بنگلہ دیش میں امریکی بلاگر قتل

اپ ڈیٹ 27 فروری 2015

ای میل

پولیس اور فرانزک ماہرین بنگلہ دیشی نژاد امریکی بلاگر اویجیت روئے کو قتل کیے جانے کے مقام پر تفتیش کی غرض سے موجود ہیں—۔فوٹو/ اے ایف پی
پولیس اور فرانزک ماہرین بنگلہ دیشی نژاد امریکی بلاگر اویجیت روئے کو قتل کیے جانے کے مقام پر تفتیش کی غرض سے موجود ہیں—۔فوٹو/ اے ایف پی

ڈھاکا: بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں مذہبی انتہاپسندی کے خلاف لکھنے والے مشہور امریکی بلاگر کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا۔

خبر رساں ادارے اے پی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کو رات گئے بنگلہ دیشی نژاد امریکی بلاگر اویجیت روئے کو نامعلوم افراد نے چاقو کے وار کرکے قتل کیا۔

ڈھاکا پولیس کے سربراہ سراج الاسلام کے مطابق امریکی بلاگر روئے اپنی اہلیہ کے ہمراہ ڈھاکا یونیورسٹی کے کتابی میلے میں شرکت کے بعد واپس گھر جارہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا، حملے میں ان کی اہلیہ رفیدہ احمد بھی شدید زخمی ہوگئیں۔

دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق روئے اپنی اہلیہ کے ہمراہ کتابی میلے سے سائیکل رکشہ پر واپس اپنے گھر جا رہے تھے کہ دو حملہ آوروں نے ان کو سائیکل رکشہ سے اتارا اور چاقو سے کئی وار کرکے ہلاک کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور قتل میں استعمال کیے جانے والے چھرے جائے وقوعہ سے برآمد کر لیے گئے ہیں۔

تاہم ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

اویجیت روئے کے چھوٹے بھائی انوجیت روئے نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ روئے اسی ماہ امریکا سے واپس بنگلہ دیش لوٹے تھے۔

40 سالہ امریکی بلاگر روئے ’مکتو مونا‘ یعنی آزاد ذہن کے نام سے اپنی بنگالی بلاگ ویب سائٹ پر لبرل اور سیکولر تحریریں شائع کیا کرتے تھے۔

دوسری جانب روئے کے اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھانے پر روئے کو ماضی میں بھی متعدد مرتبہ دھمکیاں دی جاچکی تھیں۔

واضح رہے کہ اویجیت روئے گذشتہ دو سالوں میں قتل کیے جانے والے دوسرے بلاگر ہیں۔