اردو زبان کے بارے میں چند غلط تصورات

اپ ڈیٹ 25 اگست 2014

ای میل

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

افسانوی یا غلط تصورات کئی بار بہت زیادہ عام ہوجاتے ہیں چاہے آپ انہیں رد کرنے کی کتنی بھی کوشش کرلیں وہ ہٹنے سے انکار کردیتے ہیں، اور یہ صرف ہمارے معاشرے تک محدود نہیں، ایسے متعدد تصورات صدیوں سے مغرب میں بھی موجود ہیں۔

جیسے کوئی میری انٹونیٹ سے منسوب جملہ ' انہیں کیک کھانے دو' یا یہ غلط تصور کہ اسکندریہ کی تاریخی لائبریری کو مسلمانوں نے تباہ کیا، مشرق کی تخلیق نہیں۔

اردو کے حوالے سے بھی کافی عام غلط تصورات موجود ہیں اور کئی بار تو اچھے بھلے پڑھے لکھے افراد بھی اس طرح کی ' مقبول حکمت' پر یقین کرلیتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں ہوتی، سائنسی ڈیٹا یا تاریخی حقائق انہیں مجبوراً اپنے خیالات تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

ایسے ہی چند تصورات کی ایک فہرست درج ذیل ہے جو حقائق کے پیش نظر ٹھیک نہیں بلکہ کئی بار تو انہیں شائع مضامین میں غلط بھی ثابت کیا جاچکا ہے مگر یہ افسانوی خیالات اتنے مقبول ہوچکے ہیں کہ متعدد افراد ان پر یقین کرتے ہیں۔

خیال : اردو ایک لشکری زبان ہے اور مغل عہد میں مختلف زبانوں کے امتزاج سے وجود میں آئی

حقیقت: اگرچہ اردو کے وجود میں آنے کی حقیقی مدت کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا، تاہم ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ اردو اور ہندی ہم پلہ زبانیں ہیں، اور ان کی بنیاد دہلی کے ارگرد ایک ہزار سال قبل بولے جانے والی مقامی بولیوں میں تلاش کی جاسکتی ہے، ممکنہ طور پر کھڑی بولی ہی سے تیرہویں صدی یا اس کے بعد کے عہد میں مسلمانوں کی ہندوستان پر سلطنت کے قیام کے بعد اردو کی بنیاد پڑی، تو یہ تصور کہ اردو کا جنم مغل بادشاہ شاہ جہاں کے عہد میں سترہویں صدی میں ہوا، کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔

دوسری بات یہ کہ ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ دو یا اس سے زائد زبانیں مل کر کسی نئی تیسری بولی کو تخلیق نہیں کرسکتے، جہاں اردو لغت میں مختلف زبانوں کے الفاظ کے موجود ہونے کی جہاں تک بات ہے، تو دنیا میں کوئی زبان ایسی نہیں جس میں غیرملکی الفاظ شامل نہ ہو، برصغیر کے مسلمانوں میں عربی اور فارسی لغت کو ترجیح دینے کا رجحان پایا جاتا تاھ، جبکہ ہندو سنسکرت اور پراکرت الفاظ کے بارے میں ایسا سوچتے تھے، انیس ویں صدی میں ہندی اور سنسکرت اسکرپٹ کی بحالی کی ایک تحریک سامنے آئی جو فارسی عربی اسکرپٹ سے دستبرداری کے لیے چلائی گئی، جو ہندو اور مسلمان عام استعمال کرتے تھے، جس کے بعد ہندی اردو تنازعے کی بنیاد پڑی۔

ہاں یہ درست ہے کہ اردو ترک زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب قلعہ، فوجی کیمپ یا لشکر ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اردو لشکری زبان ہے، درحقیقت اردو کا موجودہ نام اٹھارویں صدی کے آخر میں پڑا اور اس سے پہلے اس کے متعدد مختلف نام تھے جن مٰں ہندی، ہندوی، ہندوستانی، دہلوی، گجری، دکنی، لاہوری اور یہاں تک کہ مورس جو کہ زیادہ پرانی بولی ہے۔

انیس سو تیس کی دہائی میں محی الدین زور نے اپنی کتاب' ہندوستانی لسانیات' میں ثابت کیا کہ اردو انڈو یورپین زبان ہے اور یہ کوشش کی کہ اس ابتدائی مرحلے کی جغرافیائی سرحدوں کا تعین بھی کیا جاسکے۔ ماہرین جیسے شوکت سبزواری اور مرزا خلیل بیگ نے لشکری زبان کے خود ساکتہ تصور کو مسترد کردیا تھا، تو اردو کوئی لشکری زبان نہیں، نہ کسی زبانوں کا امتزاج ہے اور اس کی جڑیں مغل عہد سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔

خیال: پاکستان کا قومی ترانے میں اردو کا صرف ایک لفظ شامل ہے اور وہ ہے کا۔

حقیقت: پاکستان کے قومی ترانے میں کوئی بھی ایک لفظ ایسا نہیں جو اردو میں عام استعمال نہ کیا جاتا ہے، اگرچہ ان میں سے بیشتر عربی یا فارسی سے ضرور لیے گئے ہیں، انگریزی زبان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے الفاظ فرنچ یا اولڈ سیکسن زبانوں سے لیے گئے، مگر اب انہیں انگریزی کا ہی حصہ مانا جاتا ہے۔

کوئی بھی شیکسپئر پر متعدد " غیرملکی" الفاظ استعمال کرنے کا الزام عائد نہیں کرتا، اسی طرح اگر کوئی لفظ اردو نے عربی، فارسی یا کسی اور زبان سے لیا اور اب وہ اردو میں عام استعمال کای جاسکتا ہے، تو وہ اب اسی زبان کا حصہ ہے، اور ہم غالب یا اقبال پر یہ الزام نہیں لگاسکتے کہ انہوں نے لاتعداد " غیر اردو الفاظ" استعمال کیے، مگر یہ غلط تصور بلا سوچے سمجھے متعدد حلقوں کی جانب سے بار بار دوہرایا جاتا ہے۔

ایک دفعہ طالبعلموں نے مصنف سے پوچھا کہ پاکستان کے قومی ترانے میں اردو کا صرف ایک لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے، ان کو جواب دینے سے پہلے میں نے پوچھا کہ انہیں یہ خیال کہاں سے آتا ہے، جس پر ان کا کہان تھا کہ اردو کے مقبول ترین مصنف مستنصر حسین تارڑ نے اس طرح کے خیالات کا اظہار ایک اخباری انٹرویو کے دوران کیا تاھ، جس پر میں نے کہا کہ اس معیار پر تو ان کا اپنے نام میں بھی اردو کا ایک ہی لفظ شامل ہے کیونکہ مستنصر اور حسین دونوں عربی الفاظ ہیں، انہیں زبانوں کے بارے میں اس طرح کے خیالات کے اظہار سے پہلے اپنے نام کو تبدیل کرلیا چاہئے۔

خیال: اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔

حقیقت: بابائے اردو مولوی عبدالحق کے مطابق مسلمان برصغیر میں اردو زبان نہیں لے کر آئے تھے، عرب، ایران یا کسی اور جگہ سے صدیوں پہلے ہندوستان آنے والے مسلمان اردو نہیں بولتے تھے، وہ عربی، فارسی، ترک اور پشتو وغیرہ استعمال کرتے تھے۔

وہ افراد جنھوں نے اردو کو تخلیق یا بنیاد رکھی وہ ہندو تھے کیونکہ اردو اپنی نحوی ساخت اور شکلی اسٹرکچر کے مطابق ہندی جیسی ہی ہے، 99 فیصد اردو فعل مقامی ساختہ ہے جنھیں ہندی، کھڑی بولی، پراکرت یا کوئی اور نام دیا جاسکتا ہے، اردو اسم صفت میں عربی اور فارسی کا غلبہ ہے مگر اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ اردو ایک غیرملکی زبان ہے، درحقیقت یہ مقامی بولیوں میں جذب ہوگئیں اور ان کے اسکرپٹ ان بولیوں کو لکھنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا، اور اس طرح اردو زبان کی شکل سامنے آنے لگی۔

اردو کے بیشتر شاعر ہندو ہیں، بالکل اسی طرح جیسے متعدد مسلمان ہندی میں لکھتے رہے، پندرہویں صدی کے عظیم شاعر کبیر نے اپنی شاعری اردو میں کی، درحقیقت ان کا نام کبیر عربی زبان کا حصہ ہے، سکھ مذہب کے لیے مقدس سمجھے جانے والی تحریر گورو گرانتھ صاحب میں اردو الفاظ شامل ہیں، ہندوستان میں عیسائی مشنریاں اردو میں تبلیغ کرتی تھیں اور انہوں نے انجیل کا اردو ترجمہ بھی کیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مختلف مذاہب نے اردو کے فروغ کے لیے کوششیں کیں۔

خیال: اردو عام افراد کی بادشاہوں کی زبان تھی۔

حقیقت: اٹھارویں صدی میں اردو برصغیر میں ہر طبقے میں بولے اور لکھے جانے والا اسکرپٹ بن گئی تھی، جون گلکرسٹ نے اس حقیقت کی نشاندہی اپنی تحریروں میں کی اور اس کی وجوہات بھی بتائیں کہ یہ گلی کوچوں میں لوگوں سے رابطے کے لیے استعمال ہوتی تھی کیونکہ یہ ان کی اپنی زبان تھی، مغل عدالتوں کی زبان فارسی تھی مگر عام افراد اردو بولتے تھے، 1837 میں برطانوی سامران نے فارسی کو بدل کر سرکاری زبان اردو کردی تھی۔