دی وینڈرنگ فالکن کے مصنف جمیل احمد چل بسے

شائع July 15, 2014

اسلام آباد : خاموشی سے وہ چلے گئے، خاموش اور سادہ مزاج بیوروکریٹ سے مصنف کا مقام حاصل کرنے والے جمیل احمد کے سفر کا یہ اختتام تھا، جو گزشتہ چند برسوں کے دوران ادبی شعبے میں خود کو منوانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

معروف کتاب "دی وینڈرنگ فالکن" جو مختصر کہانیوں کا مجموعہ تھی، کے مصنف 81 سال کی عمر میں انتقال کرگئے، ان کی تدفین پیر کے روز اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ کے قبرستان میں ہوئی۔

اس ریٹائرڈ بیوروکریٹ نے پاکستان کی ادبی دنیا میں اس وقت تہلکہ مچا دیا تھا، جب ان کی تحریر کردہ مختصر کہانیوں کا مجموعہ "دی وینڈرنگ فالکن" شائع ہوا تھا۔

اس کتاب میں زیادہ توجہ طور باز نامی ایک بچے پر دی گئی ہے جو پاکستان، ایران اور افغانستان کے قبائلی علاقوں میں یہاں وہاں گھومتا ہے۔

یہ کتاب اس وقت منظرِ عام پر آئی جب جمیل احمد نے مختصر کہانیوں کے ایک مقابلے میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

مصنف اور ایک بک اسٹور دی لاسٹ ورڈ کی مالکہ عائشہ راجہ نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر 2010ء میں مختصر کہانیوں کا ایک مقابلہ کروایا تھا۔

انہوں نے بتایا "مجھے اب بھی یاد ہے کہ جب جمیل احمد کا مسودہ ہمارے پاس پہنچا تو انٹریز جمع کرانے کی آخری تاریخ پہلے ہی گزر چکی تھی، مگر وہ مسودہ اتنا دلچسپ تھا کہ میری شریک کار فائزہ ایس خان اور میں نے اسے مقابلے میں شریک کرنے کا فیصلہ کیا، بعد میں یہ کتاب ہندوستان، برطانیہ اور امریکہ میں شائع ہوئی۔

معروف ادبی شخصیت آصف فرخی نے "دی وینڈرنگ فالکن" کو تحقیق کا بے مثال نمونہ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے "اگرچہ میں جمیل احمد کو ذاتی طور پر نہیں جانتا، مگر اس بات کو دیکھنا بہت آسان ہے کہ اس موضوع پر مصنف کی گرفت کتنی مضبوط ہے اور وہ جانتا ہے کہ الفاظ کو کس طرح استعمال کرنا چاہیئے، میری خواہش تھی کہ انہیں لکھنے کا مزید وقت ملتا"۔

جمیل احمد قبائلی علاقہ جات سے خوب واقف تھے کیونکہ وہ بیوروکریٹ کی حیثیت سے وہاں کام کرچکے تھے۔

ان کے بھائی جاوید مسعود نے ڈان کو بتایا کہ جمیل احمد نے پورے پاکستان کی سیاحت کی تھی اور وہ قبائلی علاقوں کا کافی تجربہ رکھتے تھے۔

انہوں نے بتایا "جمیل احمد 1981ء میں بلوچستان کے چیف سیکرٹری تھے، جس دوران لوکل باڈیز الیکشن کے دوران ضیاءالحق اور گورنر بلوچستان نے انہیں منتخب افراد کو کامیاب کروانے کی ہدایت کی، مگر میرے بھائی اسے ماننے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے انہیں جبری طور پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کردیا گیا، میں فخر سے یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ میرے بھائی نے حکومت سے کبھی کوئی پلاٹ نہیں لیا، ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک کرائے کے گھر میں رہتے تھے"۔

جاوید مسعود کا کہنا تھا "ان کے ادبی کیرئیر کا آغاز 2011ء میں اس وقت ہوا جب ان کی کتاب شائع ہوئی اور وہ دنیا بھر میں مشہور ہوگئے"۔

جمیل احمد 1933ء میں جالندھر ہندوستان میں پیدا ہوئے، چونکہ ان کے والد ایک جج تھے اس لیے انہیں متعدد شہروں میں رہنے اور تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ جب برصغیر کی تقسیم ہوئی تو وہ دہلی کے سینیٹ کولمبیا اسکول میں زیرتعلیم تھے۔

جاوید مسعود نے بتایا "دو سال قبل میرے بھائی کو شکتی بھٹ ایوارڈ دیا گیا، جس کے ساتھ ایک لاکھ ہندوستانی روپے بھی ملے، انہوں نے یہ انعامی رقم سینٹ کولمبیا اسکول دہلی کو دے دی جہاں وہ پڑھتے رہے تھے"۔

آزادی کے بعد یہ پورا خاندان پاکستان آگیا اور لاہور میں مقیم ہوگیا، جہاں نوجوان جمیل احمد نے کرسچین کالج میں تعلیم حاصل کی، انہوں نے تاریخ میں ماسٹر ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی اور 1954ء میں سول سروس جوائن کرلی۔

ان کی شادی معروف ماحولیاتی رضاکار ہیلگا احمد سے ہوئی، جو ماحولیاتی خدمات پر حکومت پاکستان سے ایک ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہیں۔ جمیل احمد نے اپنے پسماندگان میں دو بیٹے اور ایک بیٹی کو چھوڑا ہے۔

جاوید مسعود کا کہنا تھا "میرے بھائی نے اپنی سروس کا بیشتر وقت این ڈبلیو ایف پی میں گزارا جہاں وہ فاٹا کے مختلف حصوں میں پولیٹیکل ایجنٹ کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے، ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اسلام آباد منتقل ہوگئے"۔

انہوں نے کہا "جمیل احمد اردو، انگریزی، پنجابی اور پشتو بول لیتے تھے"۔

شاعر حارث خلیق کو اب بھی 2011ء میں کچھ خاص گیلریز میں جمیل احمد کی کتاب کی رونمائی کی تقریب یاد ہے اور وہ بتاتے ہیں 'مجھے اس کتاب کے بارے میں بولنے کا اعزاز ملا تھا"۔

جمیل احمد کی بہو فوزیہ من اللہ نے بتایا کہ ان کے سسر نے اپنی زندگی کے آخری چھ ماہ کافی مشکل میں گزارے تھے۔

تبصرے (1) بند ہیں

shazia malik Jul 15, 2014 03:06pm
People like him are pride of a nation! RIP aamin.

کارٹون

کارٹون : 12 مارچ 2026
کارٹون : 11 مارچ 2026