مگر عینی ہندوستان کیوں گئی؟

18 ستمبر 2015

ای میل

قرۃ العین حیدر کی اپنی زندگی کے آخری سالوں میں لی گئی تصویر۔ — فوٹو بشکریہ Library of Congress Office, New Delhi.
قرۃ العین حیدر کی اپنی زندگی کے آخری سالوں میں لی گئی تصویر۔ — فوٹو بشکریہ Library of Congress Office, New Delhi.

قرۃ العین حیدر کا شمار اردو ادب کے ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے اسلوب کے ذریعے افسانہ اور ناول نگاری کو ایک منفرد حیثیت بخشی۔ قرۃ العین حیدر اگست2007 میں اس دنیا سے جسمانی طور پر کوچ کر گئیں لیکن ان کی تحریریں 8 برس کے بعد بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ قرۃ العین حیدر (جنہیں پیار سے عینی کہا جاتا تھا) تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوگئی تھیں، مگر چند برس یہاں گذارنے کے بعد انڈیا لوٹ گئیں اور وہاں کی شہریت حاصل کر لی۔

پاکستان میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے اپنا شہرہ آفاق ناول ”آگ کا دریا“ لکھا۔ آگ کا دریا ناول ہے یا مشترکہ ہندوستان کی تاریخ، اس حوالے سے ناقدین بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ یہ ناول صدیوں کی تاریخ پر محیط ہے۔ ناول کا ہیرو گوتم نیلمبر برِعظیم کی تبدیلی اور ثقافتی رویے کے ایک ایسے نمائندے کے طور پر نظرآتا ہے جو صدیوں سے سفر میں ہے۔ ہمارے قارئین میں سے جن افراد کی نظر سے یہ ناول گزرا ہے انہیں بہ خوبی اس بات کا اندازہ ہوگا کہ قرۃ العین حیدر اس ناول میں صرف ناول نگار ہی نظر نہیں آتیں بلکہ وہ ایک ایسی مؤرخ نظر آئی ہیں جس نے یہ ناول لکھنے کے لیے صدیوں کی تاریخ کا گہرا مطالعہ و مشاہدہ کیا ہو۔ وہ جس انداز سے ناول کا اختتام کرتی ہیں وہ بھی کمال ہے۔ ناول کے ہیرو گوتم نیلمبر کے ایک شمشان گھاٹ کے قریب سے گزرنے کے منظر کو وہ یوں بیان کرتی ہیں:

”وہ گوری شنکر کی اونچی چوٹی پر چڑھ کر بادلوں میں چھپ گیا۔ چوٹی پر دوزانو بیٹھ گیا اور اس نے دیکھا کہ چاروں اور خلا ہے اور اس میں ہمیشہ کی طرح وہ تنہا موجود ہے۔ دنیا کا ازلی اور ابدی انسان، تھکا ہوا شکست خوردہ، بشاش، پر امید۔ انسان جو خدا میں ہے اور خود خدا ہے۔ وہ مسکرا کر نیچے اترا اور اس نے آنکھیں کھولی۔ جاگنے والوں کا جاگنا مبارک ہو۔ قانون کا پرچار مبارک ہو۔ سنگھ میں امن مبارک ہو۔ ان لوگوں کی ریاضت مبارک ہو جنہیں شانتی میسر آگئی ہے۔ شاکیہ منی نے کہا۔ وہ منڈیر پر سے اترا۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا اور آہستہ آہستہ قدم رکھتا بستی کی طرف واپس چلا گیا۔“

مظفر حنفی نے اپنی ایک تحریر میں آگ کا دریا پر تنقید اور اس کی توصیف بھی کی ہے۔ ان کے بقول بلا شک آگ کا دریا اپنی چھوٹی موٹی کمزوریوں کے باوجود اردو ناول کے میدان میں ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آگ کا دریا کے رد عمل میں ہی ہمارے ادب میں کئی اور بڑے ناولوں کا اضافہ ہوا ہے جن میں اداس نسلیں، سنگم، علی پور کا ایلی، خدا کی بستی، لہو کے پھول اور متعدد دوسرے ناولوں کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ آگ کا دریا صرف ایک ناول نہ تھا بلکہ یہ ایک ایسا دھماکا خیز اور بارودی مواد تھا جس کے چھوتے ہی بہت سارے دھماکے ہو جاتے تھے اور علم شعور آگاہی فہم ادراک سے محروم لوگ اس دھماکے کی آواز سے ہی مر جاتے تھے اور جو بچ جاتے تھے وہ تمام عمر اس کا ماتم کرتے رہتے تھے۔

اختر حامد خان اپنی کتاب ”چند تبصرے“ جو ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے، میں قرۃ العین حیدر کی تصانیف کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی ابتدائی تحریروں میں ایک مخصوص طرز کی انگریزی رومانیت نظر آتی ہے۔ زبان میں روانی اور شگفتہ نیا پن ہے۔ ان کے ناول ایک سہانے خواب کی طرح لگتے ہیں، لیکن آگ کا دریا کے بارے میں وہ یوں رقم طراز ہیں:

”آگ کا دریا ان کے پچھلے تمام ادب پاروں سے مختلف، اس کو پڑھ کر قاری نیند سے بیدار ہوجاتا ہے، یہ سوچنے پر مجبور کہ قرۃ العین حیدر نے اتنا بڑا ناول آخر کس مقصد سے لکھا۔ پاکستان میں رہ کر ”آگ کا دریا“ لکھنا میری سمجھ میں بالکل نہیں آیا۔

"اس ناول میں شروع سے لے کر آخر تک مسلمانوں کا کردار اور نظریہ کمزور۔ یہ پتہ لگانا بے حد دشوار کہ قرۃ العین حیدر کہنا کیا چاہتی ہیں؟“ آگ کا دریا کی مصنفہ قرۃ العین حیدر اپنی سوانح عمری ”کارِ جہاں دراز ہے“ کے صفحہ نمبر 689 سے 692 پر اس داستان کو یوں بیان کرتی ہیں:

”اتوار کی ایک صبح جمیل الدین کا فون آیا۔ آپ نے آج کا جنگ اور مورننگ نیوز دیکھے؟“

”ہمارے پاس یہ دونوں اخبار نہیں آتے۔ کیا ہوا؟ خیریت؟“

”اچھا میں ابھی آتا ہوں۔“

چند منٹ بعد تشریف لائے۔ دونوں اخباروں میں ایک ہی صاحب جن کا نام پہلے کبھی نہیں سنا تھا، کا ایک طویل بیہودہ مضمون آگ کا دریا پر شائع ہوا تھا جو مکتبہ جدید لاہور سے تین ماہ قبل چھپا تھا۔ دو اخباروں میں یکساں مضمون بزبان اردو اور انگریزی ایک ہی روز چھپنا قابلِ غور معاملہ تھا۔ میں نے دونوں مضمون پڑھے۔

”یہ کون صاحب ہیں اور یہ کس کی سازش ہے۔ سمجھ نہیں آتا۔“ عالی نے کہا۔

”میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔ سازش وازش کیا ہوگی۔ اس قسم کے لوگوں کو اگنور کرنا چاہیے۔“ میں نے کہا۔

”نہیں۔ یہ کافی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ مفسدین کے فتنوں سے ہمیشہ خبردار رہیے۔“

”لیکن اس فتنہ پردازی کی وجہ ہی کیا ہے؟“ میں نے تعجب سے پوچھا۔

”میں گلڈ کی طرف سے ان صاحب کو نوٹس بھیجتا ہوں۔ آپ نے مضمون سرسری طور پر پڑھا ہے ذرا غور سے پڑھیے۔“ عالی نے مجھ سے کہا۔

دوسرے روز اردو مضمون کا بقیہ طویل حصہ جنگ میں شائع ہوا۔ ملک اور شہر میں خاصی سنسنی پھیلی، احباب اور بہی خواہوں نے گارڈ روڈ آ کر اس مضمون کی وہ اشاعت کی مختلف النوع تہلکہ خیز تاویلیں شروع کیں۔ مختار من نے اپنے قانونی مشورے پیش کیے۔ سب بے انتہا پریشان اور برا فروختہ تھے۔ راولپنڈی سے ایک دوست نے مطلع کیا کہ معلوم ہوا ہے کہ یہ صاحب پہلے کسی صوبائی وزیر کے پی آر او تھے اور سے قبل چند لوگوں کو بلیک میل کر چکے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

عالی نے کمال احمد فاروقی (عرف بوبی جو لندن سے قانون پڑھ کر کب کا واپس آچکا تھا اور بیرسٹری کر رہا تھا) سے مشورہ لیا، بعد ازاں رائٹرز گلڈ کی طرف سے جنگ میں ایک احتجاجی نوٹ چھپوایا اور مضمون نگار کو نوٹس بھیجا۔ اس دوران میں مضمون نگار نے چند اور لوگوں سے لکھوا کر یا فرضی ناموں سے جنگ میں چند خطوط بطور جواب الجواب شائع کیے کہ گلڈ چند ادیبوں کی میراث بن گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔

وہ ایک عجیب و غریب مضمون تھا جس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ کمیونسٹ اور ملحد کامریڈ رشید جہاں مصنفہ کی سگی خالہ تھیں۔ بتاریخ 7 مئی مضمون نگار نے اس مضمون کے متعلق مصنفہ کے نام معافی نامہ لکھ کر مرزا جمیل الدین عالی کی خامت اقدس میں پیش کیا اور اس کی ایک نقل جنگ میں شائع کی۔ تیسرے پہر کو عالی شاداں فرحاں تشریف لائے۔ "مغل بچہ مرزا صاحب نے فرمایا جان پر کھیل کر قول نبھاتا ہے۔ یاد کیجیے ہمایوں نے راجپوت رانی کے لیے کیا کیا تھا۔"

"جزاک اللہ"، میں نے عرض کیا، "اسی وجہ سے فدویہ فیوڈل اقدار کی ہمیشہ سے نام لیوا چلی آتی ہے۔"

اس روز سے قصہ رفع دفع ہوا۔ لیکن بہت جلد رفتہ رفتہ پاکستان و ہند میں اس ناول کے متعلق ایک عجیب و غریب myth تیار ہونی شروع ہوگئی۔

ایک باب میں میں نے محض دو الفاظ لکھے تھے ”ہندوستان 1947“ یعنی تھوڑا لکھے کو بہت جانیے، لیکن ایک بوجھ بھجکڑ نے اپنے تبصرے میں تحریر کیا: ”تقسیم کے متعلق پورا باب مارشل لاء کے سنسر نے حذف کر دیا صرف ایک جملہ باقی بچا ہے۔“ سب سے عبرتناک افواہ جو ہندوستان میں پھیلی وہ یہ تھی کہ حکومت پاکستان نے آگ کا دریا کو بین کر دیا ہے۔

ایک نامور پروفیسر نقاد نے ناول پر ایک توصیفی مضمون لکھا۔ اس میں غلو آمیز تعریف کے اس قدر دریا بہائے کہ پڑھ کر کوفت ہوئی۔ میں نے شاہد احمد دہلوی سے جو اس مضمون کو ساقی میں شائع کر رہے تھے، درخواست کی کہ اسے شامل نہ کریں۔ شاہد صاحب بے چارے مان گئے۔ ایک ملازم نے ساقی کے پلندے کھولے اور تمام کاپیوں میں سے وہ تبصرہ پھاڑ کر علیحدہ کیا۔ دو ماہ بعد جب جنگ میں وہ نامعقول مضمون چھپا اور نامور نقاد نے دیکھا کہ اس ناول کے متعلق ہوا کا رخ بدل گیا ہے۔ انہوں نے ایک اور تبصرہ رقم کیا اور پچھلی مرتبہ جتنی تعریفیں کی تھیں، اس بار آگ کا دریا میں اتنے ہی کیڑے ڈالے۔ شاہد صاحب نے پھر مجھ سے اس کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ اس مرتبہ آپ ضرور اس مضمون کو چھاپیے، چنانچہ وہ مضمون ساقی میں شائع ہوا۔

تلمیحات اور علامتوں سے عمومی بے نیازی کی وجہ سے مختلف رسالوں میں مزید عجیب و غریب تاویلیں کی گئیں۔ مصنفہ نظریہ تناسخ کی قائل ہیں۔ مصنفہ بدھسٹ ہیں، ہندو ہیں، اسرائیل پرست ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

دوسری روایت ہندوستان میں یہ تیار ہوئی کہ مصنفہ کو اس ناول کی اشاعت کے بعد پاکستان میں بے حد پروسیکیوٹ کیا گیا۔ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا اور بے چاری کو وہاں سے بھاگ کر ہندوستان میں پناہ لینی پڑی۔ ہندوستان میں یہ اب تک مشہور ہے کہ پاکستان میں ناول پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب یہ جھوٹی کہانی تیار ہوئی کہ اس کتاب کی رائلٹی نے دونوں ممالک میں مصنفہ کو مالا مال کر دیا۔ عبرتناک حقیقت یہ ہے کہ دسمبر 1959سے لے کر آج تک مکتبہ جدید لاہور نے اس ناول کے قطعی فری ایڈیشن شائع کیے ہیں اور اٹھارہ ڈیلکس ایڈیشن ساٹھ روپے قیمت کا چھاپ چکے ہیں۔ ہندوستان میں 61 سے اب تک جعلی ایڈیشن لکھنؤ جالندھر اور جموں سے شائع ہوچکے ہیں اور ان چوروں کو آج تک نہیں پکڑا گیا۔ جدید اردو ادب کی تاریخ میں یہ پہلا کثیر الاشاعت ناول ہے جس کی رائلٹی کا ایک پیسہ اس کے لکھنے والے کو آج تک نہیں ملا۔ احقر کے ہم وطن قائم چاند پوری پہلے ہی کہہ گئے تھے۔

کہ میں یہ کر کے فضولی بہت زیاں دیکھا

بر سبیل تذکرہ اداس نسلیں کے متعلق انٹرویو میں مصنف نے ارشاد فرمایا کہ وہ عاجزہ کو ایک قابلِ ذکر ناولسٹ نہیں سمجھتے۔ اس بیان کی روشنی میں یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ اداس نسلیں کے متعدد ابواب میں میرے بھی صنم خانے، سفینہء غم دل، آگ کا دریا، اور شیشے کے گھر کے چند افسانوں کے اسٹائل کا گہرا چربہ اتارا گیا ہے۔ خفیف سے رد و بدل کے ساتھ پورے پورے جملے اور پیرا گراف تک وہی ہیں لیکن آج تک سوائے پاکستانی طنز نگار محمد خالد اختر کے کسی ایک پاکستانی یا ہندوستانی نقاد کی نظر اس طرف نہیں گئی اور نہ کسی نے اشارتاً بھی اس کا ذکر کیا۔ کیا یہ مردانہ بالادستی کا اظہار نہیں ہے؟

عینی کی پاکستان سے انڈیا منتقلی کے حوالے سے ایک ہی کہانی مشہور ہے کہ آگ کا دریا ان کی انڈیا منتقلی کا سبب بنا لیکن اس بارے میں قرۃ العین حیدر کا قلم اور زبان دونوں خاموش ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی پاکستان سے اپنی انڈیا منتقلی کے بارے میں کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا اور نا ہی اس سلسلے میں کوئی تحریر لکھی۔ انڈیا منتقلی سے قبل وہ انگلستان گئی تھیں۔ اپنی انگلستان روانگی کی کہانی وہ اپنی سوانح عمری ”کارِ جہاں دراز“ کے صفحہ نمبر 700 اور 701 پر یوں لکھتی ہیں:

”ایک سہانی صبح نمبر 16 ڈی گارڈن پر شمس الدین مالی کیاریوں میں پانی دے رہے تھے۔ جب اپنے کمرے کے دریچے میں کھڑے کھڑے میں نے دفعتاً طے کیا کہ اماں کو علاج کے لیے انگلستان لے جانا چاہیے۔ اور اگر وہاں مستقلاً قیام کیا جائے تو مضائقہ نہیں۔“

لیکن آخر وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بناء پر قرۃ العین کو پاکستان چھوڑنا پڑا اور دوبارہ انڈیا کی شہریت اختیار کرنی پڑی؟ اس حوالے سے قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ”شہاب نامہ“ کے صفحہ نمبر 721 پر ”صدر ایوب اور ادیب“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:

”جب مارشل لاء نافذ ہوا تو اس کے ساتھ ہی اخبارات پر بڑا کڑا سنسر بھی قائم ہو گیا۔ افواہیں پھیلانا بھی جرم تھا۔ مارشل لاء لگتے ہی ایک روز صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے پاس آئی۔ بال بکھرے، چہرہ اداس، آنکھیں پریشان۔ آتے ہی بولی: ”اب کیا ہوگا؟“

”کس بات کا کیا ہوگا؟“ میں نے وضاحت طلب کی۔

”میرا مطلب ہے اب ادبی چانڈو خانوں میں بیٹھ کر Loose Talk کرنا بھی جرم ٹھہرا۔“

”ہاں۔“ میں نے کہا۔ ”گپ شپ بڑی آسانی سے افواہ کے زمرے میں آکر قابلِ گردن زنی قرار دی جا سکتی ہے۔“ ”تو گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی عائد ہے؟“ عینی نے بڑے کرب سے پوچھا۔

میں نے مارشل لاء کے ضابطے کے تحت بھونکنے کے خطرات و خدشات کی کچھ وضاحت کی تو عینی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ آنسو چھپانے کے لیے اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کسی قدر لاپرواہی سے کہا۔ ”ارے بھئی، روز روز کون بھونکنا چاہتا ہے۔ لیکن بھونکنے کی آزادی کا احساس بھی تو ایک عجیب نعمت ہے۔“

"میرا اندازہ ہے کہ قرۃالعین حیدر کے تحت الشعور نے اس روز اس لمحے پاکستان سے کوچ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔“

کئی برس قبل محقق و ادیب حمزہ فاروقی نے قدرت اللہ شہاب کی اس تحریر کے بارے میں بتایا کہ اردو مرکز لندن میں قرۃ العین حیدر نے انہیں بتایا کہ قدرت اللہ شہاب کا یہ بیان غلط ہے انہوں نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔

اختر حامد خان کے ”آگ کا دریا“ پر تنقیدی تبصرے کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ اس کے مطابق یہ بات ان کی سمجھ سے باہر تھی کہ قرۃ العین حیدر نے آگ کا دریا کیوں لکھا۔ وہ اپنے تنقیدی مضمون کے آخر میں قرۃ العین حیدر کی انڈیا دوبارہ منتقلی کا جواز ان کے ہی ناول سے یوں دیتے ہیں:

”میرے خیال میں کمال پاکستان آ تو جاتا ہے مگر یہاں وہ اپنے آپ کو غیر محسوس کرتا ہے۔ مہاجر خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ وہ اس علاقے میں بس گئے ہیں لیکن پرانے وطن کو بار بار یاد کرتے ہیں۔

"قرۃ العین حیدر نے اس روحانی کرب کی اچھی تصویر کھینچی ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہی روحانی کرب ان کو ہندوستان لے گیا۔ ان کا کمال رضا ہندوستان جا کر واپس آگیا، لیکن وہ خود اپنی ہیروئن چمپا احمد کی طرح وہیں رہ گئیں۔“

معروف ادیب اور دانشور آصف فرخی اور ان کے خاندان کے قرۃ العین حیدر سے گہرے مراسم تھے۔ ہم نے یہ جاننے کے لیے کہ آخر قرۃ العین حیدر کی دوبارہ انڈیا منتقلی کے اسباب کیا تھے، ڈاکٹر آصف فرخی سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق یہ ایک سربستہ راز ہے۔ خود عینی نے اس بارے میں کبھی لب کشائی نہیں کی۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان سے جب بھی اور جتنی ملاقاتیں ہوئیں، وہ پاکستان کا ذکر بڑی محبت سے کرتی تھیں۔

ڈاکٹر فرخی نے ایک اور دلچسپ انکشاف یہ کیا کہ قرۃ العین حیدر کے انتقال کے بعد بھی ان پر پاکستان میں سنسر شپ ختم نہیں ہوئی۔ ان کا ایک مضمون ”سرود شبانہ“ فیض صاحب کے حوالے سے بھارت میں چھپا تھا جو آصف فرخی صاحب نے ”داستان طراز“ میں 2008ء میں دوبارہ شائع کیا۔ بعد ازاں یہ مضمون پاکستان کے سرکاری ادبی رسالے ”ماہِ نو“ میں شائع ہوا۔ مضمون شائع ہونے کے بعد معروف ادیب اور کالم نگار انتظار حسین نے انہیں اطلاع دی کہ اس مضمون کے کچھ حصے اشاعت سے قبل نکال دیے گئے ہیں۔

یہ تو تھی ڈاکٹر آصف فرخی کی بات۔ سوال اب یہ تھا کہ آخر قرۃ العین حیدر واپس انڈیا کیوں گئیں؟

ایک سینیئر ادیب اور کالم نگار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمیں بتایا کہ یہ معاملہ صرف ”آگ کا دریا“ کا نہیں تھا۔ عینی خوش شکل تھی۔ غیر شادی شدہ تھی۔ نہ صرف رائٹرز گلڈ بلکہ جن محکموں میں انہوں نے ملازمت کی، کچھ افسران ان سے شادی کرنا چاہتے تھے یا ان سے رسم و راہ رکھنا چاہتے تھے۔ عینی دونوں صورتوں کے لیے تیار نہیں تھی۔

ایک اور پہلو یہ تھا کہ عینی کے والد سنی العقیدہ تھے اور ان کی والدہ اہل تشیع۔ لہٰذا کس عقیدے والے کا رشتہ قبول کیا جائے؟ عینی ہمیشہ ایسے سوالوں سے اجتناب برتتی تھیں، جن میں ان کی شادی اور انڈیا منتقلی کا ذکر ہوتا تھا۔ عینی کی انڈیا منتقلی کی بڑی وجہ تو ”آگ کا دریا“ نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کے پدرسری معاشرے میں جی رہی تھیں، جس میں خاتون کتنی ہی قابل کیوں نہ ہو، اس کا استعمال سب کو ایک ہی طرح نظر آتا ہے۔