جماعت اسلامی اُبھرنے کی جدوجہد میں مصروف

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2014

ای میل

امیر جماعت اسلامی لاہور میں پارٹی کنونشن سے خطاب کررہے ہیں— اے ایف پی فوٹو
امیر جماعت اسلامی لاہور میں پارٹی کنونشن سے خطاب کررہے ہیں— اے ایف پی فوٹو

جماعت اسلامی کا گزشتہ دنوں مینار پاکستان میں اجتماع عام اس کی قیادت کی جانب سے "پارٹی کو ریاستی علیحدگی کی کیفت سے باہر نکالنے" کی ایک اور کوشش تھی مگر کیا امیر جماعت اسلامی سراج الحق پارٹی کی قسمت بدلنے اور نئے سماجی وسیاسی حقائق کے لیے خود کو مناسب ثابت کرسکیں گے؟

جماعت کے اندر مثالی اتحاد کے ساتھ سراج الحق کو لگتا ہے کہ وہ اپنے پیشرو قاضی حسین احمد کی سیاست پر عمل کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے پارٹی کو مرکزی سیاسی دھارے میں زیادہ موثر بنانے کی کوشش کی تھی تاہم محدود کامیابی ہی حاصل کرسکے۔

قاضی حسین احمد نے اتحادی سیاست کو آگے بڑھایا، جونیئر اتحادی جماعت کا کردار ادا کیا، تنہا پرواز کی کوشش کی اور متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے پی میں جے یو آئی ایف کے ساتھ مل کر پرویز مشرف کے عہد میں تشکیل دی جبکہ جماعت اِس وقت بھی کے پی میں پی ٹی آئی کے ساتھ حکمران اتحاد میں شامل ہے۔

طویل عرصے سے جماعت کے حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ پارٹی کو قومی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے خود کو دوبارہ منظم کرنا چاہئے اور اپنی موجودہ حیثیت سے باہر نکل کر مواقعوں کو تلاش کرنا چاہئے۔

سراج الحق نے نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان تنازع کے درمیان بطور ثالث مداخلت کرکے اپنی جو ساکھ بنائی ہے اس نے "احیاء" کی توقعات کو بڑھایا ہے، جے آئی کے حلقوں میں سراج الحق کے بطور مدبر ثالث کے کردار سے یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ وہ ملکی سطح پر پارٹی میں دوبارہ جان ڈال سکتے ہیں۔

پاکستان کی ممکنہ طور پر سب سے منظم سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے امیر جماعت ایسے پس منظر کے حامل ہیں جو لوگوں کی توجہ مرکوز کرانے کے ساتھ انہیں دور بھی رکھتا ہے، جے آئی ایسی جماعت ہے جو ملکی سیاست پر اثرانداز ہوتی ہے چاہے انتخابی میدان میں وہ زیادہ کامیاب نہ بھی ہو، گزرے برسوں کے دوران وہ ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں پیش پیش رہی ہے۔

یہاں ایسے خیالات بھی پائے جاتے ہیں کہ جماعت اپنی حمایت و طاقت کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے قابل نہیں، مگر کچھ اس پر مفاہمتی سیاست کا الزام بھی لگاتے ہیں جس کی مثال جنرل ضیاءالحق کی فوجی حکومت کی حمایت کرنا دی جاتی ہے اور زور دیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے اس نے سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک اسلامی ریاست کا قیام ممکن بنا سکے۔

طویل عرصے تک جماعت کا مرکزی 'نظریاتی' حریف پی پی پی کو سمجھا جاتا تھا، ن لیگ اور پی ٹی آئی کا قیام ضیاء دور کے عمل میں آیا اور اب وہ ایسی جماعتیں ہیں جن کے مقاصد جماعت اسلامی کے قریب ہیں، مگر ان دونوں کے اندر یہ بھی مانا جاتا ہے کہ وہ ان حصوں پر غالب آسکتے ہیں جو پہلے جے آئی کے کنٹرول میں تھے۔

انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے مشیر نعمان الحق زور دیتے ہیں "جماعت اسلامی ان مقاصد کو اٹھا رہی ہے جن سے دیگر کافی عرصے پہلے ہی دستبردار ہوچکے ہیں، مثال کے طور پر جے آئی اب امریکا کے خلاف زیادہ پُرزور انداز میں بات کر رہی ہے تاکہ امریکی مخالف جذبات سے فائدہ اٹھا سکے، اسی طرح اس کی قیادت واضح طر پر طالبان کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس کے خیالات دیگر بڑی جماعتوں سے نہیں ملتے، ایسا نظر آتا ہے کہ جماعت کا ماننا ہے کہ وہ اپنے حمایتی حلقوں کو اس طرح کے مسائل پر بات کر کے بڑھا سکتی ہے، کیونکہ نواز لیگ اور پی ٹی آئی کی طالبان پالیسی الجھن کا شکار نظر آتی ہے اور ان کا امریکا مخالف موقف زیادہ موثر نہیں"۔


دو گروپس کی جدوجہد


کچھ حلقے جماعت کی اثر و رسوخ کی صلاحیت اور زیادہ مضبوط ہو کر ابھرنے کے عزم پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ رجعت پسند عناصر کے پاس اب اسلامی انقلاب جہاد کے ذریعے برپا کرنے کے کئی آپشنز موجود ہیں، درحقیقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ جے آئی حالیہ برسوں میں طالبان اور القاعدہ انتہا پسند گروپس کے سامنے 'اسلامی انقلاب کی صف اوّل' میں شامل رہی ہے جس سے اس کے 'نظریاتی' مخالفین جیسے ایم کیو ایم کو اس پر 'دہشت گرد' جماعت کا لیبل لگانے کا موقع ملا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی حمایت کے موقف نے جماعت اسلامی کے کچھ رہنماﺅں کو مخالفانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا جس کے نتیجے میں سابق امیر منور حسن 'اس رجحان' کو پارٹی کی صفوں میں فروغ دینے میں ناکام رہے۔

ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے "جماعت اسلامی کا مینار پاکستان میں کنونشن پارٹی کے اندر دو گروپس کی جدوجہد کو سامنے لایا ہے، بالادست گروپ کی سربراہی سراج الحق کر رہے ہیں جو مقبول سیاست کے ذریعے جے آئی کی قسمت کی توقعات باندھے ہوئے ہیں جبکہ دوسرا گروپ منور حسن کے ذریعے خود کو ابھارنے کی کوشش کر رہا ہے، یہاں تک کہ طالبان، دہشت گردی اور جہاد کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات کو "غلط انداز میں پیش کیا گیا" یا غلط سمجھا گیا، یہ گروپ جماعت کے اندر بیلٹ کے ذریعے تبدیلی کے حوالے سے زیادہ پراعتماد نظر نہیں آتا"۔

تاہم جماعت نظریاتی یا سیاسی اختلافات کو مسترد کرتی ہے اور منور حسن زور دیتے ہیں "ہم ہر فیصلہ مل کر کرتے ہیں اور ہر ایک اس پر عمل کرتا ہے، موجودہ شکل میں جمہوریت عوام تک ثمرات پہنچانے میں ناکام ہوچکی ہے، اگر جمہوریت کچھ اچھا کام کرتی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگوں کے اندر نیا عزم ذہن نشین کریں، یہی وہ چیز تھی جو میں نے اجتماع عام کے دوران اپنی تقریر میں جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے حوالے سے کہی"۔

سابق امیر جماعت اسلامی ان ووٹرز سے ناخوش ہیں جو "جعلی ڈگریوں اور امیر" افراد کو منتخب کرتے ہیں، ان کے بقول "ابھی بھی جمہوریت اور انتخابات ہمارے لیے دستیاب بہترین آپشن ہیں اور ہمیں نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہئے، جب ہمارے سامنے اس سے بہتر آپشن آئے گا تو ہم اس راہ کو اپنالیں گے"۔


جماعت کی مستقبل میں انتخابی کامیابی پر شکوک و شبہات


منور حسن اس تنقید سے اتفاق نہیں کرتے کہ جماعت اپنے مقاصد پر مفاہمت کے باوجود سماجی اور سیاسی طور پر غیر اہم ہوچکی ہے "اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ مقبولیت جانچنے کے لیے کیا پیمانہ استعمال کرتے ہیں، ہم انتخابات میں اس لیے کامیاب نہیں ہوسکے کیونکہ 1970 کے بعد تمام انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور ان کے نتائج ایجنسیوں نے مرتب کیے، میں یہ نہیں کہتا کہ ہم نے غلطیاں نہیں کیں مگر ایجنسیوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت ہماری ناقص انتخابی کارکردگی کی بنیادی وجہ ہے، ذوالفقار علی بھٹو یا مجیب الرحمان کے بعد کسی نے بھی انتخابات عوامی حمایت سے نہیں جیتے، اس کے ساتھ ساتھ میرے خیال میں قدرتی آفات کے مواقعوں پر ہمارے فلاحی کام سے عوام کی نظر میں ہماری ساکھ میں اضافہ ہوا ہے"۔

تاہم ناقدین تاحال جے آئی کی انتخابی کامیابی کے مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

ایک سینئر صحافی کے مطابق "جماعت اسلامی ایک مقبول جماعت بننے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی، بلکہ اسے اسلامی انقلاب لانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، پارٹی قیادت اس بات کو طویل عرصے سے جانتی ہے، وہ مقبول نعروں کے ذریعے اپنی انتخابی قسمت کو آزماتے ہیں اور ناکام رہتے ہیں، یہ حکمت عملی دیگر مقبول جماعتیں جیسے مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے خلاف کارآمد ثابت نہیں ہوسکی، اس طرح سے پاکستان میں ایک اسلامی انقلاب نہیں لایا جاسکتا اور اگر ایسا ہو بھی گیا تو جماعت اس کی قیادت نہیں کر رہی ہوگی"۔

انگلش میں پڑھیں