ترکی اور اسرائیل کے تعلقات بحال، پارلیمنٹ نے منظوری دے دی

21 اگست 2016

ای میل

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے تعلقات مکمل طور پر بحال ہوگئے جو گزشتہ 6 برس سے کشیدگی کا شکار تھے اور ترک پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں ہونے والے معاہدے کی بھی توثیق کردی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ترک ارکان پارلیمنٹ نے اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات کی بہتری کیلئے جون میں ہونے والے معاہدے کی منظوری دے دی۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی کی فضا اب مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی اور اسرائیل سفارتی تعلقات کی بحالی پر متفق

واضح رہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق اسرائیل نے 2010 میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے فلوٹیلا میں سب سے آگے چلنے والے ترک بحری جہاز 'ماوی مارمارا' پر حملے پر معافی مانگنے اور زر تلافی ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

اسرائیل نے آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ مذکورہ واقعے پر ترکی کو 2 کروڑ ڈالر زر تلافی ادا کرے گا اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اپنے سفیر بھی تعینات کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

معاہدے کے نفاذ کے 25 یوم کے اندر اسرائیل زر تلافی ادا کرنے کا پابند ہے اور یہ رقم واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ تک پہنچادی جائے گی۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولو کے مطابق دنوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ اسرائیلی شہریوں یا اسرائیلی حکومت کی تفویض کردہ ذمہ داریاں ادا کرنے والے افراد فوجداری اور مالیاتی طور پر جوابدہ نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ناکام بغاوت: ترکی کا اسرائیل سے اظہار تشکر

اسرائیلی کابینہ نے ترکی کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کی جون میں ہی توثیق کردی تھی تاہم ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے اس کی منظوری میں تاخیر ہوئی۔

معاہدے کی منظوری کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے اب سفیروں کی تعیناتی بھی جلد متوقع ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ کے محصور شہریوں کے لیے امداد لے جانے والے ترک بحری جہازوں کے قافلے پر حملہ کردیا تھا جس میں 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

معاہدہ طے پانے کے بعد ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا تھا کہ اب ترکی حماس کے زیر اثر علاقوں میں غزہ کے شہریوں تک زیادہ موثر طریقے سے امداد پہنچا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ترکی بغاوت: ملوث جنرل اسرائیل میں فوجی اتاشی تھے

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے معاشی فوائد بھی حاصل ہوں گے اور اسرائیل سے گیس ترکی بھی پہنچائی جاسکتی ہے۔

ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ترکی اسرائیل کے لیے اپنا سفیر چند ہفتوں میں مقرر کردے گا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ترکی حماس کو اسرائیل پر حملے سے روکنے کی کوشش کرے گا تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ معاہدے کے تحت غزہ کا محاصرہ برقرار رہے گا حالانکہ ترکی نے محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم غزہ کیلئے انسانی بنیادوں پر امداد اسرائیلی بندرگاہ سے ہوتی ہوئی پہنچ سکے گی۔

یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے 15 جولائی کو بغاوت کی ہونے والی ناکام کوشش کے بعد بھی اسرائیل کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔