لکھاری لاہور اور اسلام آباد میں فزکس پڑھاتے ہیں۔
لکھاری لاہور اور اسلام آباد میں فزکس پڑھاتے ہیں۔

ان کے ساتھی ریپبلکن بھی انہیں جنونی قرار دے چکے ہیں، لیکن تمام سیاسی پنڈتوں کی پیشگوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ریپبلکن ووٹرز میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ امریکا کے اگلے صدر بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے پہلا قدم، جو اب بالکل آسان ہے، ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی جیتنا ہے۔

کئی امریکی واشنگٹن کی لبرل پالیسیوں کے خلاف حد سے زیادہ غصہ میں ہیں، اور ٹرمپ اس بات کو مکمل طور پر جانتے ہیں، اور انہیں معلوم ہے کہ غصے اور نسل پرستی کا اظہار ایسے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ وہ 1960 کی دہائی کے امریکی ریاست الاباما کے گورنر جارج والس کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں جو سیاہ فاموں سے سخت نفرت کرتے تھے اور اپنے جلسوں میں کھلے عام سیاہ اور سفید فام لوگوں کے درمیان علیحدگی کی حمایت میں نعرے لگایا کرتے تھے۔ ٹرمپ کے کچھ دعوے نہایت ہی عجیب و غریب ہیں: کہ زیادہ تر میکسیکن تارکینِ وطن مجرم اور خواتین سے زیادتی کرنے والے ہیں، جبکہ صدر اوباما ایک دوسرے ملک میں جنم لینے والے مسلمان ہیں۔

واٹرگیٹ اسکینڈل کے لیے مشہور امریکی سیاسی مبصر جان ڈین ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک "تقریباً مطلقِ العنان رہنما" قرار دیتے ہیں، ان کے مطابق ان کی شخصیت ان لوگوں جیسی ہے جو "ڈرانے دھمکانے والے، کچھ حد تک دوسروں کے حقوق کو اپنی خوشی اور لذت پر قربان کرنے والے، انتقام پر تیار، بے رحم، استحصال کرنے والے، دوسروں پر دبدبہ جمانے والے، بددیانت، دھوکے سے جیتنے والے، حد سے زیادہ بدگمان اور متعصب، خود غرض، جنگجو، قوم پرست، دوسروں کو ان کی من پسند باتیں سنانے والے، چاپلوسوں سے فائدہ اٹھانے والے اور اپنی مشہوری کے لیے دوسروں کے بارے میں غلط فہمی پھیلانے والے ہوتے ہیں اور مذہبی بھی ہو سکتے ہیں اور غیر مذہبی بھی۔"

اس سب میں سے "کچھ حد تک" نکال دیں تو یہ عمران خان پر بھی کم و بیش پورا آتا ہے جنہوں نے 2011 میں لاہور میں ایک عظیم الشان جلسے کے ساتھ پاکستانی سیاست میں قدم رکھا۔ عمران خان نے اسٹیج پر عوام سے چاند تاروں کا وعدہ کیا اور کامیابی کی دعائیں مانگیں۔

عمران خان کے حامیوں میں بھانت بھانت کے لوگ شامل ہیں: پڑھے لکھے "برگر بچے"، دولتمند بیگمات، نیم خواندہ جنونی نوجوان، اور طالبان کے حامی۔ ان سب کو خوش رکھتے ہوئے وہ وقتاً فوقتاً اپنے سیاسی مخالفین پر نازیبا الفاظ کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں جو ان پر مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی تو دیتے ہیں، لیکن پاکستان کے پیچیدہ عدالتی نظام کی وجہ سے باز رہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان ظاہری روپ کے اعتبار سے مختلف مگر اپنے جوہر میں ایک ہیں، اور ان دونوں نے ہی نسل پرست اور مذہبی انتہاپسندوں کو متاثر کیا ہے۔ سیاہ فاموں سے نفرت اور سفید فاموں کی برتری کا پرچار کرنے والی تنظیم Ku Klux Klan کے سابق رہنما ڈیوڈ ڈیوک کے مطابق "ڈونلڈ ٹرمپ تمام صدارتی امیدواروں سے زیادہ بہتر ہیں۔" عمران خان کو اس سے بھی زیادہ تعریف و توصیف ملی۔ گذشتہ سال طالبان سے مذاکرات (جو منسوخ ہوگئے تھے) کے لیے طالبان نے انہیں اپنا نمائندہ قرار دیا تھا، کیونکہ انہوں نے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف "امن" مارچ کیے تھے۔ طالبان پر مکمل ذمہ داری ڈالنے کے بجائے عمران خان سارا ملبہ امریکا پر ڈالتے رہے۔

عقیدت کی حد تک حمایت کرنے والے لوگوں کو جارح رہنما پسند ہوتے ہیں۔ ٹرمپ، جنہیں امریکی تاریخ کا کھردرا ترین سیاستدان کہا جاتا ہے، نوکیلے اور ہتک آمیز الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جبکہ عمران خان بھی ایسے ہی اپنا بلا گھماتے ہیں۔ نازیبا زبان کے استعمال پر ویسے بھی کوئی پکڑ نہیں۔ گذشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہائی غلط انداز میں کہا کہ فاکس ٹی وی کی میزبان میگن کیلی، (جنہوں نے سی این این کے لیے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ سے تابڑ توڑ سوالات کیے تھے) کی "آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔" عمران خان نے دھرنے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا تھا کہ نواز شریف بدحواسی میں اپنی شلوار گیلی کر چکے ہیں۔

اس طرح کے رہنماؤں کو حامی کیسے مل جاتے ہیں؟ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ آرام سے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ کسی کے غلام نہیں، اور سب سے بہتر ہیں۔ وہ آسانی سے سیاسی مخالفین کو پستہ قد، بدعنوان، اور نااہل قرار دے سکتے ہیں (یہاں عمران خان کا کام ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ آسان ہے)۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک سیلف میڈ انسان ہیں جنہوں نے ریئل اسٹیٹ بزنس کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے، اور مین ہٹن کے مہنگے ترین علاقے میں کئی ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ ان کی ذاتی دولت کا تخمینہ 4 ارب ڈالر کے نزدیک ہے جو آج کے ارب پتیوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔

عمران خان بھی سیلف میڈ ہیں۔ وہ دنیا کے بہترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں جو بیٹنگ، باؤلنگ، اور کپتانی، تینوں کر سکتے ہیں۔ ان کا کینسر ہسپتال پروفیشنل مینجمنٹ کا ایک بہترین ماڈل اور ایک اہم عوامی خدمت ہے، بھلے ہی عبدالستار ایدھی کے کام کے سامنے یہ کچھ نہیں۔

دوسری وجہ: دونوں ہی لوگ بے حد خود پسند ہیں۔ اس خودپسندی سے لوگوں کو متنفر نہیں ہوجانا چاہیے؟ عام حالات میں خود پسندی کو شخصیت میں انتشار تصور کیا جاتا ہے مگر ایسا سیاست میں نہیں ہے۔ سیاسی اکھاڑے میں اکثر وہی لوگ جیتتے ہیں جو خود میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ساری توجہ اور طاقت انہیں ہی حاصل ہونی چاہیے۔ اب ایسا کیوں ہے، یہ جاننا ماہرینِ نفسیات کا کام ہے۔

سحر انگیز قسم کے خود پسند لوگ بے سر پیر منصوبوں کے ساتھ بھی عوامی جوش و جذبہ آسمانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ میکسیکو سے لگنے والی امریکا کی جنوبی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کریں گے تاکہ میکسیکو سے لوگوں کی امریکا آمد روکی جا سکے۔ انہوں نے اسے دیوارِ چین سے تشبیہ دیتے ہوئے دیوارِ ٹرمپ قرار دیا ہے۔ وہ نہیں جانتے، اور جاننا بھی نہیں چاہتے کہ منگ حکمرانوں کی 13 ہزار میل لمبی دیوارِ چین بھی منچورینوں کو روکنے میں ناکام رہی تھی۔

مگر عمران خان کے خیالات تو ٹرمپ کے منصوبوں کو بھی چندھیا دیتے ہیں۔ "اقتدار میں آ کر ہم کرپشن 19 دنوں میں اور دہشتگردی 90 دنوں میں ختم کر دیں گے۔" یہ 19 دن بعد میں 90 دن پر چلے گئے۔ اضافی 71 دن کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، اس کا کوئی جواب موجود نہیں۔ لیکن اسے ایک طرف رکھیں۔ عمران خان کو خیبر پختونخواہ میں حکومت حاصل کیے ہوئے 887 دن ہوچکے ہیں۔ اب تک تو کرپشن اور دہشتگردی اپنے اختتام کو پہنچ جانی چاہیے تھی نا؟

تو بات صرف اتنی ہے کہ سحر انگیز شخصیت رکھنے والے یہ خود پسند لوگ صرف ایک غبارے کی طرح ہوتے ہیں جن کے اندر ہوا کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ بہت خطرناک ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ لوگ ملکی قیادت میں ہوں، تو ملک کو جنگ کی طرف لے جا سکتے ہیں، وسائل کا بے دریغ ضیاع کر سکتے ہیں، اور داخلی خانہ جنگی اور تشدد کو فروغ دے سکتے ہیں۔ حقیقت میں قیادت اعلیٰ کارکردگی والی ٹیم کا نام ہے، جس میں عوامی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح ہوتی ہے، اور اہلیت کو خود اعتمادی پر۔ جب تک عوام یہ بات نہیں سمجھیں گے، تب تک وہ خود پسند لوگوں کو قائد منتخب کرتے رہیں گے، جبکہ زیادہ بہتر متبادل لوگ نظرانداز کر دیے جائیں گے۔

انگلش میں پڑھیں۔

لکھاری لاہور اور اسلام آباد میں فزکس پڑھاتے ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 19 ستمبر 2015 کو شائع ہوا۔