یمن: باغی فوج عارضی جنگ بندی پر متفق

10 مئ 2015

ای میل

جنگ بندی کے حوالے سے حوثی باغیوں کی جانب سے براہ راست کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے — اے ایف پی فوٹو
جنگ بندی کے حوالے سے حوثی باغیوں کی جانب سے براہ راست کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے — اے ایف پی فوٹو
جنگ بندی کے حوالے سے حوثی باغیوں کی جانب سے براہ راست کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے — اے ایف پی فوٹو
جنگ بندی کے حوالے سے حوثی باغیوں کی جانب سے براہ راست کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے — اے ایف پی فوٹو

یمن میں حکومت کا تختہ الٹنے والی باغی فوج نے سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے پیش کیے جانے والے جنگ بندی کے منصوبے کو قبول کرتے ہوئے عارضی جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حوثی باغیوں کو یمن کے متعدعلاقوں میں قبضہ کرنے میں مدد فراہم کرنے والی فوج کا کہنا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سعودی عرب کی جانب سے پیش کیے جانے والے پانچ روزہ جنگ بندی کے منصوبے پر متفق ہو گئے ہیں جس کا آغاز منگل سے ہو گا۔

تاہم اس حوالے سے حوثی باغیوں کی جانب سے براہ راست کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

جنگ بندی کا یہ عارضی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ نے اس جنگ میں عام لوگوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادیوں کی جانب سے باغیوں کے گڑھ سادا میں گزشتہ رات بھی بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔ اس عرب اتحادیوں کی جانب سے اس پورے صوبے کو ہی اپنا ہدف قرار دیا جا چکا ہے۔

اتحادیوں کی جانب سے صنعاء میں باغی فوج اور حوثی باغیوں کا اتحاد قائم کرنے والے برطرف صدر علی عبداللہ صالح کی رہائشگاہ پر بھی بمباری کی گئی۔

باغی فوج 2012 میں برطرف کیے جانے والے صالح مسلسل حامی رہی ہیں اور انہوں نے کئی شہروں پر قبضہ کرنے میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی بھی مدد کی۔

اقوام متحدہ کے مطابق اتحادی فوج کی بمباری سے اب تک 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر سویلین ہیں۔