پاناما لیکس پر اپوزیشن کے وزیراعظم سے 7 سوال

ای میل

اسلام آباد: پاناما لیکس کے معاملے پر اپوزیشن، حکومت کو کسی قسم کی رعایت دینے پر تیار نظر نہیں آتی اور اب اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف کے لیے ایک سوالنامہ بھی تیار کرلیا ہے۔

اپوزیشن چاہتی ہے کہ وزیراعظم ان سوالات کے جوابات آئندہ جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران دیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر اعتزاز احسن کی سربراہی میں ہوا، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، جماعت اسلامی کے اراکین بھی شریک ہوئے۔

مزید پڑھیں:شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف

سوالنامے میں شامل نکات درج ذیل ہیں۔

پہلا سوال— لندن کے پارک لین اور مے فئیر میں فلیٹس کب خریدے گئے؟ ان فلیٹس میں وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کے کتنے شیئرز ہیں، اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا اور کتنا انکم ٹیکس ادا کیا گیا؟

اپوزیشن کے سوالنامے کا عکس—ڈان نیوز
اپوزیشن کے سوالنامے کا عکس—ڈان نیوز

دوسرا سوال — کیا وزیراعظم وضاحت کریں گے کہ لندن میں فلیٹس کی ملکیت سے متعلق ان متضاد بیانات میں کون سا درست ہے؟

  • 10 اپریل 2000 کو برطانوی اخبار گارجین میں شائع ہونے والی خبر میں بیگم کلثوم نواز نے دعویٰ کیا کہ فلیٹس ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے خریدے گئے۔

  • 19 اکتوبر 1998 کو دی انڈیپنڈنٹ لندن میں رپورٹ شائع ہوئی جس میں زور دیا گیا کہ وزیراعظم کا خاندان نیلسن انٹرپرائزز اور نیسکول لمیٹڈ کے ذریعے ان فلیٹس کا مالک ہے۔

اپوزیشن کے سوالنامے کا عکس—ڈان نیوز
اپوزیشن کے سوالنامے کا عکس—ڈان نیوز

  • وزیراعظم، وزیرداخلہ چوہدری نثار کی 8 اگست 2012 کی پریس کانفرنس میں فلیٹس سے متعلق بیان کا جواب دیں۔

  • وزیراعظم 1999 میں برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے پروگرام 'ہارڈ ٹالک' میں حسن نواز کے بیانات اور 2016 میں ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام 'کل تک' میں حسین نواز کے بیانات کا جواب دیں۔

تیسرا سوال—وزیراعظم اس بات کا جواب دیں کہ کیا ان فلیٹس کی خریداری کے لیے 7 ملین پاؤنڈز کی رقم سوئٹرزلینڈ کے ایک بینک سے ادا کی گئی؟

اپوزیشن کے سوالنامے کا عکس—ڈان نیوز
اپوزیشن کے سوالنامے کا عکس—ڈان نیوز

چوتھا سوال— وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کی ملکیت آف شور کمپنیوں کی تفصیلات، مالیت اور سرمایہ کاری کی تفصیلات بتائی جائیں، آف شور کمپنیوں کے لیے پیسے کہاں سے آئے اور آف شور کمپنیوں کے لیے پیسے کس طرح بیرون ملک بھیجے گئے؟

یہ بھی پڑھیں:الزام ثابت ہوا تو گھر چلاجاؤں گا: نوازشریف

پانچواں سوال— وزیراعظم 1985 سے 2016 کے درمیان غیرملکی جائیدادوں کی خرید وفروخت کی تفصیلات فراہم کریں اور بتائیں کہ اس عرصے میں کتنا انکم ٹیکس دیا گیا؟

چھٹا سوال —کیا یہ درست ہے کہ وزیراعظم کے بچے پاکستان میں موجود انڈسٹریل یونٹس کے شیئرز کے مالک ہیں، جن میں اتفاق شوگر ملز اور چوہدری شوگر ملز بھی شامل ہیں؟

ساتواں سوال —1985 سے ہر سال وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلخانہ نے کتنا انکم ٹیکس ادا کیا؟

یہ بھی پڑھیں:آف شور اثاثے: شریف خاندان کو نوٹس جاری

واضح رہے کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کی آف شور کمپنیز کے انکشاف کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا، تاہم گذشتہ ہفتے اپوزیشن جماعتیں پاناما پیپرز لیکس میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کی غرض سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پر متفق ہوئیں۔

اپوزیشن جماعتیں 3 رکنی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل چاہتی ہیں، جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کریں۔

یہ بھی پڑھیں:پاناما لیکس تحقیقات: 'اپوزیشن کے ٹی او آرز مسترد'

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ کمیشن پہلے وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کے خلاف 3 ماہ کے اندر تحقیقات کرے۔

جس کے بعد پاناما لیکس میں شامل دیگر پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کا اغاز کیا جائے، جس میں ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں