الطاف حسین کے خلاف آرٹیکل 6، 17 کے تحت کارروائی کی سفارش

اپ ڈیٹ 30 اگست 2016

ای میل

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے پاکستان مخالف تقریر پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 اور 17 کے تحت کارروائی کی سفارش کردی۔

چوہدری محمود بشیر ورک کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے قائد کی پاکستان مخالف تقریر کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن عارف علوی کی پیش کردہ قرار داد مذمت متفقہ طور پرمنظور کی گئی۔

قرار داد میں حکومت سے متحدہ کے قائد کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 اور 17 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد کا ہندوستان اور اسرائیل سے مدد طلب کرنا شرمناک فعل ہے۔

قائمہ کمیٹی کے ارکان نے قرار دیا کہ الطاف حسین کی تقریر اور پاکستان مخالف نعرے بازی غداری کے زمرے میں آتے ہیں، جس پر حکومت کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی کرنی چاہیے۔

کمیٹی اجلاس میں تمام حاضر اراکین نے قرار داد کی حمایت کی۔

قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں متحدہ کے واحد رکن ایس اقبال قادری اجلاس میں حاضر نہیں تھے۔

مزید پڑھیں: میڈیا پر حملے میں ایم کیو ایم کے عسکریت پسند ملوث: ڈی جی رینجرز

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف کارروائی کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں قرار داد جمع کرادی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 20 کروڑ بہادر اور محب وطن پاکستانیوں کا گھر ہے، ملک کے خلاف باتیں اور نعرے بازی کسی صورت قابل برداشت نہیں، میڈیا کی آزادی دبانے والوں کو سخت سزا دی جائے۔

پی پی پی کا کہنا تھا کہ قائد متحدہ اور ان کے ساتھ پاکستان مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے، جس ملک نے شناخت دی اس کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

دوسری جانب نیشنل کونسل آف ہیومن رائٹس کے صدر طارق اسد نے سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم پر پابندی عائد کرنے کیلئے درخواست دائر کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: الطاف حسین نے کیا کہا. . .

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت حیدر آباد میں متحدہ کے بانی سے منسوب یونیورسٹی کا نام تبدیل کرے۔

درخواست میں سیکریٹری داخلہ، سیکرٹری خارجہ، ایم کیو ایم، پیمرا، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور حکومت سندھ کو فریق بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 22 اگست کو کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کیمپ میں بیٹھے ایم کیو ایم کے کارکنوں سے خطاب کے دوران پارٹی کے قائد الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرے لگوائے تھے اور اپنے خطاب میں پاکستان کو پوری دنیا کیلئے ناسور قرار دیا تھا۔

ایم کیو ایم کے قائد نے اسی تقریر کے آخر میں کارکنوں کو ٹی وی چینلز پر حملوں کی ہدایت کی جس پر کارکن مشتعل ہوگئے اور انھوں نے ریڈ زون کے قریب ہنگامہ آرائی کی، اس دوران کچھ کارکن نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے دفتر میں گھس گئے اور وہاں نعرے بازی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی جب کہ اس ہنگامہ آرائی کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک بھی ہوا جبکہ کئی زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ کراچی میں خطاب کے بعد الطاف حسین نے 22 اگست کو ہی امریکا میں مقیم اپنے کارکنوں سے خطاب میں بھی پاکستان مخالف تقریر کی تھی۔

ان تقاریر کے بعد الطاف حسین نے معافی بھی مانگی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے اس لیے ایسی باتیں کیں جب کہ اس کے بعد ایم کیو ایم کے قائد نے پارٹی کے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کر دیئے.

ان تقاریر کے بعد ایم کیو ایم کو ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب کہ پولیس اور رینجرز نے سندھ خصوصاً کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی شروع کرتے ہوئے متحدہ کے مرکز نائن زیرو سمیت سندھ بھر میں دفاتر کو سیل کر دیا۔ گزشتہ کچھ روز کے دوران غیر قانونی طور پر سرکاری زمین پر بنے ہوئے ایم کیو ایم دفاتر کو بھی بڑی تعداد کو مسمار بھی کیا جا چکا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے الطاف حسین کی تقریر کے اگلے روز یعنی 23 اگست کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم قائد کے بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں ہی رجسٹرڈ ہے اس لیے بہتر ہے کہ اب اسے آپریٹ بھی پاکستان سے ہی کیا جائے۔

23 اگست کے اعلان لاتعلق کے بعد گزشتہ ہفتے یعنی 27 اگست کو فاروق ستار نے ایک اور پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے الطاف حسین سے قطع تعلق کر دیا۔

خیال رہے کہ الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر کے بعد اب تک ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی آصف حسنین، رکن سندھ اسمبلی ارم عظیم فاروقی اور ٹی وی میزبان عامر لیاقت حسین نے متحدہ چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔