حکومت اور باغی جنگ بندی پر متفق، یمنی حکام

21 مارچ 2016

ای میل

— فائل فوٹو/ اے ایف پی
— فائل فوٹو/ اے ایف پی

صنا: یمنی حکام کا کہنا ہے کہ حوثی باغی اور یمنی حکومت مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے قبل ایک یا دو ہفتے کی جنگ بندی کیلئے متفق ہوگئے۔

خیال رہے کہ مذاکرات حوثی باغیوں اور اقوام متحدہ کے سفیر اسمائیل اولد کے درمیان ہونے جارہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یمنی حکام کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز آئندہ ماہ متوقع ہے۔

حکام نے بتایا کہ حوثی باغی اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کیلئے متفق ہوگئے ہیں جس میں دونوں فریقین سے مذاکرات کے آغاز سے قبل دارالحکومت صنعا سمیت مختلف علاقوں سے واپس جانے اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: حوثی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی

خیال رہے کہ اس سے قبل یمن میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا اور دونوں فریقین ایک دوسرے کو حملوں اور شورش کا ذمہ دار قرار دیتے رہے۔

واضح رہے کہ حوثی قبائل نے ستمبر 2014 میں یمن کے دارالحکومت کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

حوثی قبائل نے یمن کے صدر ہادی کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا تھا اور وہ عدن کی اہم بندرگاہ سمیت دیگر کچھ علاقوں کے حصول کے لیے لڑرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یمن: باغی فوج عارضی جنگ بندی پر متفق

یاد رہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی خلیجی ممالک نے حوثی قبائل کے خلاف گزشتہ سال مارچ میں فوجی طیاروں سے بمباری کا آغاز کیا جس میں اب تک ایک ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اتحادی فوج کی بمباری سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر یمنی شہری ہیں۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔