میٹر گیج ریلوے سسٹم: تاریخ، اہمیت، اور تباہی

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2016

ای میل

میٹر گیج ٹرین جمڑاؤ جنکشن پر آ رہی ہے۔ 30 نومبر 2004۔ فوٹو Neil Edwards.
میٹر گیج ٹرین جمڑاؤ جنکشن پر آ رہی ہے۔ 30 نومبر 2004۔ فوٹو Neil Edwards.

"ماسٹر صاحب ریل گاڑی کب آئے گی؟"

"ابھی فون کیا ہے، گاڑی جیمس آباد سے چل پڑی ہے۔"

ابو کے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے سے نکل کر یہ نوید سنانے سے قبل ہی ہم کھڑکی سے براہ راست یہ مختصر گفتگو سن چکے ہوتے تھے۔

ریلوے اسٹیشن پر ہمارا پسندیدہ مشغلہ کھڑکی سے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں نصب دو پَروں والے پنکھے اورکالے بھدے ٹیلی فون سیٹ کو دیکھنا ہوتا۔ یہ انگریز دور کی اشیاء ہمارے لیے کسی عجائب گھر کے نوادرات سے کم نہ تھیں۔

گاڑی آنے سے پہلے نگاہیں اسی جانب مرکوز رہتیں جس سمت سے ریل گاڑی نے آنا ہوتا۔ ٹرین کے پلیٹ فارم پر پہنچنے سے پہلے کالا سیاہ دھواں کالے بادلوں کی مانند اٹھتا ہوا دکھائی دیتا۔ ہمیشہ یہ خواہش ہوتی کہ آج بھی اتفاق سے الٹا انجن ہی لگا ہو۔ (بعض دفعہ گاڑی کے ساتھ الٹا انجن لگا ہوتا تھا، اُس اسٹیم انجن کی خاصیت یہ تھی کہ یہ الٹا سیدھا دونوں جانب یکساں رفتار سے چل سکتا تھا۔)

اسٹیشن سے آدھا کلومیٹر کے فاصلے سے انجن کی بھاپ والی سیٹی کی مخصوص کوک کے ساتھ ہی اسٹیشن پر ایک ہل چل پیدا ہو جاتی۔ سواریاں سامان سنبھالتیں، مائیں بچوں کو پکڑتیں، کانٹا بدلنے والا لیور ایسے سنبھالتا جیسے توپ سے فائر کرنے لگا ہو اور گارڈ ہاتھ میں ہری اور سرخ جھنڈیاں لیے سرپٹ سگنل کی جانب دوڑتا۔

خصوصی فیچر: 25 سال سے ٹرین کا منتظر سکرنڈ ریلوے اسٹیشن

بچپن میں سوچا کرتے تھے کہ یہ بندہ کس قدر طاقتور ہے جس کے ہاتھ کے ایک اشارے سے اتنی بڑی ریل گاڑی رک جاتی ہے۔ اسٹیشن پر ہماری سب سے ناپسندیدہ شخصیت یہی گارڈ ہوتا جو گاڑی کو ہم تک پہنچنے سے پہلے روک لیتا۔

سگنل ملتے ہی انجن حرکت میں آتا، دھوئیں کے بادل انجن سے نکل کر ایک بار پھر آسمان کو سیاہ کرتے اور انجن گھن گرج کے ساتھ بوگیوں کو کھینچتا ہوا دندناتا ہوا اسٹیشن میں داخل ہو جاتا۔

یہ ریل گاڑی میٹر گیج ریلوے لائن پر دوڑنے والی انگریز دور کی باقیات میں سے تھی جو ہمارے علاقے ضلع میرپورخاص میں قیامِ پاکستان سے پہلے 1937-1936 میں قائم کی گئی تھی۔

اس ریلوے لائن کے قیام کے پیچھے ایک بڑا مقصد کراچی بندرگاہ سے سامان بمبئی (موجودہ ممبئی) تک پہنچانا تھا کیوں کہ اس سے پہلے کراچی بندرگاہ پر اترنے والا سامان بمبئی پہنچانے کا کوئی سیدھا روٹ میسر نہ تھا۔ کراچی بندرگاہ سے سامان 1200 کلومیڑ دور لاہور لے جایا جاتا اور پھر وہاں سے واپس متحدہ ہندوستان کے جنوبی علاقوں تک واپس لایا جاتا۔

چناچہ 1890 سے 1940 تک حیدرآباد سے کھوکھرا پار اور موجودہ ہندوستان کے علاقے موناباؤ تک براستہ میرپور خاص 500 کلومیڑ سے طویل یہ میٹر گیج اور براڈ گیج ریلوے لائن بچھائی گئی (ریلوے کی اصطلاح میں گیج سے مراد دونوں پٹریوں کا درمیانی فاصلہ ہے۔ ایک میٹر فاصلے والی ریلوے لائن کو میٹر گیج جبکہ پانچ فٹ چھے انچ کے درمیانی فاصلے والی ریلوے لائن کو براڈ گیج ریلوے لائن کہا جاتا ہے)۔

اس ریلوے لائن سے جہاں ایک طرف کراچی پورٹ سے ہندوستان کے طول و عرض تک عالمی تجارتی سامان پہنچانا ممکن ہوا، وہاں دور دراز دیہی علاقوں سے زرعی اجناس کی شہروں اور بڑی منڈیوں تک رسائی بھی آسان، کم وقت اور کم قیمت میں ہونے لگی۔

پڑھیے: ایک اداس ریلوے اسٹیشن کی کہانی

میرپورخاص سے نکلنے والی میٹر گیج ریلو ے لائن جمڑاؤ، جلہوری، کوٹ غلام محمد، کاچھیلو، ڈگری، ٹنڈو جان محمد، جھڈو، نو کوٹ، نفیس نگر، نبی سر، کنری، سامارو، پتھورو اور شادی پلی کے چھوٹے بڑے اسٹیشنوں سے ہوتی ہوئی ایک دائرے کی صورت میں تقریباً 200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے واپس میرپور خاص پہنچتی۔

نقشے میں آپ میٹر گیج ریلوے لائن کا ٹریک دیکھ سکتے ہیں جو کہ ایک دائرے میں ہے. — بشکریہ اویس مغل۔
نقشے میں آپ میٹر گیج ریلوے لائن کا ٹریک دیکھ سکتے ہیں جو کہ ایک دائرے میں ہے. — بشکریہ اویس مغل۔

میرپورخاص کا یہ علاقہ کپاس اور سرخ مرچ کی پیداوار کے لحاظ سے قابل ذکر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں کنری جیسے پسماندہ و دور افتادہ گمنام شہر کو ایشیا کی سب سے بڑی سرخ مرچ منڈی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ کنری کو عالمی شہرت ملنے میں اس میٹر گیج ریلوے لائن کا بڑا کردار تھا اور اس سارے منصوبے کے پیچھے انگریزوں کی فراست کار فرما تھی۔

اس وقت تین اپ اور تین ڈاؤن (علاوہ مال گاڑی کے) گاڑیاں چلا کرتی تھیں۔ یہ میرے بچپن کی یادداشتیں ہیں، مگر اس دور میں ریل گاڑیاں وقت کی پابندی تھیں اور کرپشن سے پاک بہترین فعال نظام جاری تھا جو انگریزوں کے جانے کے بعد ایک عرصے تک اپنے قیام کے مقصد کو باحسن پورا کرتا رہا۔

لیکن یہ ادارہ بھی حادثاتِ زمانہ کا شکار ہوگیا۔ روزانہ چلنے والی چھے گاڑیاں چار میں، چار دو میں اور دو ایک میں تقسیم در تقسیم ہوئیں۔ پھر سات دن بعد ایک گاڑی آتی۔

اور جب پندرہ دن بعد آنے والی ایک گاڑی بھی ریلوے کی جیب پر بوجھ بنی تو مہینے میں ایک گاڑی چلا کرتی تاکہ اس تاریخی ورثے کی حُرمت قائم رہے اور ریلو ے اسٹیشن کا سامان اور لوہے کی پٹڑیاں نشئی اکھاڑ کر نہ لے جائیں۔

لیکن خسارے کا یہ سودا آخر کب تک چلتا؟ اس ایک گاڑی کو بھی بند کر دیا گیا۔ آج بھی وہ چمکتی پٹڑیاں کہیں کہیں بچھی ہوئی ہیں مگر ان پر زنگ کی تہہ جم چکی ہے یا مٹی میں دفن ہو چکی ہیں۔

بارونق اسٹیشن نشئی افراد، آوارہ کتوں اور گدھوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ ناکارہ اسٹیم انجن رنگ و روغن کر کے بڑے ریلوے اسٹیشنز کے باہر ریلوے کے کلاسک دور کی نشانی بنا کر کھڑے کر دیے گئے۔

مزید پڑھیے: ریلوے زوال کے بعد عروج کی جانب؟

اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں موجود قائدِ اعظم کی پھٹی پرانی تصویر ہم سے نوحہ کناں ہے کہ چاہیے تو یہ تھا کہ تم اس نظام میں جدت لاتے، کاشتکار کی محنت کا ثمر کم قیمت ٹرانسپورٹ کے ذریعے شہروں شہروں ہوتا ہوا عالمی منڈی تک رسائی حاصل کرتا، کسان خوشحال ہوتا اور ملک زر مبادلہ کماتا، تم اسے بھی ہڑپ کر گئے؟

اگر اس تاریخی ورثے کو متروک کرنا ناگزیر تھا تو کم از کم اپنی آنے والی نسلوں کو شاندار ماضی کی جھلک دکھانے کے لیے قومی ورثہ قرار دے کر محفوظ ہی کرلیتے، لیکن یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے کھنڈر بنتا رہا۔ سن 2000 تک یہ میٹر گیج ریلوے سسٹم ہماری عدم دلچسپی کی بدولت اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر چکا تھا۔

منجملہ دیگر بری عادات کے انگریز کو یہ بھی ایک بری عادت تھی کہ ہر سرکاری ملکیت پر تاریخ کُھدوا دیتا تھا۔ اسٹیشن کی عمارتیں، پانی کی سبیلیں، پل اور دیگر تعمیرات جن پر 1936 کی تواریخ کنندہ ہیں، بغیر دیکھ بھال اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی آج بھی قائم و دائم ہیں اور اپنی مضبوطی کی کہانی اپنی زبانی سنا رہی ہیں۔

وہ پل بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں جن کے سینے پر سے ٹنوں وزنی دیو ہیکل ریل گاڑیاں دن میں کئی بار دندناتی گزرا کرتیں۔ انگریز اپنی باقیات تو چھوڑ کر چلے گئے لیکن وہ فراست اپنے ساتھ لے گئے جن سے وہ نچلی سطح تک ترقیاتی فلاحی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا کرتا تھا۔

میرپور خاص خالصتاً ایک زرعی علاقہ ہے لیکن انگریز حکومت کے جانے کے بعد سے آج تک ارباب اختیار نے ایسے کسی منصوبے کو پروان نہ چڑھایا جو اس علاقے میں نچلی سطح سے لے کر اوپر تک ہر طبقے کو میٹر گیج ریلوے جیسے کسی منصوبہ کی بدولت اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں معاون ہوتا۔

اگر جاپان میں ایک طالبہ کے لیے ایک پوری ریل گاڑی چلائی جا سکتی ہے تو لاکھوں لوگوں کے روزگار، تعلیم، ذریعہ آمد و رفت سے وابسطہ اس نظام کو کیوں نہیں چلایا جا سکا؟

جانیے: صرف ایک مسافر کیلئے ریل سروس؟

منتخب نمائندے جمہور کی فلاح کو یکسر نظر انداز کر کے محض اپنے ووٹ بینک کے لیے ایسے منصوبوں پر ملکی بجٹ کا بڑا حصہ جھونک رہے ہیں جو بڑے بڑے شہروں اور چند لاکھ لوگوں تک ہی محدود ہیں۔

ماس ٹرانزٹ بھی وقت کی ضرورت ہے؛ اس کی اہمیت سے قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن معاشی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ ماس ٹرانزٹ کی سہولیات ذیلی زرعی طبقے تک بھی منتقل ہوں۔

قیام پاکستان کے بعد سے ایک طویل عرصے تک پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 53 فیصد تھا جو میٹر گیج ریلوے جیسے منصوبوں کے خاک میں ملنے کے ساتھ ساتھ بتدریج کم ہو کر اب صرف 19.8 فیصد رہ گیا ہے، جو اس ملک کے لیے انتہائی کم ہے جس کی بنیادی صنعت زراعت ہے۔

ضرورت ہے کہ مخلص ہو کر ایسے وسیع منصوبوں کو عملی جامے پہنائے جائیں جو کسی مخصوص طبقے تک محدود نہ ہوں بلکہ اوپر سے لے کر نیچے تک ہر طبقے کو بہم فائدہ پہنچائیں۔

میٹر گیج ریلوے نظام اس کی ایک بہترین مثال تھا۔