عہد ساز شخصیات کی 'خاکوں' میں قید سوانح

اپ ڈیٹ 14 جون 2016

ای میل

دونوں کتابوں میں مشترکہ پہلو اس کا موضوع ہے، یعنی اس میں برصغیر کی اہم ادبی شخصیات کے بارے میں خاکے ہیں
دونوں کتابوں میں مشترکہ پہلو اس کا موضوع ہے، یعنی اس میں برصغیر کی اہم ادبی شخصیات کے بارے میں خاکے ہیں

سوانحی حوالے سے ’’خاکہ‘‘ بھی ایک اہم صنف ہے جس کے ذریعے قلم کار کسی شخصیت کی ظاہری وضع قطع سے لے کر اس کی ذہنی بالیدگی تک ہر پہلو کو بیان کرتا ہے۔ اب خاکہ نگار اپنے فن میں جتنا ماہر ہوگا اس تحریر کے دلچسپ ہونے کے امکانات اتنے ہی بڑھ جائیں گے۔ ایک اچھے خاکہ نگار کے لیے ضرور ی ہوتا ہے کہ وہ صرف کسی شخصیت کا جائزہ لینے میں ہی تاک نہ ہو بلکہ اس شخصیت کی باریکیوں کو بھی بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس کی زندگی اور ذات کے پوشیدہ پہلوؤں کو پیش کرنے پر بھی قادر ہو تب ہی ایک اچھا خاکہ قلم بند ہوسکتا ہے۔

زیر نظر دونوں کتابوں کا تعلق خاکہ نگاری کے فن سے ہے۔ ایک کتاب پاکستان سے شایع ہوئی جبکہ دوسری کتاب کی اشاعت کا اہتمام ہندوستان سے ہوا۔ دونوں کتابوں میں مشترکہ پہلو اس کا موضوع ہے، یعنی اس میں برصغیر کی اہم ادبی شخصیات کے بارے میں خاکے ہیں جن کو پڑھ کر ہم ان شخصیات کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔


کتاب کانام: چراغ روشن ہیں (عصمت چغتائی کے لکھے ہوئے شاہ کار خاکے)


عقیل عباس جعفری (تیاری و تلاش) اور مصنفہ عصمت چغتائی
عقیل عباس جعفری (تیاری و تلاش) اور مصنفہ عصمت چغتائی

اردو ادب میں عصمت چغتائی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی افسانہ نویسی کے سب قائل ہیں اور رسیا بھی، ان کی خاکہ نگاری کی صنف میں مہارت کا اندازہ تو اہل ادب کو تھا مگر اس کتاب میں ان کے تمام خاکے یکجا ہوکر قارئین کے سامنے آئے تو اس سے یہ اندازہ ہوا کہ عصمت چغتائی نے خاکہ نگاری کی صنف میں بھی انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔

اس کتاب کی تیاری و تلاش کے مشکل کام کو عقیل عباس جعفری ہی کرسکتے ہیں جو تحقیق کے شناور ہیں اور بہت اچھے شاعر بھی، لیکن انہوں نے کمال مہارت سے نہ صرف ان خاکوں کو ڈھونڈ کر کتابی شکل دی بلکہ اس میں خاکوں کی حُسن ترتیب نے قارئین کے لیے مزید سہولت پیدا کردی۔

اس کتاب میں 12 خاکے وہ ہیں جنہیں عصمت چغتائی نے مختلف ادبی شخصیات پر لکھا، ان میں عظیم بیگ چغتائی، سعادت حسن منٹو، سید سجاد ظہیر، پطرس بخاری، میرا جی، کرشن چندر، اسرارالحق مجاز، جاں نثاراختر، خواجہ احمد عباس، مہندر ناتھ اور ثریا شامل ہیں۔ خاکہ نما افسانوں کے عنوان سے مرتب کردہ باب میں مینا کماری، دلیپ کمار، بادشاہی خانم، تمیزالدین، ٹیکو، محبوب اور گم نام شامل ہیں۔


- کتاب: چراغ روشن ہیں (عصمت چغتائی کے لکھے ہوئے شاہ کار خاکے)

- تلاش و تدوین: عقیل عباس جعفری

- مصنفہ: عصمت چغتائی

- صفحات: 336

- ناشر: اٹلانٹس پبلی کیشنز، کراچی

- قیمت: 590 روپے

ذاتی خاکوں میں تین تحریریں، ایک مضمون قرۃ العین حیدر کے حوالے سے، ایک خط جوش ملیح آبادی کے نام اور ایک تحریری مکالمے کے عنوان سے مرتب باب میں دو تحریریں شامل اشاعت ہیں، آخری تحریر کوحرف آخر کا نام دیا گیا ہے۔ تحریروں کے ساتھ حاشیے میں وضاحتی اشاریے بھی کتاب کا مزاج سمجھنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس کتاب میں مدون نے خاکوں کے علاوہ عصمت چغتائی کی دیگر بکھری ہوئی تحریریں یکجا کر کے گویا قارئین کو عصمت چغتائی کے قلم سے نکلی تحریروں کے مختلف ذائقے فراہم کرنے کی سعی کی ہے۔ عصمت چغتائی کے یہ خاکے ان کی ادبی زندگی، نشیب وفراز دیگر شخصیات سے مراسم اور ان کے فلمی دنیا کے تعلق کو آشکار کرتے ہیں۔ اہل ادب کے علاوہ عام قارئین کی دلچسپی کے لیے بھی اس کتاب میں بہت کچھ ہے۔

پاکستان میں نہ جانے کیوں تحقیقی نوعیت کی کتابوں کو بہت ابتری کے ساتھ چھاپا جاتا ہے، شاید ناشرین کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ایسی کتاب کا معیار اگر بہتر کر دیا اور قیمت زیادہ رکھ دی تو یہ کتاب فروخت نہیں ہوگی۔ اس کتاب کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے، کم قیمت رکھنے کے چکر میں اس کی پرنٹنگ اور کاغذ کے معیار کاخیال بالکل نہیں رکھا گیا مگر موضوع کے لیے اس کتاب کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔


کتاب کانام: پُرسہ (ہندوستان کے شعرا و ادبا اور صحافیوں کا تذکرہ اور دیگر مضامین)


ندیم صدیقی - مصنف
ندیم صدیقی - مصنف

یہ کتاب ہندوستان سے تعلق رکھنے والی مختلف ادبی وصحافتی شخصیات کے متعلق ہے مگر یہ صرف شخصیات ہی نہیں بلکہ اردو ادب و صحافت کے روشن ماضی کی وہ تابندہ علامتیں بھی ہیں جن کے بارے میں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کیا صورتیں خاک میں پنہاں ہوگئیں۔ اس کتاب کے مصنف ندیم صدیقی ہیں جو پیشے کے لحاظ سے صحافی اور روح کے مزاج سے تخلیق کار ہیں۔

ان کے ہاں احساسات لفظوں میں ڈھل کر کبھی کالم کی شکل اختیار کرتے ہیں، کبھی تذکروں کا وسیلہ، تو کبھی مضامینِ دل کا نصاب ہوتے ہیں تو کبھی عہدِ حاضر کے حالات کا زندگی نامہ۔ ان کے انہی احساسات کی قلمی شکل کانام ’’پُرسہ‘‘ ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کے مرحوم شعرا، ادیبوں اور صحافیوں کے بارے میں اپنے مشاہدے، تجزیے اور تجربے کو قلم بند کیا ہے۔

اس کتاب کی ایک اضافی خوبی یہ ہے کہ اس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات کا تذکرہ بھی ملے گا، جیسے کہ پاکستان کے معروف ترقی پسند شاعر اور بے باک صحافی خالد علیگ، اردوبرقی تحریر ’’نوری نستعلیق‘‘ کے موجد احمد مرزا جمیل، معروف شاعر جون ایلیا اور دیگر متعدد شخصیات کا تذکرہ بھی اس کتاب کے بیانیے میں گھلا ہوا ہے۔


- کتاب: پُرسہ (ہندوستان کے شعرا و ادبا اورصحافیوں کا تذکرہ اور دیگر مضامین)

- مصنف: ندیم صدیقی

- صفحات: 423

- ناشر: اپلائڈ بکس، نیودہلی، ہندوستان

- قیمت: 400 (ہندوستانی روپے)

ہندوستان سے تعلق رکھنے والی جن شخصیات کو انہوں نے قلم بند کیا ہے ان میں فنا نظامی، انجم فوقی بدایونی، آوارہ سلطان پوری، ڈاکٹر ظ انصاری، اثر فیض آبادی، نوا لکھنوی، خالد علیگ، کوثر جائسی، خان ارمان، سردار جوہر، قیصرالجعفری، نورجہاں ثروت، سعید طارق، مقبول فدا حسین، شفیق عباس، واجدہ تبسم، عاصی جونپوری، مرزا عزیز جاوید، نشتر ترکی، نعمان امام، سید مبارک علی نسیم، خواجہ احمد عباس شامل ہیں۔ جبکہ ان کے علاوہ سفرنامہ راجستھان ، ممبئی کے چند شعرا، ممبئی کے اردو اخبارات، دیگر چند تحریروں کے علاوہ ممبئی سے شایع ہونے والے اخبار’’روزنامہ اردو ٹائمز‘‘ میں ان کے لکھے ہوئے کالموں کا انتخاب بھی کتاب کاحصہ ہے۔ یہ کالم ہندوستان کی معاشرتی ،ادبی ،سیاسی اور تہذیبی زندگی کے عکاس ہیں۔

اس کتاب کو جس دردمندی اور خلوص سے ندیم صدیقی نے لکھا ہے، اگر اس طرح کوئی اپنی تہذیبی تاریخ کو محفوظ کرنے لگے تو کبھی کوئی عہد اور شخص فراموش نہ ہوسکے گا۔

اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر پاکستان کے ناشرین کو مشورہ ہے کہ ان میں سے کوئی اس کتاب کو پاکستان میں بھی ضرور چھاپے کیونکہ یہ صرف ہندوستان کے معاشرے کی تہذیب اور ادب کو بیان نہیں کر رہی بلکہ پاکستان جن سماجی، ادبی اور تہذیبی مسائل سے دوچار ہے، یہ کتاب ان حالات کی پرچھائی بھی ہے۔