چین میں ہسپتال پر حملہ، 7 افراد قتل

20 نومبر 2014

ای میل

چین میں ڈاکٹروں اور نرسوں پر حملوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے—۔فوٹو/ اے ایف پی
چین میں ڈاکٹروں اور نرسوں پر حملوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے—۔فوٹو/ اے ایف پی

بیجنگ: چین کے شمال مشرق میں واقع ایک پوش ریزورٹ ٹاؤن کے ہسپتال میں چھریوں کے وار کر کے 7 افراد کو قتل کردیا گیا۔

چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کی ایک رپورٹ کے مطابق پوش علاقے بیدے ہے کے ایک ہسپتال میں چھری کے وار کے ذریعے 6 نرسوں اور ایک خاکروب کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

شنہوا کے مطابق جمعرات کی صبح ایک 27 سالہ شخص نے دارالحکومت بیجنگ سے تقریباً 300 کلومیٹر مشرق میں واقع علاقے بیدے ہے کے ایک ہسپتال میں طبی عملے پر حملہ کرکے چھ نرسوں اور ایک خاکروب سمیت 7 افراد کو قتل کردیا۔

حملہ آور کے مقاصد کے حوالے سے معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

بیدے ہے چین کا ایک پوش علاقہ ہے جہاں چینی رہنما اور دیگر اعلیٰ شخصیات چھٹیاں گزارنے آتی ہیں یا پھر یہاں اہم حکومتی میٹںگز منعقد کی جاتی ہیں۔

گزشتہ کچھ برسوں کے دوران چین میں طب کے شعبے سے وابستہ افراد پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور حملہ کرنے والے افراد ڈاکٹروں اور نرسوں کو اپنے رشتے داروں کی موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ اقدام اٹھاتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین میں ڈاکٹروں کی تنخواہ کم ہونے کے باعث ان کے کرپشن میں ملوث ہونے کے واقعات اکثر بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں، جبکہ دیگراسٹاف بھی پیسہ کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

چینی وزارتِ صحت کے دستیاب اعدادو شمار کے مطابق 2010 میں ڈاکٹروں کی مار پیٹ، اغواء، دھمکیوں، قتل یا زبانی تلخ کلامی کے واقعات کی تعداد 17,243 تھی، جبکہ اس کے بعد اس قسم کے کوئی اعدادو شمار اکٹھے نہیں کیے گئے۔