دنیا کو دہلا دینے والا شامی بچہ سپردخاک

اپ ڈیٹ 04 ستمبر 2015

ای میل

عبداللہ اپنے تین سالہ بیٹے ایلان کی میت کو سنبھالے ہوئے ہے — اے ایف پی فوٹو
عبداللہ اپنے تین سالہ بیٹے ایلان کی میت کو سنبھالے ہوئے ہے — اے ایف پی فوٹو

بیروت : ترکی کے ساحل پر مردہ حالت میں ملنے والے تین سالہ بچے ایلان، اس کے بھائی غالب اور والدہ کی تدفین جمعے کو شام کے علاقے کوبانی میں کردی گئی۔

تدفین میں شرکت کرنے والے ایک مقامی صحافی مصطفیٰ عبادی نے بتایا " ایلان شینو، اس کے بھائی اور والدہ کی تدفین آج کوبانی میں ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ہر آنکھ اشک بار تھی"۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی سے کشتی کے ذریعے یونان پہنچنے کی کوشش کرنے کے دوران ہلاک ہونے والے ان تینوں کی تدفین کوبانی کے شہداءقبرستان میں کی گئی۔

تین سالہ ایلان، چار سالہ غالب اور والدہ ریحانہ بدھ کو ترکی کے ساحلی علاقے میں ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں : شامی بچے کی دل لرزا دینے والی تصویر

بچوں کے والد عبداللہ کردی بچنے میں کامیاب رہے ، مصطفیٰ عبادی کے مطابق جب تدفین کے موقع انہوں نے لوگوں کے سامنے خطاب کیا تو عبداللہ " مکمل طور پر دل شکستہ اور گم صم" نظرآئے۔

عبداللہ نے سوگواروں کے سامنے کہا " میں اس سانحے پر کسی کو ذمہ دار نہیں سمجھتا، میں خود کو ہی اس کا الزام دیتا ہوں، مجھے اب پوری زندگی اس کی قیمت چکانا ہوگی"۔

عبداللہ کا کہنا تھا کہ ان کے بچے شام کی چار سالہ خانہ جنگی کے متعدد متاثرین میں سے ایک ہیں اور انہوں نے ملک کو " سانحات سے نکالنے کے لیے حل" کی بھی درخواست کی۔

عبداللہ کو جب کہا گیا کہ " دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہے" تو غم زدہ باپ کا کہنا تھا اب ان کے لیے دنیا میں زندہ رہنے کے لیے کچھ نہیں رہ گیا " اب میں دنیا سے کیا مانگوں، میں نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے"۔

یاد رہے کہ عبداللہ جمعہ کو اپنے بچوں اور اہلیہ کی میتوں کے ہمراہ ترکی سے اپنے آبائی قصبے کوبانی پہنچا تھے۔

ایلان اور غالب — اے پی فوٹو
ایلان اور غالب — اے پی فوٹو

کوبانی شام کا وہ علاقہ ہے جہاں کرد ملیشیا اور دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے عسکریت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور کرد فورسز نے کئی ماہ کی جدوجہد کے بعد رواں برس جنوری میں اس قصبے سے آئی ایس کو باہر نکالا تھا۔

عبداللہ کا خاندان کئی بار شام کے اندر بے گھر ہونے کے بعد جون میں کوبانی واپس لوٹا تھا مگر آئی ایس جنگجوﺅں کی جانب سے دوبارہ محاصرے کے بعد وہ پھر سے نکل گیا۔

اس کے بعد عبداللہ کے خاندان نے ترکی کے راستے یورپ پہنچنے کا فیصلہ کیا جس کے دوران یہ سانحہ پیش آیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ترکی سے بذریعہ سمندر یونان جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور کشتیاں ڈوبنے کے واقعات بھی میڈیا پر آتے رہتے ہیں، لیکن مہاجرین کو پیش آنے والے حالیہ المناک واقعے نے یورپی عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ یورپی یورپین پر اس حوالے سے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا جارہا ہے۔