• KHI: Asr 5:11pm Maghrib 7:15pm
  • LHR: Asr 4:53pm Maghrib 7:00pm
  • ISB: Asr 5:02pm Maghrib 7:10pm
  • KHI: Asr 5:11pm Maghrib 7:15pm
  • LHR: Asr 4:53pm Maghrib 7:00pm
  • ISB: Asr 5:02pm Maghrib 7:10pm

وزیر اعظم کے بغیر پاناما لیکس کی تحقیقات لاحاصل

شائع June 8, 2016

اسلام آباد : حکومت اور اپوزیشن پاناما لیکس کمیشن کی تحقیقات کے حوالے سے ٹرم آف ریفرنس ( ٹی او آرز) کے کچھ پوائنٹس پر متفق ہوگئی ہے تاہم اپوزیشن وزیراعظم کے اہلخانہ سے احتسابی عمل کا آغاز کرنے کے مطالبے پر ڈٹی ہوئی ہے۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے اجلاس میں حکومتی وزراء اور اپوزیشن کے اراکین نے شرکت کی۔

پارلیمانی کمیٹی کا آئندہ اجلاس جمعے کو ہوگا تاکہ حکومت اور اپوزیشن تحقیقات کے حوالے سے متفقہ فیصلہ کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاناما لیکس: ٹی او آرز کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی 9 جماعتوں کا بلاک اب بھی وزیر اعظم سے احتساب کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

اپوزیشن کا خیال ہے کہ پامانا لیکس کی تحقیقات کا مقصد اس وقت تک لاحاصل ہوگا جب تک سب سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز نہ کیا جائے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپوزیشن صرف ایک شخص کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنا چاہتی ہے لیکن اس طرح کسی کو بھی ملک غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وزیر ریلوے سعد رفیق حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کے ٹی او آرز مقرر کرنے کی کمیٹی کے 12 میں شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دھرنے کی دھمکی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اپوزیشن سڑکوں پر آنے کی تیاری کررہی ہے اور ہم بھی ان کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہم ان کو وزیر اعظم نواز شریف کا نام خراب کرنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی اپوزیشن احتساب کی آڑ میں سیاست دانوں کو نشانہ بناتی رہی لیکن اب ہم تاریخ دہرانے نہیں دیں گے، ’ وزیراعظم کئی بار بتا چکے ہیں کہ ان کے بچے تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور یہ بات حزب اختلاف کے لیے اہم ہونا چاہیے۔‘

مزید پڑھیں: پاناما لیکس تحقیقات: 'اپوزیشن کے ٹی او آرز مسترد'

ڈان کو کمیٹی کے ایک اور رکن نے بتایا کہ اپوزیشن نے ٹی اور آرز پر نظرثانی کی، حزب اختلاف حکومت کے قرضوں کی معافی، منی لانڈرنگ کی کڑی نگرانی کی قانون سازی کے مطالبات ماننے کے لیے تیار ہے۔

اسی طرح کمیٹی کے ایک اور رکن نے کہا کہ اپوزیشن کو تحقیقات کے دائرے کار کو بڑھانے کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں لیکن اپوزیشن وزیراعظم کے دوبچوں (جو آف شور کمپنیز کے مالک ہیں )کے خلاف تحقیقات کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔

کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے، ہم نے ان کو اپنے ٹی او آرز بناکر دے دیئے ہیں، یہ ان پر محنصر ہے کہ وہ ٹی او آرز کو قبول یا مسترد کردیں۔

یہ خبر 8 جون 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

کارٹون

کارٹون : 27 مئی 2024
کارٹون : 26 مئی 2024