مصر میں 3 صحافیوں کو سزائے موت سنادی گئی

08 مئ 2016

ای میل

قائر: مصر کی ایک عدالت نے قومی سلامتی سے متعلق ریاست کی خفیہ دستاویزات کو قطر انٹیلی جنس کو فراہم کرنے کے الزام میں 3 صحافیوں کو پھانسی کی سزا سنادی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ قطر کے تحت چلنے والے نشریاتی ادارے الجزیرہ کیلئے مصر میں کام کرنے والے اردنی صحافی الا عمر صبلان اور ابراہیم محمد حیلال اور اخوان مسلمین کے تحت چلنے والے خبر رساں ادارے راسد کی رپورٹر عاصمہ الخطیب کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

تاہم وہ مذکورہ سزا کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ صحافیوں کی سزائے موت پر حتمی فیصلہ 18 جون کو سنایا جائے گا، جس کے بعد مذکورہ فیصلے پر مفتی اعظم کی حتمی رائے کیلئے اسے مذہبی حکام کو بھجوادیا جائے گا۔

صحافیوں کو سزائے موت سنانے والے جج محمد شرین فاہمے نے سابق صدر محمد مرسی اور متعدد دیگر کے خلاف بھی اس مقدمے میں فیصلہ مذکورہ تاریخ تک ملتوی کردیا۔

مذکورہ عدالت میں پروسیکیوٹر نے اس بات پر زور دیا کہ محمد مرسی اور ان کے ساتھیوں نے ریاست کی انتہائی اہم دستاویزات قطر کی انٹیلی جنس کو فراہم کی تھی جس میں مصری فوج کے ہتھیاروں کی درست جگہ کے حوالے سے معلومات موجود تھی۔

ادھر وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ مذکورہ دستاویزات محمد مرسی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے باعث صدارتی محل سے حفاظت کی غرض سے منتقل کی گئی تھیں اور ان کی منتقلی خود صدر کی ذمہ داری نہیں تھی جبکہ مقدمے میں پیش کیے جانے والی دستاویزات میں جاسوسی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

یاد رہے کہ محمد مرسی کو دیگر 3 مقدمات میں سزائے سنائی جاچکی ہیں، جس میں 2011 میں جیل توڑنے اور حماس کے لیے جاسوسی کا الزام شامل ہے۔

خیال رہے کہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو 2013 میں مصری فوج کی جانب سے زبردستی معزول کرتے ہوئے اخوان المسلمین کے ہزاروں رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جس کے بعد مصری فوج کے خلاف اخوان المسلمین کے ہزاروں کارکنوں نے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا تاہم فوج نے ان کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا آزادانہ استعمال کیا تھا اور ہزاروں مصری شہریوں کو قتل جبکہ اسی تعداد میں مزید صری شہریوں کو گرفتار کرکے قید کردیا تھا۔

ان قید کیے جانے والے ہزاروں اخوان المسلمین کے کارکنوں اور مصری شہریوں کے خلاف ملک سے غداری اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ محمد مرسی نے 2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے خلاف ایک زبردست عوامی تحریک کے بعد ملک میں ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت سے حکومت بنائی تھی۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔