بھٹو کی روح اور پیپلز پارٹی

30 مئ 2015

ای میل

یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی روح نے پیپلز پارٹی کو ڈوبنے اور مکمل طور پر بکھرنے سے بچا رکھا ہے، لیکن اس نے پیپلز پارٹی کو موجودہ زمانے کے مطابق خود کو ڈھالنے سے بھی روکا ہوا ہے۔

روٹی، کپڑا، اور مکان کا دہائیوں پرانا نعرہ اب بھی پارٹی کا انتخابی نعرہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب ہر الیکشن کے ساتھ یہ کم سے کم لوگوں کا نعرہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ زندہ ہے بھٹو کا نعرہ پارٹی کا تاثر ایک ایسی جماعت کے طور پر دیتا ہے، جو کہ وقت کی قید میں قید ہو کر رہ گئی ہو۔ پارٹی رہنما اکثر اپنے ووٹ بینک کی باتیں کرتے ہیں، لیکن جس طرح بینک بیلنس ختم ہو سکتا ہے، اسی طرح ووٹ بینک بھی ختم ہو سکتا ہے۔

اب پارٹی کے پاس موجودہ مسائل کے لیے بھی وہی پرانے حل رہ گئے ہیں۔ اس کے لیڈر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیمار سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف نعرے بلند کر کے اپنے حامیوں میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن ریلوے، پی آئی اے، اور پاکستان اسٹیل مل جیسے ادارے جو سالوں سے خسارے میں ہیں، ٹیکس دہندگان کے پیسے پر چل رہے ہیں۔ اگر ان کی نجکاری کر دی جاتی، تو بچنے والا پیسہ تعلیم اور صحت پر خرچ کیا جا سکتا تھا۔ لیکن کیونکہ پارٹی نے 1970 کی دہائی میں نجی اداروں کو قومی تحویل میں لیا تھا، اس لیے یہ پالیسی اب مقدس بن چکی ہے۔

1960 میں جب پیپلز پارٹی قائم کی گئی تھی، تو اس وقت یہ ایک ماڈرن اور ترقی پسند جماعت تھی جس کے پاس ملکی مسائل کے لیے نئے خیالات اور حل موجود تھے۔ اب یہ ایک تھکی ہاری تحریک ہے جس میں توانائی ختم ہو چکی ہے۔ زیادہ تر قیادت صرف اپنی ذاتی ترقی پر توجہ دیے ہوئے ہے جبکہ کچھ نظریاتی شخصیات پارٹی سے صرف اس لیے جڑی ہوئی ہیں کیونکہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔

جیو ٹی وی کے حامد میر کے ساتھ ایک تازہ انٹرویو میں پی پی پی کے ڈی فیکٹو لیڈر آصف زرداری نے فخریہ طور پر کہا کہ ان کی پارٹی نے 2013 کے انتخابات میں سندھ میں کامیابی حاصل کی۔ یہ لیجیے، پی پی پی کا مقصد سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ اپنے گڑھ میں حکومت قائم رہے، اور خراب حکمرانی کے ذریعے یہاں سے فائدے حاصل کیے جاتے رہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ چیف جسٹس، آرمی چیف، اور میڈیا کا پانچ سال مقابلہ کرنے کے بعد اب آصف زرداری نے بہت جھیل لیا ہے، اور وہ اپنی آرامدہ جگہ پر ہیں۔ مرکزی اہمیت اور جھگڑوں سے دور اب وہ سندھ کے حکمران ہیں جہاں ان کا مکمل کنٹرول ہے۔

اور اس سب کے باوجود پاکستان کو ایک بائیں بازو کی جماعت کی ضرورت ہے جو کمزوروں اور خطرے میں گھرے ہوئے لوگوں کے لیے آواز اٹھائے۔ مسلم لیگ کے مختلف دھڑے پنجاب کے قدامت پسند امیر اور متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف نے شہری نوجوانوں اور پروفیشنلز کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔ پر بھلے ہی اس کے رہنما جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کے خلاف ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کس چیز کے حامی ہیں۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے قائد کے استعفے، اور حالیہ عام انتخابات میں پارٹی کی شکست پر اٹھنے والے سخت سوالات کو دیکھ کر میں ایسے کسی بھی احتساب کی پی پی پی میں عدم موجودگی پر حیران ہوں۔ ایک ایسی جماعت جو واضح قومی جماعت سے کم ہو کر ایک صوبائی جماعت بن چکی ہے، لیکن اب بھی اس کے قائدین اس حوالے سے خاموش ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔

عمران خان کے دھاندلی کے الزامات نے پی پی کو ایک آسان بہانہ تھما دیا ہے۔ زرداری بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کی سیٹیں حقیقت میں زیادہ تھیں۔ لیکن کوئی بھی شخص جو 2013 کے انتخابات سے پیشتر پنجاب میں پارٹی کی بری حالت سے واقف ہو، وہ سمجھ جائے گا کہ پی پی پی کے ساتھ جو ہوا، وہ عوامی فیصلہ تھا۔

لیکن اگر پی پی پی نہیں، تو پھر اقلیتوں، خواتین، اور غریبوں کے لیے آواز کون اٹھائے گا؟ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کی بائیں بازو کی جماعتیں نظریاتی جنگوں اور حسد میں الجھی رہی ہیں جس کی بناء پر وہ کوئی معنی خیز کام نہیں کر سکیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی زبردست قیادت نے کئی بائیں بازو کے کارکنان کو اپنی جانب راغب کیا۔

لیبر پارٹی اپنی شکست کی ایک وجہ یہ قرار دیتی ہے کہ ایڈ ملی بینڈ کا جھکاؤ بائیں بازو کی جانب کچھ زیادہ ہی تھا، جس کی وجہ سے وہ ان ووٹرز کا دل جیتنے میں ناکام رہے جو اپنے گھر خریدنا چاہتے تھے، یا پھر چھوٹے کاروبار شروع کرنا چاہتے تھے۔ پارٹی کی ٹونی بلیئر ونگ نے انہیں زیادہ بائیں جانب جانے سے منع کیا تھا۔ یہ واضح ہے کہ ٹونی بلیئر دائیں اور بائیں کے درمیان میں رہ کر تین الیکشن جیت چکے ہیں۔

یہ ان کی روایتی سوشلسٹ بنیاد کو ناپسند تو ضرور ہوگا، لیکن انتخابی حقائق کا تقاضہ ہے کہ پارٹیاں لوگوں، سماج، اور اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہوتی رہیں۔ ورنہ صرف شکست مقدر ہوتی ہے۔ اس وقت اس بات پر سخت بحث جاری ہے کہ لیبر پارٹی کا نیا لیڈر کون ہونا چاہیے اور پارٹی کو کیسی راہ منتخب کرنی چاہیے۔

لیکن اپنی ناکامیوں کی جانچ کا کوئی نظام پی پی پی میں موجود نہیں ہے۔ پارٹی انتخابات جیسی چیز آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے کے لیے کوئی اہم چیز نہیں، کیونکہ بینظیر بھٹو کی وصیت ان کے لیے کافی ہے۔

اپنے ٹی وی انٹرویو میں آصف زرداری نے حکومتِ سندھ کی خراب کارکردگی پر آرمی چیف کی تنقید کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ راحیل شریف کو اپنا کام کرنا چاہیے، اور سندھ حکومت کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔ یہ ہماری خوش قسمتی کی بات ہے کہ جنرل راحیل شریف پی پی پی کی صوبائی حکومت سے زیادہ اچھی کارکردگی رکھتے ہیں۔

انگلش میں پڑھیں۔

[email protected]

یہ مضمون ڈان اخبار میں 30 مئی 2015 کو شائع ہوا۔