کراچی کے مشرق میں 400 کلو میٹر دور صحرائے تھر میں تھریو ہالیپوٹو نامی گاؤں ہے، جہاں آپ موروں کی آوازیں اور چارہ چَرنے والی بکریوں اور گائیوں کی گردنوں میں بندھی گھنٹیوں کی آوازیں سن سکتے ہیں۔

رنگ برنگے ملبوسات میں خواتین ریت کے ٹیلوں کے درمیان اپنے سروں پر پانی کے گھڑے اٹھائے گزرتی ہیں، گاؤں میں ہزار کے قریب خاندان بستے ہیں، جن میں سے اکثریت ہالیپوٹو قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔

مگر پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی یہاں زندگی تبدیل ہونے والی ہے جس کے تحت پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ریت کے نیچے موجود کوئلے کے ذخائر کی مدد سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعمیر کی جائے گی۔

محمود ہالیپوٹو کا خاندان صدیوں سے اس گاؤں میں آباد ہے، دیگر رہائشیوں کی طرح ہالیپوٹو بھی مویشی چراتے ہیں جبکہ بارشیں برسنے پر کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ 1990 میں سرکاری حکام یہاں کوئلے کی تلاش میں آئے اور گاؤں میں انہوں نے بھاری ذخائر دریافت کیے۔

مزید پڑھیں: کوئلے کا لولی پاپ

صوبہ سندھ کے صحرائے تھر میں بھورے کوئلے کے 175 ارب ٹن کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا کے چند بڑے غیر استعمال شدہ ذخائر میں سے ایک ہیں، تھر دنیا کے گنجان آباد صحراؤں میں سے ایک ہے اور یہ عالمی ثقافتی ورثوں کا گھر اور بقاء کے خطرے سے دوچار جانوروں کا مسکن بھی ہے۔

صحرائے تھر میں رہنے والے 16 لاکھ میں سے بیشتر افراد غربت کا شکار ہیں جو شدید موسمی آفات کی زد میں بھی رہتے ہیں۔

25 فیصد افراد ایسے علاقوں میں مقیم ہیں جو کوئلے کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہیں، ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس سے انہیں فائدہ ہوگا مگر اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔

محمود نے تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو بتایا ’ہم خوش تھے کیوں کہ لوگوں نے ہمیں بتایا تھا کہ ہم امیر ہو جائیں گے لیکن اب یہ ایک بھیانک خواب میں تبدیل ہوگیا ہے اور کالا سونا، کالے ناگ میں بدل گیا ہے، کیونکہ ہمیں ہماری آبائی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے‘۔

2015 میں فیلڈ میں کام اس وقت شروع کیا گیا جب تھر میں کوئلے کے منصوبے کو 46 ارب ڈالرز مالیت کے پاک۔چین اقتصادی راہداری کے معاہدوں میں توانائی کے حصول کے لیے شامل کیا گیا تھا۔

ان معاہدوں میں 8 کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس، چینی صوبے سنکیانگ کے شمال مغرب میں بحیرہ عرب کی گوادر پورٹ سے تیل اور گیس کی کاشغر تک منتقلی کی لیے سڑکوں، ریلوے اور پائپ لائنوں کا 3 ہزار کلو میٹر کا نیٹ ورک شامل تھا۔

دسمبر 2015 میں چین نے کوئلے کی کان کنی اور 660 میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کے قیام کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دی۔

کوئلے کے ان ذخائر کو 12 بلاکوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر بلاک میں کوئلے کی 2 ارب ٹن مقدار موجود ہے۔

پہلے مرحلے میں سندھ کی صوبائی حکومت نے 1.57 ارب ٹن کوئلہ نکالنے اور 660 میگاواٹ بجلی گھر تعمیر کے لیے بلاک ٹو سندھ اینگروکول مائننگ کمپنی (SECMC) کے لیے مختص کیا۔

توقع ہے کہ یہ پلانٹ جون 2019 تک پاکستان کے نیشنل گرڈ میں بجلی شامل کرنے لگے گا جس کو بعدازاں 1320 میگاواٹ بجلی پیداوار تک توسیع دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: شدید خشک سالی کے بعد تھر میں قحط سی صورتحال

چین کی ایک سرکاری کمپنی کمپنی چائنا مشینری اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن (CMEC) کوئلے کو نکالنے، پاور پلانٹ کو لگانے اور چلانے کے لیے مشینری اور تکنیکی مدد فراہم کررہی ہے، مقامی کمپنی ملازمین کی فراہمی، انتظامی امور اور بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار ہوگی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ منصوبے میں 200 ماہرین اور 1600 نچلی سطح کی اسامیوں کی گنجائش ہے، مگر مقامی افراد اس بات پر احتجاج کررہے ہیں کہ کمپنی انہیں کسی قسم کی نوکریاں نہیں دے رہی جبکہ انجینئرز، کان کنوں اور ماہرین پر مشتمل تقریباً 300 چینی شہری یہاں کام کر رہے ہیں۔

مقامی افراد کے خدشات

چینی ٹیم نے پہلے گڑھے کی کھدائی شروع کردی ہے۔ پہلے مرحلے میں SECMC بلاک ٹو میں واقع تھریو ہالیپوٹو گاؤں سمیت پانچ گاؤں کے باسیوں کو یہاں سے منتقل کرے گی۔

SECMC نے گاؤں والوں کو ان کے گھروں اور زرعی زمین کے لیے ادائیگیاں بھی شروع کی ہیں، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شمس الدین احمد شیخ کا دعویٰ ہے کہ ان کی کمپنی گاؤں والوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

انہوں نے تھرڈ پول کو بتایا ’ہم اسکولوں، صحت کی سہولیات، پینے کے پانی اورفلٹر پلانٹ سمیت تمام بنیادی سہولیات پر مشتمل ماڈل قصبےئ تعمیر کریں گے اور مویشیوں کی چراگاہوں کے لیے بھی زمین مختص کریں گے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ہم گاؤں والوں کو ان کی زمینوں کی مارکیٹ سے زائد قیمتوں میں ادائیگی کررہے ہیں جو کہ 185,000 روپے (1,900$) فی ایکڑ ہے۔

تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی معیار کے مقابلے میں یہ کوئی قیمت نہیں اور وہ نئےعلاقوں میں منتقل ہونا نہیں چاہتے جس کے درست مقام کا ابھی تک تعین بھی نہیں کیا گیا۔

تھریو ہالیپوٹو کے ایک اور رہائشی محمد حسن نے بتایا 'ہم (ہمارے خاندان) صدیوں سے اس گاؤں میں مقیم ہیں۔ ہمارا بچپن یہاں گزارا اور ہمارے باپ دادا یہاں دفن ہیں، یہ سب کچھ چھوڑنا بہت مشکل ہے'۔

گاؤں کے ایک اور شخص کے بقول ’ہر ایکڑ پر ہمارے درجنوں درخت لگے ہوئے ہیں۔ خشک سالی کے دوران ہم اپنے مویشیوں کو ان پر پالتے ہیں اورجب بھی بارش ہوتی ہے تو ہم اپنی زمینوں پر ہل چلاتے ہیں اور فصلوں سے آمدنی حاصل کرتے ہیں، یہ زمینیں ہمارا مستقل ذریعہ معاش ہیں‘۔

کوئلے کے منصوبے کے باعث گاؤں والے چراگاہوں سے محروم ہوجائیں گے۔ صحرائے تھر 70 لاکھ گائیوں، بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کا گھر ہے اور سندھ کی دودھ، گوشت اور چمڑا کی ضروریات کا 60 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے۔

گاؤں والوں کو خدشہ ہے کہ یہ منصوبہ ریگستان کے لیے ماحولیاتی آفت ثابت ہوگا۔ کمپنی کان کنی اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے ہزاروں ی درخت کاٹ دے گی جس سے ماحولیاتی توازن بگڑ جائے گا۔

SECMC کے ایک عہدیدار نے کہا کہ کمپنی ایک درخت کاٹنے پر 10 نئے درخت لگائے گی۔ اب تک کمپنی نے 18 ایکڑ کے علاقے میں 12 ہزار درخت لگائے ہیں جسے گرین پارک کا نام دیا گیا اور اگلے دو سالوں میں اور بھی درخت لگائے جائیں گے۔ لیکن گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ درختوں کے پتوں کا استعمال جانوروں کے چارے کے طور پر کرتے تھے اور پارک کے درختوں تک ان کی رسائی نہیں ہوگی۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ دیسی درخت لگانے کے بجائے کمپنی مقامی ماحول کے لیے اجنبی پودے جیسے نو کارپس لگا رہی ہے جو تیزی سے اگنے والا ساحلی پودا ہے جو افزائش کے دوران بے تحاشہ زمینی پانی چوستا ہے اور یہ صحرا کے ماحول کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

مقامی لوگوں کو اس بات کا بھی خوف ہے کہ کمپنی کوئلے کی کھدائی کے لیے بڑی مقدار میں زیر زمین پانی نکالے گی جبکہ اس علاقے کے کچھ حصوں میں زیر زمین پانی کی مقدار سالانہ 2 میٹر نیچے گر رہی ہے اور کچھ حصوں میں طویل خشک سالی کی وجہ سے 100 میٹرتک نیچے پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک منصوبہ، حکومت اورملٹری قیادت میں کشیدگی کا باعث؟

صحرا ئے تھر میں خشک سالی کی وجہ سے گزشتہ تین سالوں میں تین ہزار سے زائد بچوں کی اموات واقع ہو چکی ہے۔ اگرچہ سرکاری حکام صرف 828 اموات کا اعتراف کرتے ہیں۔

ایک اور قریبی گاؤں گورانو کے رہائشیوں نے عدالت میں کان کن کمپنی کے خلاف آئینی درخواست جمع کرائی ہے۔ درخوست گزاروں میں سے ایک لیلا رام نے کہا کہ کان کن کمپنی 2700 ایکڑ قابل کاشت زمین اور جنگلات میں گندا پانی بہائے گی جس سے 15 بڑے دیہات کے 15000 باسی براہ راست متاثر ہوں گے، دو لاکھ درخت ختم ہو جا ئیں گے اور ان تمام لوگوں کو اپنے آبائی گاؤں سے ہجرت کرنی پڑے گی۔

تاہم SECMC کے شمس الدین شیخ نے یہ کہہ کر ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ کھدائی کے دوران نکالے جانے والے پانی کو دو تالابوں میں ذخیرہ کیا جائے گا جس کے لیے ان کی کمپنی صرف 1400 ایکڑ زمین استعمال کرے گی۔

انہوں نےدعویٰ کیا 'وہ زیرزمین قدرتی نمکین پانی ہوگا جو کسی بھی طرح آمیزش والا یا زہریلا نہیں ہوگا اور یہ کسی بھی گاؤں کو متاثر نہیں کرے گا'۔

پاکستان کی کوئلے سے کمانے کے عالمی رجحان کی پیروی

تھر کے ذخائر بھورے کوئلے پر مشتمل ہیں۔ یہ کم توانائی والے کوئلے کی ایک ناقص قسم ہے جس کا مطلب ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کی بڑی مقدار جلانی ہوگی جس کے نتیجے میں کاربن کا اخراج بھی زیادہ ہوگا۔

دنیا کے متعدد ممالک میں اس طرح کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار کو کم کیا جارہا ہے۔ چین نےخود بھی اپنے ملک میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو بند کیا ہے۔ لیکن دوسری طرف چین اس طرح کے کوئلے کی کان کنی اورنئے بجلی گھروں کی تعمیرمیں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی مدد کررہا ہے۔

پیرس میں ہونے والے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سربراہ اجلاس میں پاکستان نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو پانچ فی صد کم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن دوسری جانب وہ اپنی کوئلے کی نوخیز صنعت کو ترقی دینے کے لیے 2018 تک بجلی کی پیداوار شروع کرنے کے لیے پانچ نئے پاور پلانٹس لگانے اور پائپ لائن جیسے منصوبے بنا رہا ہے۔

A seven year old girl recently filed a case in Pakistan’s Supreme Court, with the support of her environmental lawyer father, claiming government plans in the Thar desert will exacerbate climate change and deprive future generations of the right to healthy life. In her case she points to the needs to invest in renewables to overcome the power shortage, rather than dirty coal, since the country is endowed with plenty of sun and wind.

ایک سات سالہ لڑکی نے حال ہی میں اپنے ماحولیاتی مسائل کے سرگرم وکیل باپ کی مدد سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صحرائے تھر میں حکومت کے منصوبوں کے باعث موسمیاتی تبدیلی کی رفتار میں اضافہ کرے گا جبکہ مستقبل کی نسلیں صحت مند زندگی کے حق سے محروم رہیں گی۔

کیس میں اس لڑکی نے اشارہ کیا کہ بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے گندے کوئلے کی بجائے حکومت کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا ملک سورج کی روشنی اور ہوا جیسی نعمتوں کا مالک ہے۔

SECMC کے شیخ نے اعتراف کیا ہے کہ لگنائٹ کوئلے کی بدترین شکل ہے لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کمپنی کوئلے کی چمنیوں سےاڑتی ہوئی راکھ جمع کرنے کے لیے اسٹیٹ آف آرٹ ٹیکنالوجی کااستعمال کرے گی اور اسے ایک ایسی الگ جگہ پر دفن کرے گی جسے کمپنی مستقبل میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس طرح اڑنے والی راکھ سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے گا۔

ان کی باتوں سے صحرائے تھر کے لوگوں اور آج کے پاکستان میں پروان چڑھتی اگلی نسل کو تھوڑا سکون حاصل ہوسکتا ہے۔

ترجمہ: شبینہ فراز

یہ مضمون ابتدائی طور پر دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ پر شائع ہوا اور اجازت کے بعد یہاں شائع کیا گیا ہے