’2018 سے قبل فاٹا کا خیبر پختونخوا سے انضمام‘

18 ستمبر 2016

پشاور: خیبر پختونخوا (کے پی کے) کی حکومت نے تجویز دی ہے کہ وفاقی منتظم شدہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو 2018 سے قبل صوبے میں ضم کردیا جائے جبکہ وہاں کے پی لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بلدیاتی انتخابات بھی کرائے جائیں۔

کے پی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس میں تاخیر کی گئی تو فاٹا میں اصلاحات اور انضمام کا سارا عمل پٹڑی سے اتر جائے گا اور ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

اس معاملے سے واقف حکومتی عہدے داروں نے بتایا کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے رواں ماہ کے آغاز میں پشاور میں فاٹا اصلاحات کمیٹی کے ارکان سے باضابطہ ملاقات کی تھی اور انہوں نے فاٹا کے حوالے سے پانچ سالہ منصوبے سے عدم اتفاق کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:فاٹا کے خیبرپختونخوا میں شمولیت کیلئے 5 سال درکار

کے پی کے کا موقف ہے کہ فاٹا کا انضمام جلد از جلد ہوسکتا ہے اور وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا اصلاحات کمیٹی نے جو پانچ سالہ منصوبہ بنایا ہے اس سے سارا معاملہ غیر یقینی کا شکار ہوجائے گا۔

سرتاج عزیز 7 ستمبر کو پشاور میں اپنی ٹیم کے ساتھ پشاور گورنر ہاؤس پہنچے تھے جس میں قومی سلامتی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ اور سیکریٹری اسٹیٹ اینڈ فرنٹیئر ریجنز شہزاد ارباب بھی شامل تھے۔

انہوں نے کے پی کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا ، وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، سینیئر وزیر سکندر شیر پاؤ اور عنایت اللہ کو فاٹا کے حوالے سے مجوزہ اصلاحات کی تفصیلات فراہم کی تھیں۔

80 صفحات پر مشتمل دستاویز میں فاٹا اصلاحات کمیٹی نے فاٹا میں متوازی اور موافق سیاسی، انتظامی، عدالتی اور سیکیورٹی اصلاحات کی تجویز پیش کی جبکہ فاٹا کو خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے لیے تیار کرنے کے حوالے سے پانچ سالہ تعمیر نو اور بحالی نو کا منصوبہ بھی پیش کیا‘۔

مزید پڑھیں:فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کیلئے سفارشات

تاہم صوبائی حکومت کا خیال ہے کہ یہ انضمام 2018 سے قبل ہوسکتا ہے اور ہوجانا چاہیے تاکہ فاٹا کے عوام کو انتخابات میں حصہ لے کر اپنے نمائندگان کو اسمبلیوں تک پہنچانے کا موقع مل سکے۔

ہموار اور یکساں تبدیلی

صوبائی حکومت نے یہ بھی تجویز دی کہ کسی اور نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کے بجائے کمیٹی کو کے پی کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت فاٹا میں انتخابات کرانے پر غور کرنا چاہیے تاکہ صوبے کے ساتھ انضمام ہموار اور یکساں طریقے سے ممکن ہوسکے۔

ایک سینیئر حکومتی عہدے دار نے بتایا کہ ’صوبے کی جانب سے دی جانے والی دونون تجاویز جائز لگتی ہیں اور ان میں وزن بھی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ان تجاویز کو اب دستاویز میں شامل کیا جائے گا اور سفارشات پر پارلیمنٹ کی نظر ثانی کے بعد اسے وزیر اعظم کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ ہم اکتوبر کے آخر تک مشاوت مکمل کرکے سمری وزیر اعظم کے سامنے پیش کردیں گے‘۔

وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے اپنی تجاویز کمیٹی تک پہنچادی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر فاٹا نے 2018 کے انتخابات میں اپنے منتخب نمائندوں کو کے پی اسمبلی میں بھیجنے کا موقع گنوادیا تو اگلا موقع 2023 میں آئے گا اور کسی کو کیا پتہ کہ اس وقت تک کیا ہوجائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم جو کہہ رہے ہیں وہ قابل عمل ہے اور مجھے اس میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا‘۔

یہ بھی پڑھیں:' فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانا چاہیے'

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ’ہم سات قبائلی ایجنسیوں کو سات یا آٹھ اضلاع میں تقسیم کرسکتے ہیں، ہمارے افسران پہلے ہی وہاں فرائض انجام دے رہے ہیں اور انتظامی انضمام میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا‘۔

پرویز خٹک نے فاٹا کے لیے ہائبرڈ کورٹس کی تجویز پر خدشات کا اظہار کیا اور بتایا کہ انہوں نے کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ فاٹا کو مکمل طور پر قومی دھارے میں لانے کی کوشش کریں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ’رواج ایکٹ کیا ہے؟ جب آپ فاٹا کو کے پی کے سے جوڑنے کی بات کررہے ہیں تو نیا قانونی نظام کیوں متعارف کرارہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کیوں آپ ایک اور پاٹا (صوبائی منتظم شدہ قبائی علاقے) قائم کررہے ہیں، کیوں ایک اور مالاکنڈ بنارہے ہیں، ایک صوبہ ایک حکومت اور ایک نظام رہنے دیں‘۔

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ ’میں نے کمیٹی کے سامنے اپنی تجاویز رکھنے سے قبل خیبر پختونخوا میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی تھی‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، سب فاٹا کا انضمام چاہتے ہیں اور جلد از جلد چاہتے ہیں، یہ تاریخی موقع ہے اور وزیر اعظم نواز شریف کو اس سے فائدہ اٹھاکر تاریخ رقم کرنی چاہیے‘۔

یہ خبر 18 ستمبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی


ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

KHAN Sep 18, 2016 06:34pm
السلام علیکم: نہ تو فاٹا اصلاحات کمیٹی میں قبائلی علاقوں سے کوئی شامل تھا اور نہ ہی [سرتاج عزیز][ قومی سلامتی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ][ سیکریٹری اسٹیٹ اینڈ فرنٹیئر ریجنز شہزاد ارباب][ کے پی کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا][وزیر اعلیٰ پرویز خٹک] سینیئر وزیر سکندر شیر پاؤ] ’[عمران خان] [نواز شریف]یا[ عنایت اللہ] میں سے کون قبائل سے تعلق رکھتا ہے ، اگر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، سب فاٹا کا انضمام بھی چاہتے ہیں اور جلد از جلد بھی چاہتے ہیں، یہ ایک تاریخی موقع بھی ہے اور وزیر اعظم نواز شریف کو اس سے فائدہ اٹھاکر تاریخ بھی رقم کرنی چاہیے مگر ہم قبائلیوں سے کون پوچھے گا۔ اسٹبلیشمنٹ ہمیں ہمیشہ کی طرح غلام رکھنا چاہتی ہے۔ اگر سب پختون ایک ہے تو بھی ساتھ ساتھ رہنا فرض نہیں۔ حل صرف ایک ہے قبائلی علاقوں میں ریفرنڈم۔ جو فیصلہ آیا قبول ہے۔ خیرخواہ