سندھ کے عوامی سیاستدان: عبدالمجید 'جیٹھانند' سندھی

19 جون 2015

ای میل

فاطمہ جناح اور شیخ عبدالمجید سندھی 1964 میں۔ — talpur.com
فاطمہ جناح اور شیخ عبدالمجید سندھی 1964 میں۔ — talpur.com

گذشتہ دنوں ہمارے بلاگ ”بیچارہ ریڈیو پاکستان“ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ہم دمِ دیرینہ ولی محمد صاحب نے فرمایا کہ ہم لکھتے تو ٹھیک ہیں، لیکن کبھی دائیں بازو کی نامور شخصیات کے بارے میں نہیں لکھا۔ گزارش یہ ہے کہ تقسیم سے قبل دائیں اور بائیں کی سیاست تو ضرور ہوتی تھی لیکن اس میں نمایاں بات سیاہ اور سفید کی ہوتی تھی۔ کوئی مذہبی شخصیت ہو یا سیکیولر، اس کا کردار دیکھا جاتا تھا نہ کہ نظریات۔ شیخ عبد المجید سندھی بھی ان ہی میں سے ایک تھے۔

پیر علی محمد راشدی 80 کی دہائی میں شائع ہونے والے اپنے کالموں کے مجموعے، جو 2002 میں چھپا تھا، کے صفحہ نمبر 69 پر لکھتے ہیں:

”شیخ صاحب مرحوم کو پاکستان کی خدمت کا موقع نہیں دیا گیا۔ جیسے ہی نوکر شاہی کے تعاون سے ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا، تو اس کو 85 سال کی عمر میں اس گناہ کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا کہ اس نے ایک کاغذی عرضداشت Petition of Rights بصورتِ قرارداد مرتب کی تھی جس کا مفہوم یہ تھا:

”اے سلطان ابنِ سلطان، فی الحال شہنشاہِ پاکستان، جنرل ایوب خان، فیلڈ مارشل (بغیر کوئی جنگ لڑے)، زمین و زمان، خالق شوشہ بنیادی جمہوریان، اللہ تعالیٰ آپ کو فتحِ پاکستان اور اس پر آپ کا شخصی راج مبارک کرے کیوں کہ شروع میں یہ ملک آپ ہی نے اپنی تلوارِ آبدار سے انگریز اور ہندو دونوں کو میدان جنگ میں شکست دے کر حاصل فرمایا تھا (جب سیاست دان اور ہندوستان کے مسلمان ووٹر محض بکواس کرتے پھرتے تھے)۔

”اس وقت ہم سوختہ سامان، بندگان درگاہ، بندوق پائیگاہ کی التجا صرف اتنی ہے کہ پاکستان میں بسنے والے ان بے زبان، انسان نما کیڑوں مکوڑوں کو (جن کو عرفِ عام میں عوام کہا جاتا ہے)، ان کے پیدائشی، جمہوری، اور انسانی حقوق سے مزید وقت محروم نہ رکھا جائے، اور شعبدہ بازیوں اور جھوٹی زبانی طفل تسلیوں کو چھوڑ کر ان کی طرف انسانی جمہوری حقوق کا ٹکڑا پھینک کر، ان کو اقوامِ عالم کے سامنے مستقلاً بے آبرو ہو کر رہنے سے بچا لیا جائے۔“

اس 85 سال کے بوڑھے بیمار کی تب جا کر ایوبی عتاب سے جان چھوٹی جب اللہ تعالیٰ نے خود ایوب خان کو ہٹانے کا انتظام فرمایا۔ عوام کو حقوق پھر بھی نہیں ملے، صرف اتنا ہوا کہ ایوب خان کی جگہ یحییٰ خان آگیا۔ یعنی یک نہ شد دو شد۔

شیخ صاحب کے اجداد سہون شریف سے ہجرت کر کے ٹھٹھہ میں آباد ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق قانون کی مہارت رکھنے والے ہندو عاملوں کی شاخ نویانی سے تھا۔ سائیں جی ایم سید اپنی کتاب ”جنب گذاریم جن سیں“ (میرے ہم دم، میرے رفیق) میں لکھتے ہیں کہ:

”شیخ صاحب کا نام جیٹھا نند تھا۔ وہ 7 جولائی 1889، 8 ذوالقعد 1306 ہجری کو اتوار کے دن پیدا ہوئے۔ 10 فروری 1908 کو انہوں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کا اسلامی نام عبدالمجید رکھا گیا۔ ہندوؤں کے احتجاج پر انہیں کچھ عرصے کے لیے لُدھیانہ بھیج دیا گیا۔ جہاں سے وہ جلد کراچی لوٹ آئے۔ کراچی کے حالات سازگار نہ پا کر وہ حیدرآباد منتقل ہو گئے۔“

شیخ صاحب نہ صرف سندھ اور انڈیا، بلکہ بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی سیاسی پیشن گوئیاں ہمیشہ سچ ثابت ہوتی تھیں۔ اس حوالے سے ان کا مطالعہ اتنا وسیع تھا کہ سندھ کے نامور سیاست دان ان کو اپنا رہنما مانتے تھے۔ وہ انتخابی سیاست کی روح سے بھی بخوبی واقف تھے اور ان کے انتخابی فیصلے ہمیشہ کامیاب ہوتے تھے۔

انہوں نے ایسا ہی ایک فیصلہ کیا اور وہ سر شاہ نواز بھٹو کے خلاف انتخابات میں حصہ لینا تھا۔ لاڑکانہ میں سر شاہ نواز بھٹو کے خلاف انتخابات لڑنا ایک انقلابی فیصلہ تھا۔ شیخ صاحب کا تعلق عوام سے تھا، اور ان کا انداز بھی عوامی تھا۔ ان کی انتخابی مہم بیل گاڑیوں پر چلائی گئی، جب کہ سر شاہ نواز بھٹو کے حمایتی ان کی مہم جیپوں پر چلا رہے تھے۔ پیر علی محمد راشدی اپنی کتاب ”اُھے ڈینھں اُھے شینھں“ (وہ دن وہ لوگ) کے صفحہ نمبر 162 پر لکھتے ہیں کہ:

”انہوں نے سر شاہ نواز بھٹو مرحوم کے حلقے سے امیدوار ہو کر سر صاحب کو شکست دے کر سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ سر شاہ نواز سندھ کی سیاست سے ہمیشہ کے لیے خارج ہو گئے۔ بعد ازاں انہوں نے بمبئی میں ایک سرکاری عہدہ حاصل کیا۔“

محمد ایوب کھوڑو، شیخ عبدالمجید سندھی، اور جی ایم سید۔     .
محمد ایوب کھوڑو، شیخ عبدالمجید سندھی، اور جی ایم سید۔ .

سر شاہ نواز بھٹو کی پڑپوتی فاطمہ بھٹو اپنی کتاب ”Songs of Blood and Sword“ (ترانہ ہائے خنجر و خون) کے صفحہ نمبر 43 پر اس تمام واقعے کو اپنے منفرد انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اپنے پڑ دادا سر شاہ نواز بھٹو کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے ان کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لینے والے شیخ عبدالمجید سندھی کو وہ ایک غیر معروف اور غیر مقامی شخصیت قرار دیتی ہیں۔

کاش وہ یہ سطور لکھنے سے پہلے شیخ عبدالمجید سندھی کے بارے میں کچھ مطالعہ کر لیتیں، تو مجھے یقین ہے یا تو ان کے یہ خیالات کتاب میں شامل نہ ہوتے، اور اگر ہوتے تو طرزِ تحریر کچھ الگ ہوتا۔ فاطمہ نے جو لکھا ہے، ہم اُسے من و عن بیان کرتے ہیں:

”1935 میں برطانوی راج نے انڈیا ایکٹ کے تحت مختلف صوبوں میں کونسلیں قائم کیں اور اکتوبر 1937 میں انتخابات ہوئے۔ چونکہ ان دنوں سندھ صوبے میں کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی، اس لیے یہ انتخابات بہت غیر معمولی تصور کیے جا رہے تھے۔ سر شاہ نواز بھٹو جو کہ زہر مار کرنے والے غلام مُرتضیٰ کے بیٹے تھے اور برطانوی راج کی طرف سے متنازع قرار دیے گئے تھے، اپنے علاقے لاڑکانہ سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کھڑے ہوئے۔

"وہ ایک زمیندار، معزز، اور وہاں کے مقامی شخص تھے اور کافی اثر و رسوخ رکھتے تھے، لیکن پھر بھی ہار گئے۔ ایک نہایت غیر معروف اور غیر مقامی شخص شیخ عبدالمجید سندھی نے سر شاہ نواز بھٹو کوان انتخابات میں شکست دے دی۔ بعد میں یہ افواہ بھی سُننے میں آئی کہ شیخ کو بھٹو قبیلے کے کچھ افراد کی در پردہ مدد حاصل تھی تا کہ سر شاہ نواز بھٹو کو مقامی سیاست سے فارغ کیا جا سکے۔“

وہ مزید لکھتی ہیں کہ: ”سر شاہ نواز پرانے خیالات کے آدمی تھے۔ انہوں نے انتخابات میں شیخ عبدالمجید سندھی کی اس خود کار جیت اور اپنی شکست کو دھوکہ جانا لیکن اس معاملے کو آگے نہیں بڑھایا۔ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ سندھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 1938 میں بمبئی منتقل ہوگئے۔“

ہمیں نہیں معلوم کے فاطمہ بھٹو نے انہیں غیر معروف شخصیت کس طرح قرار دیا ہے، یا ان کے نزدیک کسی شخص کے معروف ہونے کا معیار کیا ہے۔ شیخ صاحب کی صلاحیتوں سے اس زمانے میں سب بخوبی واقف تھے۔ وہ ہندوستان کی سیاست میں پیش پیش رہے، اور اُنہیں آل پارٹیز کانفرنس کا صدر بھی بنایا گیا۔ ہندوستان کی سیاسی قوتوں اور جملہ قوموں کو بھی ان کی صلاحیتوں کے آگے اپنا سر تسلیمِ خم کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ شیخ عبد المجید سندھی نے سندھ کی صوبائی سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ وہ بمبئی کونسل کے ممبر رہے۔ اس کے بعد انہوں نے سندھ اسمبلی کی رکنیت بھی حاصل کی۔ سیاست کے علاوہ وہ صحافت سے بھی کافی عرصہ وابستہ رہے۔ انہوں نے سندھ کے واحد روزنامے الوحید کی ادارت بھی کی۔ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرنے کی تحریک میں بھی انھوں نے بھرپور حصہ لیا۔

شیخ صاحب انتہائی سادہ قسم کے انسان تھے۔ مسلم لیگ سے ان کا بے حد لگاؤ تھا، اور وہ مسلم لیگ کو منظم کرنا چاہتے تھے۔ اس حوالے سے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی سندھ میں ایک شاخ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کام کے لیے انہوں نے کچھ سیاسی شخصیات کو مشاورت کے لیے اپنے گھر مدعو کیا۔ اس مشاورت کا احوال جی الانا نے شیخ صاحب پر لکھی گئی کتاب ”شیخ عبدالمجید سندھی، زندگی اور کامیابیاں“، جس کے مصنف خان محمد پنہور ہیں، کے ابتدائیے میں یوں بیان کیا ہے:

”میں اس وقت شیخ صاحب کی طرف سے دی گئی دعوت میں شریک تھا۔ قریب 12 افراد نے وہاں شرکت کی تھی۔ شیخ صاحب کے گھر میں اتنی کرسیاں نہیں تھیں لہٰذا ہم سب نیچے فرش پر بیٹھ گئے۔ شیخ صاحب نے ہمیں آل انڈیا مسلم لیگ کی سندھ میں شاخ قائم کرنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے اس کی اہمیت بھی بتائی، اور اس حوالے سے انہوں نے بہت پختہ دلائل دیے۔ ہم سب ان کی اس تجویز پر متفق ہوگئے۔ ہم نے متفقہ طور پر شیخ صاحب کو اس نئی قائم ہونے والی سندھ مسلم لیگ کا صدر منتخب کیا۔ اب سوال یہ اُٹھا کہ اس پارٹی کا سیکریٹری جنرل کسے بنایا جائے؟ اس بات پر بھی ہم سب نے متفقہ رائے قائم کی اور فیصلہ شیخ صاحب پر چھوڑ دیا۔“

پیر علی محمد راشدی اپنی کتاب ”اُھے ڈینھں اُھے شینھں“ (وہ دن، وہ لوگ) میں لکھتے ہیں کہ 1938 میں منعقد ہونے والی کراچی مسلم لیگ کانفرنس میں شیخ صاحب نے تاریخی قرارداد پیش کی جس نے تحریک تقسیم برصغیر و قیام پاکستان کی بنیاد ڈالی۔

قیامِ پاکستان کے بعد شیخ صاحب سیاسی طور پر معتوب ٹھہرے۔ وہ شخص جس نے ہندو سے مسلمان ہونے کے بعد جس جوش و جذبے سے ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کے لیے نہ صرف آواز اٹھائی، بلکہ عملی طور پر بھی جدوجہد کی، ان کی ان تمام خدمات کا صلہ دینے کے بجائے انہیں سیاسی اچھوت قرار دے دیا گیا۔

ان کا کردار مثالی تھا اور ان کی شخصیت اتنی وسیع اور کثیر الجہت تھی کہ ایک بلاگ میں اس کا احاطہ ممکن نہیں۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ اس حوالے سے ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کر سکیں، لیکن یہ بحرِ بیکراں ہے جو بلاگ جیسے کوزے میں نہیں سما سکتا۔