انھوں نے صدارتی انتخابی مہم قائد اعظم میوزیم ہاؤس سے چلائی جاتی۔ غلطی کا امکان ہر وقت رہتا ہے۔ لیکن تحقیق کے حوالے سے محتاط رہنا ضروری ہے۔ زبانی گفتگو ایک الگ بات ہے لیکن جب معاملہ تحریر کا ہو تو مختلف زرائع سے ان کی چھان بین ضروری ہے۔

جاوید چوہدری نے اس عمارت کے نقشہ ساز کا نام لکھ دیا۔ اس کے لیے ان کا شکریہ، وجہ یوں کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ شخص غیر مسلم تھا۔ لیکن جناب قاسم علی قاسم کے کتابچے جو آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شائع کیا گیا ہے اس میں نقشہ ساز کا نام تک نہیں دیا گیا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ غالباً نقشہ ساز نا صرف غیر مسلم تھا بلکہ یہودی بھی تھا۔ اس یہودی نقشہ ساز نے کراچی میں کچھ اور عمارتوں کے نقشے بھی بنائے تھے۔ کسی اور موقعے پر اس بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں گے۔


ہاں تو ذکر ہو رہا تھا قائد اعظم میوزیم ہاؤس یا فلیگ اسٹاف ہاؤس کا۔ تو جناب سرکاری کاغذات میں نہ تو یہ فلیگ اسٹاف ہاؤس ہے اور نہ ہی قائداعظم ہاؤس میوزیم ہے۔ ہے نا حیرت کی بات!؟ جی ہاں اس عمارت کا نام فاطمہ جناح ہاؤس ہے۔ اگر آپ کو یقین نہ ہو تو کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن اور واٹر بورڈ کے بل دیکھ لیں۔

ان کے واجبات کی ادائیگی کی ذمے دار فاطمہ جناح ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن --جو اب کراچی الیکٹرک ہو گئی ہے-- نے عمارت کی بجلی منقطع کرنے کا نوٹس بھی جاری کر دیا تھا۔

عمارت کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے حکومت کی جانب سے 1,85,000سالانہ دیے جاتے ہیں۔ جو یقیناً ایک ناکافی رقم ہے۔ غالباً یہودی نقشہ ساز کو پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ اس عمارت کے مالکان کو کبھی نہ کبھی بجلی کے بل کی عدم ادائیگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے اس نے مرکزی عمارت کے چاروں اطراف میں اتنی کھڑکیاں بنا دیں کہ بجلی نہ ہونے کی صورت میں بھی ہوا کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

کراچی الیکٹرک کی جانب سے قائد اعظم ہاؤس میوزیم کی بجلی منقطع کرنے کے لیے 4 لاکھ 23 ہزار 9 سو 24 روپے کا بل بھیجا گیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں بجلی منقطع کر نے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا۔


بالکل اسی طرح کراچی واٹر بورڈ نے مرحومہ فاطمہ جناح کے نام سے 30 جون 2014 کو جاری کردہ بل میں جس کی رقم تقریباً 273,012 روپے بنتی ہے کی ادائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جب تک ہم یہ بلاگ لکھ رہے ہیں یہ بل کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ جس کی ویب سائٹ www.kwsb.gos.pk/DuplicateBill.aspx ہے۔



ویب سائٹ پر جاتے ہی Consumer Number طلب کیا جائے گا۔ اس بل کا Consumer Number ہے A0600390000۔ آزمائش شرط ہے۔


اس عمارت کے نقشہ ساز کا نام Moses J Somak تھا جو ایک یہودی تھے۔ یقیناً وہ ایک دور اندیش انسان تھے جنہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ برسوں بعد اس عمارت کی تعمیر کے کے حوالے سے ان کے کردار کو یکسر فراموش کر دیا جائے گا۔ اس لیے عمارت کے داخلی دروازے کے بالکل اوپر چھت کے کونے پر ایک چھوٹی سی تختی --جسے بغور دیکھا جائے تو نظر آتی ہے-- چھوڑ گئے جس پر ان کا نام لکھا ہے۔


یہ عمارت اب فلیگ اسٹاف ہاؤس کے نام سے جانی جاتی ہے نا کہ قائد اعظم ہاؤس میوزیم یا فاطمہ جناح ہاؤس۔ اس عمارت کا دورہ کرنے والے اگر گرمیوں میں جائیں تو پسینے میں شرابور ہوجائیں کیوں کہ عمارت کے اندرونی حصے میں نہ تو پنکھے ہیں اور نہ ہی ائیر کنڈیشنڈ عمارت سے متصل دفاتر کی چھتیں برسات میں ٹپکتی ہیں جس کے سبب اکثر و بیشتر کاغذات بھیگ کر ضائع ہوجاتے ہیں۔ عمارت میں موجود لائیریری میں گنی چنی چند ہی کتابیں رکھی ہیں اور شاید ایک طویل عرصے سے اس لائبریری میں شاید ہی کسی نے کچھ پڑھا ہو یا لکھا ہو۔