عبوری چالان کے مطابق ایان علی قصوروار قرار

اپ ڈیٹ 30 اپريل 2015

ای میل

کسٹم حکام کی جانب سے پیش کیے گئے عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے ثابت ہوگیا ہے کہ ماڈل اسمگلنگ میں ملوث تھیں—۔ڈان نیوز اسکرین گریب
کسٹم حکام کی جانب سے پیش کیے گئے عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے ثابت ہوگیا ہے کہ ماڈل اسمگلنگ میں ملوث تھیں—۔ڈان نیوز اسکرین گریب

اسلام آباد: منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار سپر ماڈل ایان علی کے خلاف کسٹم حکام کی جانب سے پیش کیے گئے عبوری چالان میں انہیں قصوروار قرار دے گیا ہے۔

تاہم حکام گرفتاری کے وقت ایان علی سے ضبط کیے گئے موبائل فون سے ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا دوبارہ بازیاب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

عدالت میں پیش کیے گئے عبوری چالان کے مطابق اسلام آباد کے ماڈل کسٹم کلیکٹر (ایم سی سی) نے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتاری کے وقت ایان علی سے دو موبائل فون برآمد کیے تھے۔

یاد رہے کہ ماڈل ایان علی کو رواں برس 14 مارچ کو اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب دورانِ چیکنگ ان کے سامان میں سے 5 لاکھ امریکی ڈالر برآمد ہوئے تھے۔

عبوری چالان کے مطابق دونوں فون 16 مارچ کو انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو ڈی کوڈنگ کے لیے دے دیئے گئے تھے، تاہم آئی بی ان فونز سے ڈیٹا دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اور اس بات سے تحریری طور پر کسٹم حکام کو آگاہ کردیا گیا۔

20 اپریل کو یہ فون فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ڈی کوڈنگ کے لیے دیئے گئے، جس کے جواب کا انتظار کیا جارہا ہے۔

عبوری چالان میں کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں نے بھی 20 اپریل کو کسٹمز انٹیلی جنس سے ماڈل ایان علی کے قبصے سے برآمد ہونے والی رقم کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

کسٹم حکام کی جانب سے راولپنڈی کی سیشن کورٹ میں ملزمہ کے خلاف 24 اپریل کو عبوری چالان پیش کیا گیا تھا۔

تفتیش کے دوران ایف آئی اے سے ایان علی کے بیرون ملک سفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں، جن کے مطابق 2010 سے 2015 کے دوران سپر ماڈل نے 81 بار پاکستان سے باہر سفر کیا۔

عبوری چالان کے مطابق 19 مارچ کو ایان علی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بیگ سے برآمد ہونے والی رقم ان کی ذاتی تھی، جو انھوں نے بحریہ ٹاؤن کراچی میں اپنے 5 پلاٹوں کی فائلز فروخت کرکے حاصل کی تھی۔

24 مارچ کو ایان کے وکیل کی جانب سے پلاٹوں کی فروخت سے متعلق دستاویزات جمع کرائی گئیں، جن کے مطابق یہ پلاٹس 5 لاکھ، 6 ہزار، 8 سو امریکی ڈالر میں فروخت کیے گئے۔

عبوری چالان کےمطابق ایان علی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ گرفتاری سے 5 دن قبل ہی دبئی سے اسلام آباد آئیں تھیں تاکہ پلاٹس ٹرانسفر کرکے رقم حاصل کرسکیں۔

چالان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تفتیش کاروں نے پلاٹوں کو خریدنے والے شخص اور مڈل مین کو بھی نوٹسز جاری کیے کہ وہ تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہوں لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

21 اپریل کو مڈل مین کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ انھوں نے ماڈل ایان کو غیر ملکی کرنسی میں رقم ادا کی تھی۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ شواہد کے مطابق یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایان علی اسمگلنگ میں ملوث تھیں۔

عدالت کو پیش کیے گئےعبوری چالان کے مطابق غیر ملکی کرنسی ملزمہ کی تھی ، جنھوں نے یہ رقم مڈل مین اور پلاٹ خریدنے والے شخص سے حاصل کی، جو تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہونے میں ناکام رہے۔

چالان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمہ کسٹم ایکٹ اور فارن ایکس چینج ریگولیٹری ایکٹ برائے 1947 کی رُو سے تحریری اجازت کے بغیر اس کرنسی کو بیرون ملک نہیں لے جاسکتیں ۔

لہٰذا چالان کے مطابق ایان علی قصوروار ہیں۔