بحالی فلم انڈسٹری کی یا سنیما گھروں کی؟

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2016

Email


اب عوام کے لیے صرف وہی سنیما گھر باقی بچے ہیں جو مہنگے ترین شاپنگ سینٹروں کے اندر قائم ہیں، اور جن کا ایک ٹکٹ کئی سو روپے کا ہوتا ہے۔ — فوٹو فہد نوید۔
اب عوام کے لیے صرف وہی سنیما گھر باقی بچے ہیں جو مہنگے ترین شاپنگ سینٹروں کے اندر قائم ہیں، اور جن کا ایک ٹکٹ کئی سو روپے کا ہوتا ہے۔ — فوٹو فہد نوید۔

اس بڑی عید پر تین پاکستانی اور دو ہندوستانی فلمیں ریلیز ہوئیں جنہیں دیکھنے کے لیے سنیما گھروں میں لوگوں کا کھڑکی توڑ رش رہا۔ میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق عید پر لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے تینوں پاکستانی فلموں کو خوب سراہا۔

2007 سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ایک بار پھر سے بحال ہو رہی ہے اور اس کی وجہ سنیما ہالز میں عیدین کے علاوہ نمائش کے لیے پیش کی جانے والی پاکستانی فلمیں ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد سنیما گھروں کا رُخ کرتی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی فلموں کی سنیما گھروں میں نمائش سے پاکستانی فلم انڈسٹری بحال ہو رہی ہے یا سنیما انڈسٹری؟ کیوں کہ اگر فلم انڈسٹری بحال ہو رہی ہو تو پھر فلم اسٹوڈیوز کی رونقیں بھی واپس آنی چاہیئں، فلم انڈسٹری سے ماضی میں جڑے محنت کشوں کو بھی کام ملنا چاہیئے، مگر ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔

اس کے علاوہ جن پاکستانی فلموں کی ریکارڈ توڑ پذیرائی کے بارے میں چیخ چیخ کر دعوی کیے جاتے ہیں، وہ فلمیں چند ہفتوں بعد ہی کسی نہ کسی انگلش یا ہندی فلم کے آنے پر غائب ہوجاتی ہیں، یا انہیں دیکھنے والوں کی تعداد بہت ہی کم رہ جاتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جن چینلز نے یہ فلمیں اسپانسر کی ہوتی ہیں، وہ فلم ریلیز ہونے سے پہلے ہی فلم کی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے فلم بین سنیما گھر جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، مگر فلم دیکھنے کے بعد انہیں چینلز کے ہاتھوں بیوقوف بننے کا احساس ہوتا ہے۔ دوسری جانب ٹی وی چینلز ہر گھنٹے کے خبرنامے میں فلم کی تعریف میں اتنے قصیدے پڑھ رہے ہوتے ہیں، جس سے یہ لگتا ہے کہ بس فلم نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

درحقیقت ریلیز ہونے والی یہ پاکستانی فلمیں سنیما گھروں میں لگتی تو ہیں، مگر ایک سے دو ہفتے میں بزنس نا ہونے کی وجہ سے اتار دی جاتی ہیں، جبکہ ہندوستانی یا انگلش فلموں کی نمائش بسا اوقات کئی کئی ہفتوں تک جاری رہتی ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب سنیما مالکان نے سنیما گھروں کو شادی ہالز میں بدلنا روک دیا ہے اور ہندوستانی اور انگلش فلموں کی نمائش کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے جس کا کوئی فائدہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو نہیں۔

اگر فلم کامیاب ہو تو فلم ساز اور سنیما گھر کو فائدہ، اگر ناکام ہو، تو بھی سنیما گھر کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا۔ مگر اس سب سے پاکستانی فلم انڈسٹری کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے؟ گزشتہ چند سالوں میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلموں کے باوجود کیا وجہ ہے کہ لاہور کے دہائیوں پرانے فلمز اسٹوڈیوز میں رونقیں بحال نہیں ہو رہیں؟

آج بھی یہ اسٹوڈیوز قائم تو ہیں، مگر ان کی خستہ دیواریں اور اجڑے باغات ماضی کے اچھے دنوں کو داستان سناتے ہیں۔ فلم اسٹوڈیوز کے ان ہالوں میں جہاں بڑی بڑی حویلیوں اور محلوں کے سیٹ لگتے تھے، وہاں اب کسی کسی ہال میں چینلز کے سیٹ لگتے ہیں۔

فلم اسٹوڈیوز کے ویران ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آج کل جو بھی فلمیں بن رہی ہیں، وہ اصلی لوکیشنز پر شوٹ ہوتی ہیں کیوں کہ فلم پروڈیوسرز کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی بھی اسٹوڈیو میں کوئی سیٹ لگائیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بنائی جانے والے فلموں میں وہ ایکشن ہوتا ہی نہیں جس میں توڑ پھوڑ ہو۔

آجکل جتنی فلمیں بھی آ رہی ہیں، وہ ان ڈائریکٹرز کی ہیں جو فلم اسٹڈیز باہر سے پڑھ کر آتے ہیں اور چوں کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں اتنا خلا ہے کہ وہ جیسی بھی فلم بناتے ہیں، پاکستانی فلموں کے شوقین لوگ دیکھنے چلے جاتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ باہر سے فلم میکنگ پڑھ کر آنے والے ڈائریکٹرز اچھا کام کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان ڈائریکٹرز میں سے شاید ہی کسی نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے اچھے دنوں میں ریلیز ہونے والی فلمیں دیکھی ہوں۔ وہ فلم بنانے کی تکنیکیں تو باہر سے پڑھ آئے، مگر وہ اب تک پاکستانی کلچر، ماحول اور حالات کو فلموں میں پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

وہی روایتی پریم کہانیوں والا مصالحہ استعمال کرنا اب اس لیے کارگر نہیں ہے کیوں کہ ہندوستانی کمرشل سنیما نے ایسی لاتعداد فلمیں بنا کر ویسے ہی عوام کو بور کر دیا ہے۔ لوگوں کی توجہ مختلف تھیم کی فلموں کی طرف زیادہ ہوتی ہے، جیسا کہ ہم نے ماہِ میر کے معاملے میں دیکھا، جو کہ ایک آرٹ فلم ہونے کے باوجود اچھا خاصا بزنس کرنے میں کامیاب رہی۔

سالوں تک فلم انڈسٹری زبوں حالی کا شکار رہنے کی وجہ سے ملک کے پرانے سنیما گھروں میں سے زیادہ تر مسمار کر دیے گئے تھے، جن کی جگہوں پر دیگر تعمیرات کر دی گئیں۔ اب جب کہ دوبارہ کچھ فلمیں بننی شروع ہوئی ہیں، تو عوام کے لیے صرف وہی سنیما گھر باقی بچے ہیں جو مہنگے ترین شاپنگ سینٹروں کے اندر قائم ہیں، اور جن کا ایک ٹکٹ کئی سو روپے کا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سنیما گھروں میں ملنے والے پاپ کارن، ناچوز اور ڈرنکس بھی قدرے مہنگی ہوتی ہیں جنہیں خریدنا ایک دکان والے یا چھابڑی لگانے والے کے بس میں نہیں۔

ان تمام حالات کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں بننے والی فلمیں عموماً صرف ایک خاص طبقے کے لیے ہی ہیں جو کہ سنیما میں فلم دیکھنے کو ایک فیشن سمجھتا ہے۔ پہلے گلیوں میں چورن چھولے اور لکشمی چوک میں کٹاکٹ بیچنے والا بھی فلم دیکھ سکتا تھا، مگر اب نا تو یہ لوگ فلم دیکھ سکتے ہیں اور نا ہی سنیما گھروں کے باہر چورن چھولے اور کٹاکٹ بیچ سکتے ہیں کیوں کہ بڑے لوگوں کی گاڑیوں کے لیے جگہ بنانے کے لیے انہیں دھکے مار کر ہٹا دیا جاتا ہے۔

آج بھی لاہور کے ایبٹ روڈ پر متعدد سینما موجود ہیں اور کبھی ایک وقت تھا جب ان سنیما گھروں کا شو ٹوٹتا تھا تو لکشمی چوک سے لے کر شملہ پہاڑی تک ٹریفک بلاک ہوجاتی تھی۔ آج بھی ایبٹ روڈ پر ٹریفک بلاک ہوتی ہے مگر سنیما گھروں کے شوز ٹوٹنے پر نہیں بلکہ اورنج لائن ٹرین کی وجہ سے کھودی گئی سڑکوں کی وجہ سے۔

چنانچہ اسے مجموعی طور پر فلم انڈسٹری کی بحالی کہنے کے بجائے بڑے ملٹی پلیکس سنیما گھروں کے کاروبار میں تیزی کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا۔