رکاوٹیں توڑ دو

19 ستمبر 2014

ای میل

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔
اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

عمران خان اور طاہرالقادری اسلام آباد میں پاکستان کی موجودہ حکومت کو الٹنے کی کوششوں میں مرکزی کردار اداکررہے ہیں، لیکن پاکستان کے مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے-

حقیقت تو یہ ہے، کہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب نے پنجاب میں تباہی پھیلا کر لاکھوں لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے- میں سمجھتا ہوں کہ احتجاج کرنےوالوں سے متاثرینِ سیلاب کی مدد کی امید ر کھنا زیادتی ہوگی-

اور موجودہ سیاسی بحران کے پس منظر میں ہمارے بڑھتے ہوئے سماجی مسائل کی جھلک نظر آتی ہے- روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبے بے توجہی کا شکار ہیں- یوں بھی ہماری اشرافیہ کو اس کی پرواہ نہیں ہے۔ کراچی کے ایک صنعتی علاقے میں اشرافیہ کی جانب سے نظر انداز کر دیے گئے عورتوں اور بچوں نے ایک حالیہ مظاہرے میں حکومت سے تعلیم کا مطالبہ کیا۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں طاقت اور پیسہ ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے، اس طرح کے بنیادی مسائل پر وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ریاستی نظام کے گھٹیا تعلیمی معیار کی وجہ سے لوگ تعلیم کے لیے پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں پر ہی بھروسہ کرتے ہیں-

اس لیے غریب پاکستانی بھی اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے کے خواہشمند ہوتے ہیں تاکہ وہ انگریزی زبان میں روانی حاصل کرسکیں، جو ایک بہتر نوکری اور کارآمد زندگی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے- افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر "انگلش میڈیم" اسکول تیسرے درجہ کے ادارے ہیں، اور جو بہتر اسکول ہیں وہ بہت مہنگے ہیں اور ان میں داخلہ آسانی سے نہیں ملتا-

لہٰذا محدود وسائل رکھنے والے والدین کے بچوں کے لیے بہتر تعلیم کا حصول تقریباً ناممکن ہے- اور نسل در نسل جہالت اور غربت انکا مقدر بن جاتی ہے- اگر کبھی کچھ بچے اس طبقاتی رکاوٹ کو پار کرلینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تو یہ ایک جشن منانے کا موقع ہوتا ہے-

اس اخبار کے اتوار کی اشاعت میں میگزین سیکشن میں وارث خان اور اس کے بیٹوں کے بارے میں ایک کہانی نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرلی- وہ تربیلا ڈیم میں ایک مزدور تھا جو بیس سال پہلے اپنی قسمت آزمانے کراچی آیا تھا، جس طرح سینکڑوں ہزاروں لوگ شمالی علاقوں سے سالہا سال سے آتے رہے ہیں-

شروع کے چند مہینے اس کے لیے سونا بھی مشکل تھا، جب اسے ایک پھل والے کے پاس نوکری ملی۔ وہ اس شخص کے پاس روز سولہ گھنٹے کام کرتا تھا، ایک کمرہ کرایہ پر لینے کے بعد، اس نے 1993ء میں شادی کی، اور ایک بیٹے کا باپ بنا، جس کا نام اس نے فضل رکھا- لیکن اس وقت وہ کراچی کے ایک خوشحال علاقے باتھ آئی لینڈ میں پھلوں کی ایک دوکان کا مالک بن چکا تھا-

وہ قریب واقع کنسنگٹن گرامراسکول میں گاڑیوں سے بچوں کو آتے جاتے اکثر دیکھتا تھا، اور اس نے فضل کو وہیں بھیجنے کا ارادہ کرلیا- اس کی خوش قسمتی تھی کہ اسکول کو چلانے والا ایک ایسا خاندان تھا جو کم آمدنی والے خاندانوں کے بچّوں کو تعلیم دینے کا کام کررہا تھا، اور جب وارث کے پاس پیسوں کی کمی ہوئی تو انہوں نے فضل کی سرپرستی کا ذمہ اٹھا لیا-

فضل ایک اچھا طالبعلم تھا۔ شام کو دکان میں اپنے باپ کی مدد کرتا تھا اور گاہکوں کی دیکھ بھال کے درمیان اپنا ہوم ورک بھی کرتا رہتا تھا- کچھ سالوں بعد اس کا چھوٹا بھائی محمود بھی اسکول میں اس کے ساتھ آگیا- اس کا ' او' لیول کے امتحان کا نتیجہ اتنا اچھا تھا کہ اسے مشہور The Lyceum School میں ' اے' لیول کرنے کے لیے اسکالرشپ مل گئی-

یہاں اس نے کھیلوں اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا اور آسانی سے دوست بھی بنائے- جب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا وقت آیا، تو سومرو خاندان نے، جنہوں نے ابتدائی زمانے میں اس کی مدد کی تھی، کینیڈا کی مشہور میک گل یونیورسٹی میں درخواست بھیجنے کے لیے اس پر زور دیا، اور فضل کے لیے بالکل غیرمتوقع طور پر وہاں سے جزوی اسکالرشپ کی پیشکش بھی ہوئی-

لیکن اس مالی مدد کے باوجود، فضل کے پاس کینیڈا جانے کے لیے پیسے نہیں تھے- اس وقت عادل سومرو کی معیت میں کراچی کے شہریوں کا ایک گروپ فضل کی مدد کے لیے آگے بڑھا- اور پھر جلد ہی ویزہ اور سفر کے اخراجات کے لیے پیسے اکٹھے ہو گئے-

میری عادل سومرو سے مزید تفصیلی باتیں ہوئیں تو پتہ چلا کہ فضل Materials Engineering کا کورس کررہا ہے اور پہلا سال مکمل کرچکا ہے- اس دوران میں اس کے بھائی محمود کو بھی میک گل یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینیرنگ میں داخلہ مل گیا ہے-

عادل کا خاندان محروم طبقے کے نوجوانوں کو بہتر تعلیم کی سہولیات دلوانے کی جدوجہد میں مصروف ہے- اس طرح انہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کا اور ان کے خوابوں کو سچ کر دکھانے کا بیڑا اٹھایا ہے- اگر فضل اور محمود دونوں میک گل سے اپنی تعلیم مکمل کرلیتے ہیں، تو وہ معاشرے کے لیے کارآمد ہوں گے اور ملک کو کچھ دینے کے قابل ہوجائیں گے۔

مختصر یہ کہ، وہ یہ بھی ثابت کریں گے کہ ہماری تقدیر صرف ہمارے پیدائشی حالات کے ساتھ نہیں جڑی ہوتی- اگر وہ پاکستان کی سخت طبقاتی بندشوں کو پار کرسکتے ہیں، تو یہ دونوں بھائی ایسے لوگوں کے لیے رول ماڈل بن سکتے ہیں جو ان ہی کی طرح کے نامساعد حالات میں اپنی زندگیوں کی شروعات کرتے ہیں-

سومرو خاندان، اور وہ تمام لوگ جنہوں نے فضل اور محمود کی مدد کی ہے، اپنے اس جذبے کے لیے مبارکباد کے مستحق ہیں- درحقیقت، پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ یہاں لوگوں میں خدمت خلق کا جذبہ موجود ہے جس کی وجہ سے ہزاروں محروم پاکستانیوں کو اچھی تعلیمی سہولتیں مہیا ہوجاتی ہیں- اس کے بغیر، حالات اور بھی زیادہ بدتر ہو سکتے تھے-

فضل اور محمود یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ اگر مواقع موجود ہوں تو، زیادہ تر پاکستانی بچے ان کو حاصل کرکے سیکھنے اور بہتر سے بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں- لیکن پاکستان کی اشرافیہ تعلیمی نظام کو بدنیتی سے نظرانداز کرکے اس کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

اگر آپ، میری طرح، ان کی مددکرنا چاہتے ہیں، تو عادل سے [email protected] پررابطہ کرکے مزید تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں-

انگلش میں پڑھیں۔


ترجمہ: علی مظفر جعفری

[email protected]