9/11 حملوں پر مسلمانوں نے خوشیاں منائیں، ٹرمپ

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2015

ای میل

امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ—۔فائل فوٹو/ رائٹرز
امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ—۔فائل فوٹو/ رائٹرز

واشنگٹن: امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے وقت نیوجرسی میں مسلمانوں کو خوشیاں مناتے ہوئے دیکھا تھا.

تاہم ٹرمپ کے اس دعوے کو پولیس کی جانب سے سختی سے مسترد کردیا گیا.

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ہفتے کو برمنگھم، الباما میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے یہ 'کہانی' سنائی اور پیرس حملوں کے تناظر میں کچھ مساجد سمیت مسلمانوں کی کڑی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا.

ٹرمپ کا کہنا تھا، "میں نے دیکھا جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت زمین بوس ہو رہی تھی تو جرسی سٹی، نیو جرسی میں ہزاروں افراد عمارت کے گرنے پر خوشیاں منارہے تھے".

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے یہی 'کہانی' اتوار کو اے بی سی چینل پر جارج اسٹیفنو پولس کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران بھی دہرائی.

جب جارج نے ٹرمپ پر واضح کیا کہ پولیس کی جانب سے ان افواہوں کی تردید کردی گئی ہے تو ٹرمپ کا کہنا تھا ،" یہ ہوا تھا، میں نے یہ دیکھا تھا".

" میں نے ٹی وی پر دیکھا کہ نیو جرسی کی دوسری طرف، جہاں عربوں کی اکثریت ہے، لوگ بڑی تعداد میں خوشیاں منا رہے تھے، وہ خوش تھے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت زمین بوس ہورہی ہے".

مزید پڑھیں:امریکا میں مساجد بند کردوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ نے انٹرویو کرنے والے جارج سے کہا، "میں جانتا ہوں کہ سیاسی لحاظ سے اس پر بات کرنا آپ کے لیے درست نہیں ہے، لیکن وہاں ایسے لوگ تھے جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت گرنے پر خوش ہورہے تھے".

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر جرسی سٹی کے میئر اسٹون فولوپ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ٹرمپ صریحاً غلط ہیں اور وہ شرمناک انداز میں ایک حساس معاملے کو سیاسی رخ دے رہے ہیں۔"

فولوپ کا مزید کہنا تھا، "11 ستمبر کو جرسی سٹی میں کسی نے خوشیاں نہیں منائی تھیں، بلکہ ہم اُن لوگوں میں سے تھے جنھوں نے لوئر مین ہٹن میں سب سے پہلے مدد فراہم کی تھی"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "نائن الیون حملوں کے بعد کچھ مغربی ایشائی ممالک میں خوشیاں منائے جانے کی فوٹیج نشر ہوئی تھیں تاہم جرسی سٹی میں ہزاروں لوگوں کے جشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے"۔

فولوپ کا کہنا تھا، " ٹرمپ کو یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جرسی سٹی اُن کی نفرت انگیز مہم کا حصہ نہیں بنے گی"۔

ان کا مزید کہنا تھا، "واضح طور پر یا تو ٹرمپ کی یادداشت خراب ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر سچ کو تباہ کر رہے ہیں، دونوں صورتوں میں یہ ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرے کی بات ہے"۔

واضح رہے کہ نائن الیون حملے کے بعد یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ امریکی مسلمانوں نے اس پر جشن منایا تھا، تاہم پولیس اور مذہبی رہنماؤں نے اسی وقت ان افواہوں کا مسترد کردیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف اکثر وبیشتر متنازع بیانات دیتے رہتے ہیں، کچھ عرصہ قبل بھی امریکی نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر منتخب ہونے کے بعد امریکا میں تمام مساجد بند کرنے کے احکامات جاری کریں گے۔

شو کی میزبان کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں مساجد بند کرنے سے کوئی خوشی نہیں ہوگی، لیکن جب مساجد سے دہشت گردی کے رجحان کو فروغ دیا جارہا ہو اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہو تو ایسا کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو امریکا کے لیے مختلف منصوبوں میں، ’نظریہ جہاد‘ کے انسداد کا منصوبہ بھی شامل ہوگا۔