ترکی اور اسرائیل سفارتی تعلقات کی بحالی پر متفق

27 جون 2016

ای میل

انقرہ: اسرائیل نے 2010 میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے فلوٹیلا میں سب سے آگے چلنے والے ترک بحری جہاز 'ماوی مارمارا' پر حملے پر معافی مانگنے اور زر تلافی ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اس حوالے سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے، اسرائیل ترکی کو 2 کروڑ ڈالر زر تلافی ادا کرے گا۔

دونوں ممالک اپنے سفیر بھی تعینات کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں جس کے بعد تقریباً 6 برس بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر بحال ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے، ترک صدر

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے انقرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک سفیروں کا تبادلہ بھی کریں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ کے محصور شہریوں کے لیے امداد لے جانے والے ترک بحری جہازوں کے قافلے پر حملہ کردیا تھا جس میں 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دونوں ممالک کئی ماہ سے معاہدے کے لیے کسی تیسرے ملک میں مذاکرات کررہے تھے۔

مزید پڑھیں:’ترکی کو اسرائیل کی ضرورت‘

بن علی یلدرم نے کہا کہ معاہدے کے بعد ترکی حماس کے زیر کنٹرول علاقوں میں غزہ کے شہریوں تک زیادہ موثر طریقے سے امداد پہنچا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد 10 ہزار ٹن امدادی سامان سے لدا ہمارا پہلا بحری جہاز جمعہ کو اسرئیل کے اشدود بندرگاہ کے لیے روانہ ہوگا۔

اس معاہدے پر منگل کو دونوں ممالک کی جانب سے دستخط کردیے جائیں گے جس کے بعد اس کی توثیق کا عمل شروع ہوجائے گا۔

ترک وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ترکی اسرائیل کے لیے اپنا سفیر چند ہفتوں میں مقرر کردے گا، جب ان سے پوچھا گیا کہ معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ترکی حماس کو اسرائیل پر حملے سے روکنے کی کوشش کرے گا تو انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی کا معاہدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والا معاہدہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کیا گیا ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔