بوند بوند کو ترستا کراچی

ای میل

حکومت کو ایک واٹر ریگولیٹری اتھارٹی بنانی چاہیے، جو ہر طرح کے پانی کی خرید و فروخت وغیرہ پر نظم و ضبط قائم رکھ سکے۔
حکومت کو ایک واٹر ریگولیٹری اتھارٹی بنانی چاہیے، جو ہر طرح کے پانی کی خرید و فروخت وغیرہ پر نظم و ضبط قائم رکھ سکے۔

ایک بار پھر کراچی کے شہریوں کو شدید گرمی کا سامنا ہے، اور اس تکلیف میں اضافہ پانی کی شدید کمی نے کر دیا ہے۔ جن علاقوں میں پائپ لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی ہوتی ہے، وہ مطلوبہ مقدار کے لیے کئی کئی دنوں سے تڑپ رہے ہیں، جب کہ ٹینکر مالکان اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔

پانی کی کمی کا مسئلہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، اور کے الیکٹرک کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے، اور اس سب کے دوران واٹر بورڈ اور سندھ حکومت کی نااہلی، اور دور اندیشی و منصوبہ بندی کی کمی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اب جبکہ پانی کا بحران پریشان کن حد تک بڑھ گیا ہے، تو اسے حل کرنے کے لیے معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پانی کے مسائل کو شہر کی مجموعی منصوبہ بندی، ترقی، اور نظم و نسق کو مدِنظر رکھتے ہوئے حل کیا جائے۔

کراچی میں سپلائی ہونے والے پانی کا سب سے بڑا حصہ کلری جھیل (کینجھر جھیل) سے آتا ہے، جو کہ کراچی سے 125 کلومیٹر دور واقع ہے۔ بارشوں پر منحصر حب ڈیم ڈیزائن کے مطابق اپنی صلاحیت (10 کروڑ گیلن روزانہ) سے کہیں کم پانی فراہم کرتا ہے۔ سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت پانی کی مجموعی طلب ایک ارب گیلن روزانہ ہے، جبکہ مجموعی رسد صرف 54 کروڑ 40 لاکھ گیلن روزانہ ہے، اور یہ بھی اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ K4 میگا پراجیکٹ، جو دریائے سندھ سے 26 کروڑ گیلن پانی روزانہ فراہم کرے گا، اور یہ 2020 تک مکمل ہونا ہے۔

پانی کی زیرِ زمین لائنیں اب کافی بوسیدہ ہوچکی ہیں، اور اپنی عمر پوری کرنے کی وجہ سے ان کی کارکردگی کم ہورہی ہے۔ شہر میں کئی جگہ بڑے پیمانے پر پانی لیک ہوتا ہے۔ یہ لیکج نہ صرف مرکزی لائنوں میں ہوتی ہے، بلکہ شاخوں میں بھی ہوتی ہے۔ واٹر بورڈ کے ایک سابق ایم ڈی کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 35 فیصد پانی ضائع ہوتا ہے۔

واٹر بورڈ نے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں، لیکن ان کے نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔ پانی کی چوری ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ منظم اور بڑے پیمانے پر چوری سے لے کر چھوٹے پیمانے پر چوری تک، کئی غیر قانونی کام ہیں جو پانی کی کمی پیدا کرتے ہیں۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سب کچھ واٹر بورڈ کے حکام کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔

کئی بستیوں میں پانی کی سپلائی کا واحد ذریعہ پانی خریدنا ہے۔ واٹر بورڈ کے اپنے ہائیڈرنٹس پر باقاعدہ رجسٹرڈ ٹھیکیداروں کو پانی بھرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ عام طور پر پانی کی شکایات دور کرنے کے لیے واٹر بورڈ کم آمدنی والی بستیوں میں مفت ٹینکر بھیج دیتا ہے۔ ٹینکر آپریٹر کو پھر اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے کوٹے کا آدھا پانی مارکیٹ ریٹ پر فروخت کر سکتا ہے۔ پانی کی مجموعی طلب کا دس فیصد اس طرح پورا کیا جاتا ہے۔

سرکاری ٹینکروں کے علاوہ پانی کی سپلائی غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے بھی کی جاتی ہے۔ اس طرح سپلائی کیے جانے والے پانی کا معیار پینے جیسا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر کراچی کے مغربی جانب ساکران میں ایک غیر قانونی ہائیڈرنٹ ہے، جس پر اورنگی اور بلدیہ کے شہریوں کو انحصار کرنا پڑتا ہے، بھلے ہی اس کا پانی پینے لائق نہیں ہے۔

اس طرح اپنی لوکیشن کا فائدہ اٹھا کر لوگ اپنے کوٹے سے زیادہ پانی حاصل کرلیتے ہیں۔ پانی کی موٹر لگانا غیر قانونی ہے، لیکن حکام اس سے بھی نہیں نمٹتے۔ اس کے علاوہ پانی بوتلوں میں بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ لاکھوں روپے کا یہ کاروبار بغیر کسی ریگولیشن کے جاری ہے۔

کئی مسائل کو اب بغیر کسی تاخیر کے حل کیا جانا چاہیے۔ زمین پر موجود اور زیرِ زمین پورے انفراسٹرکچر کا سروے کیا جانا چاہیے۔ اس سروے کا مقصد لوگوں کو اس انفراسٹرکچر کی حالت، اس کی کارکردگی، اس کی صلاحیت، اور اس کی خامیوں سے آگاہ کرنا ہونا چاہیے۔ یہ سروے یو سی اور ٹاؤنز کی سطح پر کروایا جانا چاہیے، تاکہ یہ مؤثر ثابت ہو۔

پھر اس تحقیق کی بنیاد پر ترقیاتی پراجیکٹس شروع کیے جا سکتے ہیں۔ پراجیکٹس کی منصوبہ بندی میں زمین کے بدلتے استعمال اور آبادی وغیرہ کو بھی مدِنظر رکھا جانا چاہیے۔ ہائیڈرنٹس کے مسئلے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ پائپ لائن کے ذریعے اور بغیر پائپ لائن کے پانی کی فراہمی کا تجزیہ ہونا چاہیے۔ اس طرح کی ایک تحقیق سے پائپ لائنوں کے نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنے کے لیے مطلوبہ چیزوں کی فہرست تیار کی جا سکتی ہے، اور ہائیڈرنٹس باقی رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہائیڈرنٹس باقی رکھنے ہی ہیں، تو انہیں ایسی جگہوں پر بنایا جائے جہاں سے ان کے ٹرانسپورٹیشن اخراجات کم ہوں۔

غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو سیل کر دیا جانا چاہیے۔ پانی کی کوالٹی پر بھی چیک ہونا چاہیے، اور واٹر بورڈ کو معمول کے مطابق ایسا کرنا چاہیے تاکہ آلودہ پانی شہریوں تک نہ پہنچے۔

خاص طور پر حکومت کو ایک واٹر ریگولیٹری اتھارٹی بنانی چاہیے، جو ہر طرح کے پانی کی خرید و فروخت وغیرہ پر نظم و ضبط قائم رکھ سکے۔ اسی میں صارفین کی طویل مدت میں بھلائی ہے۔

لکھاری این ای ڈی یونیورسٹی کراچی کے پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں، اور Water Supply in Karachi: Issues and Prospects کے مصنف بھی ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 12 مئی 2015 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔