قومی کرکٹ بچانی ہے تو اسکول کرکٹ بحال کریں

ای میل

پاکستان کے مایہ ناز ٹیسٹ کھلاڑیوں کو اسکول میچز میں ان کی کارکردگی دیکھ کر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ — اے ایف پی/فائل
پاکستان کے مایہ ناز ٹیسٹ کھلاڑیوں کو اسکول میچز میں ان کی کارکردگی دیکھ کر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ — اے ایف پی/فائل

کرکٹ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنلز میں سے پاکستان کے مایوس کن اخراج کے بعد قومی ٹیم کو بنگلہ دیش میں میزبان ٹیم کے ہاتھوں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم نے پاکستان کے خلاف پہلی بار ون ڈے انٹرنیشنل سیریز جیتی، اور پہلی بار ٹی 20 جیتا۔

اس کی ذمہ داری کھلاڑیوں اور ٹیم مینیجمنٹ پر تو ہے ہی، لیکن ایک اور وجہ ہے جس پر زیادہ تر لوگوں کی توجہ نہیں ہے۔ اور اب وقت آ چکا ہے کہ ہم جائزہ لیں کہ کیا غلط ہے، اور ہمارے پسندیدہ کھیل کو دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام دلانے میں مدد دیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے، لیکن اس سے بھی پہلے اسکول اور کالج سطح پر کرکٹ بھی ذمہ دار ہے، جو کہ فرسٹ کلاس اور اے ٹیم کے لیے کھلاڑی تیار کرتی ہے۔

پاکستان کرکٹ کا آغاز بہت ہی دھواں دھار ہوا تھا۔ اس کی پہلی ٹیسٹ جیت اس کے پہلے ٹیسٹ ٹور میں ہی تھی، جو کہ لکھنؤ میں ہندوستان کے خلاف کھیلا گیا تھا۔ اور کچھ ہی عرصے میں عبدالحفیظ کاردار کی قیادت میں یہ ٹیم ناقابلِ شکست بن کر ابھری۔

515 منٹوں میں نذر محمد کے 124 رن اور فضل محمود کی 94 رنز پر 12 وکٹوں نے پاکستان کو ہندوستان کے خلاف 43 رنز سے ٹیسٹ فتح دلوائی۔ انگلینڈ کے بعد پاکستان دوسری ٹیسٹ ٹیم تھی، جس نے اپنے دوسرے ہی ٹیسٹ میں اپنی پہلی فتح حاصل کی۔

لکھنؤ کے تاریخی ٹور کے دو سال بعد اوول ٹیسٹ کا مرحلہ آیا، جو کہ انگلینڈ کی سرزمین پر ہونے والے چار ٹیسٹ میچز میں سے آخری تھا۔ پاکستان پہلے ہی سیریز میں ایک میچ ہار چکا تھا، اور کئی جگہوں پر انگلینڈ نے اس کے چھکے چھڑا دیے تھے۔ لیکن فضل محمود کے 99 رنز پر 12 وکٹوں نے انگلینڈ کو 24 رنز سے ہرانے میں مدد دی۔

51 رنز پر پاکستان کے 7 کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے، لیکن آخری کھلاڑیوں کے ساتھ کاردار کی چھوٹی لیکن زبردست پارٹنرشپس نے پاکستان کو 133 رنز تک پہنچایا۔ فضل محمود اور محمود حسین کی شاندار باؤلنگ، بالترتیب 6 اور 4 وکٹوں کی وجہ سے پاکستان انگلینڈ کو پہلے ہی 130 پر آل آؤٹ کر چکا تھا۔

دوسری اننگز میں پاکستان نے 164 رنز بنائے۔ اور 2-109 کے انگلینڈ کے شاندار آغاز کے باوجود فضل محمود پاکستان کو انگلینڈ کی سرزمین پر پاکستان کو پہلی ٹیسٹ فتح دلوانے میں کامیاب رہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں یہ تاریخی کایا پلٹ اننگز کہلاتی ہے۔

یہ بات حیران کن ہے کہ ایسی زبردست کارکردگی کرکٹرز کی ایک نئی نسل نے دکھائی تھی۔ 1970 کی دہائی تک پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا کوئی نظام موجود نہیں تھا، لیکن اسکول/یونیورسٹی کرکٹ اور فرسٹ کلاس اسٹرکچر تقسیم کے وقت بھی اتنا مضبوط تھا کہ اگلی دو دہائیوں تک اچھے نتائج پیدا کرتا رہا۔

لاہور کے قارئین نے اپنے بڑوں سے ضرور اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ کالج کے درمیان جاری کرکٹ جنگ کے بارے میں سنا ہوگا۔ پاکستان کا پہلا ٹیسٹ اسکواڈ، جس نے 1952 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا، میں کل 18 ارکان میں سے ان دو کالجز کے 11 کھلاڑی شامل تھے۔ کھلاڑیوں کی واپسی پر اخبارات میں اکثر کھلاڑیوں کو یہ کہتے سنا گیا کہ ٹیسٹ کرکٹ اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ کالج کی کرکٹ سے آسان تھا۔ ہمارے کالج کرکٹ کا معیار کسی زمانے میں ایسا تھا۔

لاہور میں اسکول کرکٹ بھی کچھ عرصے کے لیے پھلی پھولی۔ اسلامک ماڈل اور ماڈل ہائی اسکول کے درمیان جاری کرکٹ جنگ چائے کے ہوٹلوں سے لے کر آفسوں کی کینٹینوں تک ایک گرما گرم موضوع ہوا کرتا تھا۔ پاکستان کی پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے والے اور پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میں پہلی بال کھیلنے والے نذر محمد نے اسی جنگ سے جنم لیا تھا۔ نذر محمد کی طرح فضل محمود، جنہیں لکھنؤ اور اوول ٹیسٹ کی وجہ سے جانا جاتا ہے، بھی اسلامیہ کالج کے تھے۔

اسکول اور کالج کرکٹ کی مدد سے ٹیم سلیکٹرز نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش بہتر انداز میں کرسکتے تھے۔ ہنرمند کھلاڑیوں کو اسکولوں اور کالجوں سے تلاش کر کے بی سی سی پی (بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان پاکستان) کے ٹریننگ کیمپس میں بھرتی کیا جاتا تھا، جہاں وہ مایہ ناز ٹیسٹ کھلاڑیوں سے تربیت حاصل کیا کرتے تھے۔ پھر کچھ ہی عرصے بعد وہ ٹیسٹ سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے۔ اسی مرحلے سے گزر کر پاکستان کو حنیف محمد جیسے کھلاڑی ملے۔

کراچی میں اسکول کرکٹ کی مشہور ٹرافی، روبی شیلڈ ہمیشہ بی وی ایس، سینٹ پیٹرک، اور سندھ مدرستہ الاسلام جیتتے تھے۔ حنیف محمد سندھ مدرسے کے لیے کھیلا کرتے، اور کچھ لوگوں کے مطابق جب کاردار نے انہیں منتخب کیا، تو ان کی عمر صرف 14 سال تھی۔

بے مثال حنیف اوپننگ کرتے، وکٹ کیپنگ کرتے، اور دونوں بازوؤں سے باؤلنگ کروا سکتے تھے۔ میدان میں ان کی متانت اور سنجیدگی کی وجہ سے وہ سب سے منفرد نطر آتے۔ اپنی ٹین ایج میں وہ اتنے اچھے کھلاڑی صرف سخت مقابلے والے اسکول کرکٹ کے نتیجے میں بن پائے۔

ان کی تمام پرفارمنسز درج کرنے لگیں تو کافی وقت درکار ہوگا، لیکن ان کی دو اننگز خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں: ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پاکستان کو شرمناک شکست سے بچانے کے لیے 337 رنز، اور ایک فرسٹ کلاس میچ میں 499 رنز۔

برج ٹاؤن، بارباڈوس میں 58-1957 میں محمد حنیف 16 گھنٹوں سے زیادہ وکٹ پر موجود رہے، اور پاکستان کو پہلی اننگز میں 473 رنز کے خسارے سے نکال کر میچ برابر کیا۔ اور یوں انہوں نے تاریخ کی طویل ترین اننگز کھیلی۔ یہ رکارڈ اگلے 40 سال تک قائم رہا۔

اس شاندار اننگز کے صرف ایک سال بعد ہی حنیف نے ڈان بریڈمین کا فرسٹ کلاس اننگز میں سب سے زیادہ رنز کا رکارڈ توڑتے ہوئے 499 رنز اسکور کیے۔ یہ رکارڈ بھی اگلے 35 سالوں تک برقرار رہا۔

پاکستان کرکٹ کے ابتدائی سالوں میں اگر ہماری ٹیم نے اتنی کامیابیاں سمیٹیں، تو یہ انہی کھلاڑیوں کی وجہ سے ہے۔

بعد کے سالوں میں اسکول اور کالج کرکٹ نے دم توڑنا شروع کیا۔، اور آج اس سطح کا کھیل ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ آج کے فضل محمود، نذر محمد، اور حنیف محمد سلیکٹرز کی نظروں میں نہیں آ پا رہے، کیونکہ ان کی تلاش کا یہ طریقہ کار اب ختم ہوچکا ہے۔

پاکستان کرکٹ خراب سے خراب ترین ہوچکی ہے، اور اس کی بنیادیں بھی اب باقی نہیں۔ پاکستان کرکٹ کو واپس اپنے پیروں پر کھڑا کرنے، اسے مضبوطی دینے، اور عالمی پائے کے کرکٹر پیدا کرنے کے لیے ہمیں اسکول اور کالج سطح پر کرکٹ کو فروغ دینا ہوگا۔

انگلش میں پڑھیں۔