غلامی آج بھی جاری ہے

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2014

ای میل

دبئی اور خلیجی ممالک میں گھریلو ملازموں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے، جو ہم ان سے اپنے ملک میں کرتے ہیں۔
دبئی اور خلیجی ممالک میں گھریلو ملازموں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے، جو ہم ان سے اپنے ملک میں کرتے ہیں۔

جوزف اونیل کے دبئی پر مبنی نئے ناول میں امریکہ سے تعلق رکھنے والا مرکزی کردار شہر کو چلانے والے گندمی رنگت کے حامل غیر ملکیوں کو وہ کلر کوڈڈ چیونٹیاں قرار دیتا ہے، جو کہ کسی بھی تعمیراتی مقام پر ہر جگہ پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

لیکن اس سے بھی کم انسان خواتین کو سمجھا جاتا ہے، جن کی فوجیں گھریلو کاموں میں مصروف ہوتی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ امرا کے زیرِ رہائش گھر صاف ستھرے اور چمکدار رہیں۔

اونیل کے ناول میں گھریلو ورکر نظر نہیں آتے؛ جس بلند و بالا عمارت میں وہ رہتا ہے، یہ ورکر اس کی نچلی اور پوشیدہ جگہوں پر رہتے ہیں، اور وہ جب بھی ان سے بات کرنا چاہتا ہے، تو وہ ڈر کے مارے دور بھاگ جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر انہیں دیکھ لیا گیا، تو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور یہ ان کے لیے دنیا کے اختتام کی طرح ہے۔

وہ ان لوگوں کے لیے بہت برا محسوس کرتا ہے، یہ گندمی رنگت والے لوگ، جنہیں ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ہے، اور کسی اچھے اور احساسِ جرم میں دبے ہوئے امریکی کی طرح وہ اپنی تنخواہ کا ایک حصہ ہیومن رائٹس واچ کو عطیہ کردیتا ہے۔

ناول سے ہٹ کر بات کریں، تو پچھلے دنوں ہیومن رائٹس واچ نے انہی لوگوں کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے، جنہوں نے اونیل کے ناول کے مرکزی کردار پر گہرا اثر چھوڑا۔

یہ تازہ ترین رپورٹ، جس کا عنوان 'میں تمہیں پہلے ہی خرید چکا ہوں'، متحدہ عرب امارات کی جانب سے امپورٹ کیے گئے گھریلو ورکرز کی قابلِ رحم حالتِ زار کے بارے میں ہے۔

دن بھر کھانے پکانے، صفائی، بچوں کو سنبھالنے کی سخت ترین مشقت کے علاوہ ان مزدوروں کی کہانیوں میں امارات پہنچتے ہی پاسپورٹ چھین لیا جانا، کئی کئی مہینوں تک تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونا، جنسی اور جسمانی تشدد، قید، اور مناسب کھانے اور کپڑوں کی کمی بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق کئی کیسز میں خواتین کو مزدور ایکسپورٹ کرنے والے ممالک یعنی سری لنکا، فلپائن، اور دیگر ممالک سے خلیجی ممالک بھیجا جاتا ہے، جہاں ان سے مہینوں اور سالوں تک جبری مشقت کرائی جاتی ہے۔

لیکن ان کی پریشانیاں یہیں ختم نہیں ہوتیں۔

ان خواتین کو جس طرح پکارا جاتا ہے، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے مالکان کے نزدیک ان کا رتبہ صرف ایک غلام کے برابر ہے، جو اپنی خراب حالت سے بھاگنے کے چکر میں رہتی ہیں، اور اگر بھاگنے کی کوشش ناکام ہوجائے، تو ان پر جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔

جب ان کو نوکری دی جاتی ہے، تو انہیں خرید ہی لیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح دبئی کے شاپنگ مالز اور اسٹورز میں چیزیں بکنے کو موجود رہتی ہیں۔

گھریلو ورکرز کے ساتھ خلیجی ممالک میں ہونے والی ان زیادتیوں کی پاکستانی لوگوں کے ساتھ بات کرنے کے کچھ اپنے مسائل ہیں۔

جنوبی ایشیا کے اخلاقی معیارات کے مطابق گھریلو ملازمین کے ساتھ کیا جانے والا ایسا سلوک بالکل جائز ہے۔

پاکستان میں بھی دن میں 18 گھنٹے کام کرنے والے بچوں، جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خادماؤں، اور جنس کی تفریق کے بغیر تمام ملازموں کو کمتر انسان سمجھنے کی کہانیاں عام ہیں۔

ان کے کھانے پینے کے برتن الگ رکھنا، ان پر الگ قاعدے قانون لگانا، ان کو ہمیشہ پردے کے پیچھے رکھنا، ان سب پر کبھی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔

خادمائیں اور گھریلو ملازم جو خلیجی ممالک جا کر بڑے بڑے گھروں میں ملازمت کرتے ہیں، ہمیشہ نوکری کھونے کے ڈر میں جیتے ہیں۔ شاید آپ یہ سوچیں کہ پاکستانی لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے ہوں، بلکہ اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے کوشش بھی کرتے ہوں، لیکن ایسانہیں ہے۔

عرب امارات اور سعودی عرب میں گھریلو ملازموں کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو کہ ہم اپنے ملک میں اپنے ملازمین کے ساتھ کرتے ہیں۔ ہم سب مل کر استحصال اور غلامی کے اس نہ ٹوٹنے والے سلسلے کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔

بیچ میں، بالکل جوزف اونیل کے ناول کی طرح، مغربی دنیا موجود ہے، جو عربوں کے جنوبی ایشیائی لوگوں کے ساتھ، اور جنوبی ایشیائی لوگوں کی اپنے ہی لوگوں کے ساتھ سلوک کی مذمت کرتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی یہ رپورٹ متحدہ عرب امارات کے بارے میں وہ بتاتی ہے جو پاکستانی، ہندوستانی، اور دیگر لوگ اپنے گھروں اور پڑوس میں ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔

اس دنیا میں کوئی عالمی کنونشن موجود نہیں ہیں، کسی غریب آدمی یا غریب عورت کی زندگی بچانے کے لیے کوئی اقدامات موجود نہیں ہیں۔

لاکھوں لوگوں کی چاہ اور طاقت کا مطلب ملکیت کو اخلاقی طور پر قبول کرلیے جانے کی وجہ سے غلامی آج بھی جاری و ساری ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔