برف پوش وادیوں کے بے گھر مکین

اپ ڈیٹ 05 نومبر 2015

Email


گلگت بلتستان میں زلزلے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے راستہ بند ہے۔ 26 اکتوبر 2015. فوٹو حسین ناگری
گلگت بلتستان میں زلزلے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے راستہ بند ہے۔ 26 اکتوبر 2015. فوٹو حسین ناگری
پشاور کے ایک ہسپتال میں طبی عملہ ایک زخمی بچی کو طبی امداد دے رہا ہے۔ 26 اکتوبر 2015. فوٹو اے ایف پی۔
پشاور کے ایک ہسپتال میں طبی عملہ ایک زخمی بچی کو طبی امداد دے رہا ہے۔ 26 اکتوبر 2015. فوٹو اے ایف پی۔

اکتوبر کے مہینے میں پاکستان کو بری طرح سے متاثر کرنے والے دو بڑے زلزلوں کے درمیان دس سال کا وقفہ رہا۔ شکر ہے کہ اس بار ہلاکتوں کی تعداد کم رہی، زخمی بھی نسبتا کم ہوئے، اور دیہات، قصبے اور شہر بھی کم برباد ہوئے۔ مگر نقصانات کی کمی میں ہمارا کوئی کمال نہیں تھا بلکہ زلزلے کا مرکز دور بھی تھا اور گہرائی بھی زیادہ تھی، اسی لیے شدت زیادہ محسوس نہیں ہوئی اور نقصانات بھی کم ہوئے۔

اس زلزلے سے ایک بات ضرور ثابت ہوئی کہ ان دس سالوں میں ہم نے بڑے بڑے ادارے قائم کر کے ہزاروں افراد کو تنخواہیں دے کر مالا مال تو کر دیا ہے، مگر سیکھا کچھ بھی نہیں۔ اگر سیکھا ہوتا تو ہمارے پاس ایسے طریقہ کار موجود ہونے چاہیے تھے کہ متاثرین کی تعداد اور ان کے نقصانات کا تخمینہ جلدی لگا لیا جاتا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کا پورا شعبہ اب بھی ایک مرکز پر ہے، جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ضلع اور تحصیل کی سطح پر بنائے گئے ادارے اب بھی بہت کمزور ہیں۔

ایک اور تشویشناک بات یہ تھی کہ ایک طرف اس ملک کے ہزاروں شہری زندگی اور موت کی کشمکش میں گھرے ہوئے تھے، اور دوسری طرف ایک شخص کی نجی زندگی کے ایک واقعے نے پورے ملک کو لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ اب بھی یہ متاثرین کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار بیٹھے ہیں، جبکہ میڈیا کی توجہ اس ایک واقعے اور اس کی مبینہ وجوہات پر ہی مرتکز ہے۔ کمرشل میڈیا کی ترجیحات پر افسوس کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے؟

انسانیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کسی ایک فرد کا نقصان بھی بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔ کسی ایک گھر کا گرنا بھی اس گھر کے مکینوں کے لیے قیامت کی طرح ہوتا ہے۔ کسی ایک کھلیان کا اجڑنا بھی کسی کنبے کے لیے بہت بڑی تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ حالیہ زلزلوں میں تو ہزاروں گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، اور اس وقت ہزاروں افراد تباہ شدہ گھروں کے ملبے کے قریب خیمہ نشین ہیں۔

میں چترال، دیر اور گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور ضلع دیامر کے متاثرین کے بارے میں بہت فکرمند ہوں کیونکہ ان علاقوں اور ان کے قرب و جوار میں واقع اضلاع میں شدید سردی پڑتی ہے۔ اس سردی کا مقابلہ ایک سنگل فلائی یا ڈبل فلائی خیمے کے اندر رہتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مقابلہ ایک بوری آٹے سے بھی نہیں ہوسکتا اور لاکھوں روپے کے چیک بھی اس سردی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

پہاڑی علاقوں میں گرمیوں کے دوران کسان محنت مشقت سے اتنا سامان ذخیرہ کر لیتا ہے کہ سردیاں آرام سے گزر جاتی ہیں۔ ذخیرہ شدہ سامان میں گندم، آلو، جو، باجرے کے علاوہ جلانے کے لیے لکڑی، سوکھے ہوئے درخت اور دیگر اشیاء شامل ہوتی ہیں۔ یہ سامان اس لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے کیونکہ سردیوں میں ان کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔ مطلب یہ کہ گرمیوں میں سخت مشقت اس لیے کی جاتی ہے تاکہ سردیوں میں گزارہ کیا جا سکے۔

اب یوں سمجھیے کہ ان علاقوں میں سردیوں کا عروج بس شروع ہی ہوا چاہتا ہے۔ پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ تو ستمبر کے اواخر سے ہی شروع ہو جاتا ہے، اب اکتوبر گزر چکا ہے اور نومبر کے بھی تین دن گزر چکے ہیں۔ مطلب یہ کہ برف اب صرف پہاڑوں پر ہی نہیں، بلکہ بہت جلد وادیوں میں بھی پڑنی شروع ہوگی۔ اگر ان خوبصورت وادیوں میں برفباری نہ بھی ہو تو بھی سردیوں کی ٹھنڈی دھوپ میں دو کوٹ یا لمبے اونی چوغے پہنے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔

اب یہ عالم ہے کہ چترال اور غذر کے ہزاروں افراد خیموں میں مقیم ہیں۔ ان خیموں کے اندر آگ جلانا خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس حالت میں خیمہ نشین افراد، خصوصاً بزرگ، خواتین اور بچے زندہ کیسے رہیں گے، اپنا علاج کس سے کروائیں گے؟

حکام نے خیمے اور چند کلوگرام خشک خوراک فراہم کر کے گویا اپنے فرضِ منصبی سے سبکدوشی کا اعلان کردیا ہے۔ ہلاک شدگان کے لواحقین کو چھ لاکھ روپے فراہم کرنا ٹھیک ہے، لیکن دو لاکھ روپوں سے ان علاقوں میں مضبوط، زلزلے سے محفوظ گھر تعمیر کرنا ناممکن ہے۔ ابھی تو نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ ابھی مکمل طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ کتنے گھر، مویشی خانے، دکانیں اور کارخانے تباہ ہوئے ہیں۔ جب یہ معلومات اکٹھی کر لی جائیں گی اور ان کی تصدیق کا کام مکمل ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد روپوں کی تقسیم کا عمل شروع ہوگا۔ اللہ جانے اس میں کتنا وقت لگے گا۔ اور اگر یہ دو لاکھ روپے فراہم کر بھی دیے جائیں، تو بھی سردیوں کے موسم میں نئے گھر تعمیر کرنا سخت مشکل ہے۔

ان علاقوں میں عموماً اکتوبر کے بعد تعمیراتی کام بند کر دیا جاتا ہے، کیونکہ سخت سردی میں تعمیراتی سامان جمع کرنا جان جوکھوں کا کام ہے، اور لرزتے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ کام کرنا بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا فی الحال ایسا لگتا ہے کہ بے گھر افراد کی اکثریت کو مجبوراً سخت ترین سردیوں کے دوران ان خیموں میں ہی رہنا پڑے گا۔

موجودہ صورتِ حال ایک تباہ کن رخ اختیار کر سکتی ہے کیونکہ سلسلہ ہائے ہندوکش و ہمالہ میں واقع یہ اضلاع بہت دور افتادہ ہیں۔ یہاں صحت اور علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ منڈیوں سے دوری کی وجہ سے یہاں ضروریاتِ زندگی آسانی سے میسر نہیں ہوتیں۔

حکام اور اداروں کو چاہیے کہ موسمِ سرما میں ان متاثرہ خاندانوں کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی کام شروع کیا جائے۔ آپ کی طرف سے مہیا کیے گئے خیمے اور کمبل اس علاقے کی برفباری کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اگر فوری طور پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو خدانخواستہ جو جانی نقصان زلزلے سے نہیں ہوا، وہ اس جان لیوا سردی کی وجہ سے ہوگا۔