خیبر ایجنسی اور جنوبی وزیرستان میں پولیو کے دو نئے کیسز

18 اکتوبر 2014

ای میل

۔ —. فائل فوٹو
۔ —. فائل فوٹو

پشاور: وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں خیبرایجنسی اور جنوبی وزیرستان میں معذور کردینے والی بیماری پولیو سے دو مزید بچے متاثر ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد اس سال 2014ء میں اب تک ملک بھر میں پولیو سے متاثر ہونے بچوں کی تعداد 209 تک جاپہنچی ہے۔

ڈان نیوز ٹی وی نے محکمہ صحت کے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ کے گاؤں اکاخیل کی اٹھارہ ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ جبکہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا سے تعلق رکھنے والی آٹھ ماہ کی بچی میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جس کے بعد فاٹا میں پولیو کیسز کی تعداد 138 تک پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقوں کے بعد پولیو کے سب سے زیادہ کیسز خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے ہیں، جن کی تعداد 43 ہے۔


مزید پڑھیے: پولیو کے 80 فیصد کیسز کا ذمہ دار پاکستان ہے، عالمی ادارۂ صحت


دوسری جانب اس سال سندھ میں 19، بلوچستان میں 6 اور پنجاب میں تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے ہی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او )نے کہا تھا کہ پاکستان پولیو پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں پاکستان کو عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے ہدف کے حصول میں سب سے بڑا اور واحد خطرہ قرار دیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بچوں تک پولیو ویکسینیشن کی رسائی میں ناکامی، پولیو مہم پر پابندی اور پولیو ورکرز پر ہلاکت خیز حملوں کے باعث پولیو کے خاتمے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان اور انتہا پسندوں کی جانب سے پولیو مہم کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کے باعث ملک میں پولیو کا خاتمہ مشکل ترین ہدف نظر آ رہا ہے۔


مزید پڑھیے: پاکستان میں پولیو کا چودہ برسوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا


واضح رہے کہ طالبان نے 2012 ءسے قبائلی علاقوں اور فاٹا میں پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ اس سال مئی میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے مسافروں پر پولیو ویکسین کا سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی پابندی عائد کردی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے جنیوا میں ہونے والے غیرمعمولی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بروس ایلورڈ نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے باعث اس وائرس کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ سفری پابندیاں عائد کرنے کی سفارش انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز کمیٹی نے نومبر 2012ء میں کی تھی، جن پر عملدرآمد پانچ مئی 2014 کو ہوا تھا۔