وزیرستان:داعش کامبینہ پمفلٹ تقسیم،مخالفین کونشانہ بنانےکی دھمکی

26 نومبر 2014

ای میل

وانا میں تقسیم کیے جانے والے پملٹ کا عکس
وانا میں تقسیم کیے جانے والے پملٹ کا عکس

پشاور:جنوبی وزیرستان میں داعش کا ایک مبینہ پمفلٹ تقسیم کیا گیا ہے جس میں مخالفین کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔

وانا میں تقسیم کیے جانے والے داعش کے مبینہ پمفلٹ میں قبائل کی جانب سے عسکریت پسند رہنما ملا نذیر کا ساتھ دینے پر جنوبی وزیرستان کے قبائل کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا ہے.


مزید پڑھیں: پاکستان میں داعش کی موجودگی کا امکان مسترد


واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے متواتر تردید کی جا رہی ہے البتہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 5 کمانڈرز نے داعش میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔


مزید پڑھیں : 6 اہم طالبان کمانڈرز داعش میں شامل


داعش کے مبینہ پمفلٹ میں مجاہدین کی مخالفت کرنے والے افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ڈان نیوز کو موصول ہونے والے پمفلٹ میں داعش کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’’جنوبی وزیرستان ایجنسی حلقہ وانا کے غیور قبائل کے دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں جنہوں نے ملا نذیر کا بھرپور ساتھ دیا اور حال میں صلاح الدین ایوبی کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں‘‘


مزید پڑھیں : عبدالرحیم مسلم دوست داعش کے خراسان کے امیر مقرر


اس پمفلٹ پر تحریر اردو میں موجود ہے جبکہ داعش کا مخصوص نشان بھی اس پر بنا ہوا ہے، البتہ ہاتھ سے لکھے گئے اس پمفلٹ کے حوالے سے تصدیق کرنا مشکل ہے کہ کس نے یہ تقسیم کیا ہے جبکہ داعش بھی غلط ’’داغش‘‘ لکھا ہوا ہے۔

داعش کے مبینہ پمفلٹ سے البتہ اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ملا نذیر کا عسکریت پسند گروہ جنوبی وزیر ستان میں داعش سے رابطہ کر رہا ہے

داعش کے اس مبینہ پمفلٹ میں امریکا کا ساتھ دینے اور ڈرون حملوں میں معاونت کرنے والوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے۔


مزید پڑھیں : داعش کی پاکستان میں ہزاروں افراد کی بھرتی کا انکشاف


یاد رہے کہ داعش یا الدولۃ الاسلامیہ نے رواں برس کے شروع میں عراق اور شام کے بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا تھا اور جون میں خلافت کے قیام کا اعلان کرکے ابوبکر البغدادی کو خلیفہ نامزد کر دیا تھا۔

پمفلٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘‘مجاہدین کو شیخ خلفیہ کی طرف سے مکمل اجازت مل چکی ہے کہ ہر ملک اور اور ہر شہر اور ہر گاؤں ایسے لوگوں کی صفائی کرجو کہ اسلام اور مجاہدین کے خلاف ہوں‘‘۔