ٹی ٹی پی سربراہ ڈرون حملہ میں بچ نکلے

25 نومبر 2014

ای میل

ملا فضل اللہ۔ — فائل فوٹو
ملا فضل اللہ۔ — فائل فوٹو

پشاور: کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ پاکستانی سرحد سے ملحق افغان صوبہ ننگرہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں بچ نکلے۔

انتہائی باخبر سرکاری ذرائع نے ڈان۔کام کو بتایا کہ پیر کی رات ڈرون طیارہ سے نازیان گاؤں کے ایک کمپاونڈ پر چار میزائل داغے گئے تھے۔

اس حملے میں کم از کم پانچ پاکستانی اور افغان جنگجو ہلاک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق، ملا فضل اللہ ایک دن سے اس علاقے میں موجود تھے اور ڈرون طیارہ کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ اس حملے میں بچ نکلے۔

افغان گاؤں نازیان میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت معلوم نہ ہو سکی۔

افغان حکومت اور امریکی سی آئی اے نے ابھی تک ڈرون حملے کی تصدیق نہیں کی۔

یاد رہے کہ ملا فضل اللہ 2009، سوات میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے دوران بھاگ کر سرحد پار چلے گئے تھے۔ اسلام آباد کافی عرصہ سے افغان حکومت پر ملا فضل اللہ کی حوالگی کیلئے زور دے رہا تھا۔

ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ملا فضل اللہ گزشتہ سال تنظیم کے سربراہ بن گئے تھے، تاہم وہ اس عرصہ میں سرحد پار ہی مقیم رہے۔

ملا فضل اللہ افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی پر مبنی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے علاوہ سرحد پار حملوں میں بھی ملوث رہے۔

بعض ذرائع نے ڈان ۔ کام کو بتایا کہ وہ لشکر اسلام کی مدد کیلئے اپنے کچھ جنگجوؤں کو خیبر ایجنسی میں بھیجنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔

پاکستان فوج خیبر ایجنسی میں لشکر اسلامی اور ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

اطلاعات کے مطابق، لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ نے ٹی ٹی پی اور دوسرے دہشت گر دگروہوں سے اپنے جنگجو وادی تیراہ بھیجنے کی درخواست کی ہے۔

اس اپیل کے بعد کئی عسکریت پسند سرحد عبور کر کے خیبر ایجنسی پہنچ چکے ہیں۔