’آرمی چیف کا دورہ وزیر اعظم کی منظوری سے‘

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2015

ای میل

سول ملٹری قیادت ہر معاملے پر اتفاق ہے اور دونوں قیادتوں کے درمیان کسی حوالے سے کوئی تقسیم نہیں — فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی
سول ملٹری قیادت ہر معاملے پر اتفاق ہے اور دونوں قیادتوں کے درمیان کسی حوالے سے کوئی تقسیم نہیں — فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی

اسلام آباد: وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان کشیدگی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی افواہیں پھیلانے والے کسی بھونچال کی امید نہ رکھیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران چوہدری نثار نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اپنی مرضی سے دورہ امریکا کی خبروں کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس دورے کی سمری کی منظوری وزیر اعظم نواز شریف نے دی تھی۔

انہوں نے کہا جنرل راحیل شریف نے دورہ امریکا سے ایک روز قبل روز قبل وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔

انہوں نے سول ملٹری تعلقات کو پاکستان کی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سول ملٹری قیادت ہر معاملے پر اتفاق ہے اور دونوں قیادتوں کے درمیان کسی حوالے سے کوئی تقسیم نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف سمیت تمام سروسز چیفس کے دوروں کی باقاعدہ سمری بھیجی جاتی ہے اور ان کا غیر ملکی دورہ وزیر اعظم کی منظوری سے ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کا ایجنڈا مختلف نہیں، دونوں ملکی مفاد میں بین الاقوامی قیادت سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی معاملے پر اختلاف رائے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھونچال آنے والا ہے۔

یورپی ممالک سے ری ایڈمیشن معاہدے کی معطلی

وزیر داخلہ نے یورپی یونین سے تارکین وطن کے ری ایڈمیشن معاہدے کی معطلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے خلاف سازش ہے، جس کی معطلی کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں بلکہ ملکی مفاد میں سوچ سمجھ کر کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں یورپی یونین کا وفد آئندہ پاکستان کا دورہ کرے گا اور وفد کے ساتھ مذاکرات میں ہم اپنے تحفظات ان کے سامنے رکھیں گے، جبکہ وہ اس حوالے سے یورپی ممالک کے سفیروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن

چوہدری نثار نے انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہ ان انسان دشمنوں کے خلاف کراچی تا خیبر کریک ڈاؤن جاری ہے، جبکہ قانونی طریقوں اور دستاویزات کے تحت بیرون ملک بھجوانے والوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

ہندوستانی شہری کے تمام رکاوٹیں پار کرتے ہوئے واہگہ بارڈر کے گیٹ سے گاڑی ٹکرانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستانی حکام کے مطابق واقعے کے وقت وہ شخص نشے میں تھا لیکن صرف یہ وضاحت کافی نہیں، ہندوستانی حکام سے پوچھا گیا ہے کہ وہ بتائیں کہ کیسے ایک شخص تمام رکاوٹیں عبور کرتا ہوا سرحدی گیٹ تک پہنچا۔

منی لانڈرنگ کا معاملہ

خانانی اینڈ کالیا منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ کئی اہم شخصیات سمیت تقریباً 63 ہزار افراد نے خانانی اینڈ کالیا کے ذریعے اربوں روپے بیرن ملک منتقل کیے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ یہ کیس سالوں تک زیر التوا رہا اور اس کی صحیح طریقے سے پیروی نہیں کی گئی، تاہم اب اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور اس کی ایف آئی آر میں ترمیم یا نئی آیف آئی آر درج کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کو فعال کرنے کے لیے ایک ارب 6 کروڑ روپے جاری کردیے گئے ہیں۔

ای سی ایل سے نام خارج کرنے کا معاملہ

ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نام خارج کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب تک 9 ہزار سے زائد افراد کے لسٹ سے نام خارج کیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چند افراد کے نام 1985 سے لسٹ میں شامل تھے جبکہ کئی بچوں کے نام بھی شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تقریباً 3 ہزار افراد کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں، لسٹ میں کسی کا نام شامل کرنے یا خارج کرنے کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔